ترقیاتی حکمت عملی کے نفاذ اور سکیموں پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں کی جا ئیگی : پرویز خٹک

ترقیاتی حکمت عملی کے نفاذ اور سکیموں پر عملدرآمد میں کوئی رکاوٹ برداشت نہیں ...

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے لوکل گورننس سسٹم کے تحت اہداف کا حصول یقینی بنانے کیلئے حقیقی اختیارات ، ذمہ داریوں اور مستقبل کے لائحہ عمل پر مشتمل جامع ڈیزائن وضع کرنے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ اُن کی حکومت لوکل گورنمنٹ کا دیگر اداروں اور محکموں پر انحصار کم سے کم کرکے اسے مکمل طور پر فعال دیکھنا چاہتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے متعارف کر دہ ویژن کی حقیقی روح کے مطابق اس سسٹم کو ایک ماڈل گورننس سسٹم ہونا چاہیئے وہ وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ پشاور میں لوکل گورنمنٹ سیکٹر کے پانچویں سٹاک ٹیک اجلاس کی صدارت کررہے تھے ۔اجلاس میں لوکل گورنمنٹ سسٹم کی مضبوطی اور آزاد ی کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات ، مختلف قوانین ، لوکل گورنمنٹ سسٹم کی ضروریات ، لوکل گورنمنٹ سسٹم کی آزادی پر اثر انداز ہونے والے غیر ضروری ریگولیٹری فریم ورک ، انٹر گورنمنٹ کوآرڈنیشن سپورٹ ، جاری شدہ فنڈز اوراخراجات کی شرح اور مختلف سکیموں پر عمل درآمد کی اصلی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا ۔محکمہ لوکل گورنمنٹ اور دیگر متعلقہ محکموں کے انتظامی سیکرٹریوں ، سٹرٹیجک سپورٹ یونٹ کے سربراہ صاحبزاد سعید، ایڈیشنل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ ، ڈائریکٹر جنرل لوکل گورنمنٹ، سیکرٹری لوکل کونسل بورڈ اور دیگر اعلیٰ حکام نے اجلاس میں شرکت کی ۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کابینہ کمیٹی کی سطح پر حکومت کی تعریف کیلئے ترمیم تجویز کرنے کی ہدایت کی تاکہ ترقیاتی حکمت عملی اور ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کو آسان بنانے، ترقیاتی اور غیر ترقیاتی اخراجات سمیت کنٹریکٹرز کو ادائیگی اور انتظامی اختیارات کیلئے مربوط فیصلہ سازی ممکن ہو سکے ۔تجویز منظوری کیلئے صوبائی کابینہ میں پیش کی جائے گی ۔وزیراعلیٰ نے کہاکہ یہ سرکاری وسائل کے خرچ کرنے کا معاملہ ہے اور حکومت ان وسائل کے شفاف استعمال کی ذمہ دار ہے تاکہ ترقیاتی عمل کا فائدہ ہر شخص کو پہنچ سکے۔وزیراعلیٰ نے مزید ہدایت کی کہ جاری شدہ وسائل کا عوامی توقعات اور ضروریات کے مطابق استعمال یقینی بنایا جائے اور عندیہ دیا کہ اس سلسلے میں مطلوبہ معیار پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہو گا۔ پرویز خٹک نے مختلف ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کی پیش رفت کو مانیٹرکرنے کیلئے موثر فیلڈ وزٹ کی ہدایت کی ۔ڈسٹرکٹ فنانس اینڈ پلاننگ یونٹ کو مضبوط کرنے کے حوالے سے وزیراعلیٰ نے مانیٹرنگ ، عمل درآمد ، انتظامی معاملات اور آڈٹ کے اُمور پر مشتمل جامع سٹرکچر تیار کرنے کی ہدایت کی ۔انہوں نے ہدایت کی کہ اٹھارویں ترمیم کے تناظر میں انتظامی کنٹرول اور دیگر کراس فنکشنز کے لئے تجویز پیش کی جائے جو تمام قانونی پہلوؤں کا احاطہ کئے ہوتاکہ حقیقت پسندانہ فیصلہ کیا جا سکے۔ضلعی سطح پر کردار اور ذمہ داریوں کا قانونی تعین ہونا چاہیئے تاکہ حکومت اس سلسلے میں قانونی فیصلہ دے سکے ۔وزیراعلیٰ نے ان ٹرن گورنمنٹ ڈیوولوشن سپورٹ کمیٹی کیلئے تجویز سے اتفاق کیا ۔انہوں نے کہاکہ متعلقہ ضلع میں نئی ترقیاتی سکیموں کیلئے مزید فنڈز کا اجراء اور شیڈول اخراجات کرنے والے ادارے کی استعداد کو دیکھتے ہوئے صورتحال سے ہم آہنگ ہونا چاہیئے ۔انہوں نے صوبہ بھر کے اضلاع میں جاری سکیموں اور وسائل کے استعمال کی اصلی صورتحال پیش کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ رپورٹ اندازوں پر مشتمل نہیں بلکہ مصدقہ ہونی چاہیئے انہوں نے نئی سکیموں کیلئے اسسٹنٹ ڈائریکٹرلوکل گورنمنٹ کے کردار کی ریشنلاائزیشن کے لئے تجویز سے بھی اتفاق کیا تاہم اسسٹنٹ ڈائریکٹر لوکل گورنمنٹ جاری سکیموں پر عمل درآمد جاری رکھے گا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ ترقیاتی حکمت عملی کے نفاذ اور ترقیاتی سکیموں پر عمل درآمد کی راہ میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں ہونی چاہیئے ۔پرویز خٹک نے حکمرانی کی نچلی سطح پر انٹرنل آڈٹ کا طریق کار متعارف کرانے کیلئے سمری طلب کی اور ہدایت کی کہ سمری تمام قانونی تقاضوں پر مشتمل ہونی چاہیئے ۔ ریونیو جنریشن میں بہترین کارکردگیکا مظاہرہ کرنے پر تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن کیلئے مراعات اور انعام سے بھی اتفاق کیا۔ وزیراعلیٰ کو بتایا گیا کہ ریونیو اتھارٹی اس طرح کا کیس پہلے سے بھیج چکی ہے ۔وزیراعلیٰ نے دونوں کیسز پر مشتمل مشترکہ سمری بھیجنے کی ہدایت کی تاکہ دونوں اداروں کو یکساں مراعاتی پیکج دیا جاسکے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ تحصیل میونسپل ایڈمنسٹریشن آکشن کا عمل آن لائن کررہی ہے ۔آکشن کا اشتہار اخبار میں دیا جائے گاجبکہ بڈنگ آن لائن ہو گی ۔آن لائن طریقہ کار کے تحت پہلا آکشن اکتوبر سے کر رہے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے ڈسٹرکٹ پبلک سیفٹی کمیشن کے نفاذ اور ڈویژنز کی سطح پر ریجنل کمپلینٹ اتھارٹیز اور صوبائی کمپلینٹ اتھارٹی کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ۔انہوں نے سالڈ ویسٹ کولیکشن کیلئے تحصیل وائز ڈمپنگ گراؤنڈز کی تفصیل بھی طلب کی ۔وزیراعلیٰ نے ویلج کونسلوں میں صفائی کے نظام کو مزید بہتر کرنے کی ہدایت کی اور کہاکہ صفائی کا عمل سال بھر جاری رہنا چاہیئے اور اس کے لئے قابل عمل طریقہ کار نکالیں۔انہوں نے سکیموں کی ڈپلیکیشن کے خلاف ہدایات جاری کرتے ہوئے کہاکہ تمام اضلاع کو تحریری صورت میں آگاہ کیا جائے کہ سکیموں کی ڈپلیکشن سے اجتناب کریں تاکہ عوام وسائل سے حقیقی معنوں میں استفادہ کر سکیں۔

پشاور( سٹاف رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پرویز خٹک نے بس ریپڈ ٹرانزٹ پشاور کے لیے (hybrid vehicle technology)ہائی برڈ وہیکل ٹیکنالوجی کی منظوری دیتے ہوئے عید الاضحی کے فورا بعدمشتہر کرنے کی ہدایت کی ہے۔ہائی برڈ وہیکل ٹیکنالوجی بس ریپڈ ٹرانزٹ میں سفر کرنے والے خواتین اور بچوں کے مسائل پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے ایک ماحول دوست ٹیکنالوجی ہو گی۔وہ وزیر اعلی سیکرٹریٹ پشاور میں بس ریپڈ ٹرانزٹ پشاور کے حوالے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔وزیر اعلی کے معاون خصوصی برائے ٹرانسپورٹ شاہ محمدوزیر،اراکین صوبائی اسمبلی شوکت علی یوسفزئی،معراج ہمایوں،انتظامی سیکرٹریوں،ایشیئن ڈیولپمنٹ بنک کے نمائندوں ، پراجیکٹ ماہرین اور متعلقہ حکام نے اجلاس میں شرکت کی۔اجلاس میں بس ریپڈ ٹرانزٹ کے تین پیکجز سمیت حیات آباد، ڈبگری اور مین بس ٹرمینل چمکنی میں پارکنگ اور کمرشل سرگرمیوں پر مشتمل چوتھے پیکج پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ منصوبے کا پہلا اور تیسرا پیکج ٹینڈرنگ کے لئے تیار ہے۔ وزیر اعلیٰ نے عید الضحیٰ کے بعد میڈیا میں ٹینڈر کو مشتہر کرنے کی ہدایت کی۔ اس موقع پر ایشیائی ترقیاتی بنک کے نمائندوں نے اجلاس کو بریفنگ دی جس میں حکومت کے تعاون، ٹریفک مینجمنٹ، یوٹلیٹیز کی ری لوکیشن اور اس منصوبے کو قابل عمل بنانے کے لئے وزیر اعلیٰ کی پر عزم اور مضبوط قیادت کو سراہا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے تحت خریداری سمیت تمام مطلوبہ ضروریات کو پورا کرتے ہوئے منصوبے کا جلد اجراء کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو پارکنگ اور کمرشل سرگرمیوں کے لئے پیکج کی تیاری پر فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی تاکہ منصوبے کے مکمل ہوتے ہی کمرشل اور پارکنگ سرگرمیوں سے آمدنی کا سلسلہ شروع ہو جائے۔ پرویز خٹک نے اراضی کے حصول ، یوٹیلٹی ری لوکیشن، متاثرین کے لئے معاوضے اور منصوبے کے تحت بحالی کے مجموعی پلان کے لئے مطلوبہ وسائل پر مشتمل سمری بھیجنے کی ہدایت کی۔ جس کی با ضابطہ منظوری کے بعد محکمہ خزانہ فنڈز جاری کرے گا۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک تھرڈ جنریشن منفرد منصوبہ ہو گاجو پشاور میں ٹریفک کے تمام مسائل کا کل وقتی حل ہو گا۔صوبائی حکومت کو اس منصوبے کے لئے ملک میں اس طرح کے دیگر منصوبوں کی طرح سبسڈی نہیں دینا پڑی گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس منصوبے کی اپنی آمدن سے اسکے قرضے واپس کر دیئے جائیں گے۔وزیر اعلیٰ نے بس ریپڈ ٹرانزٹ کی لائنوں کے درمیان مرکزی حصے کی خوبصورتی اور مکمل تحفظ کی ہدایت کی۔وزیر اعلیٰ نے محکمہ ٹرانسپورٹ کو ہدایت کی کہ ٹرانس پشاور کمپنی کی تشکیل کا عمل شروع کرے اور کمپنی کے نئے بھرتی ہونے والے چیف ایگزیکٹیو افسر کے دفتر اور دیگر دوسری ضروریات کا انتظام کرے۔یہ تمام کام ایک ہفتے کے اندر مکمل ہو جانا چاہئے۔ انہوں نے منصوبے پر عملی کام شروع کرنے کے لئے ایشیائی ترقیاتی بنک کے ساتھ لون ایگریمنٹ کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔پرویز خٹک نے قانون کے تحت بڈرز کے انتخاب کا عمل مکمل کرنے کی ہدایت کی اور کہا کہ معاہدے کی واپسی یا خلاف ورزی قابل مواخذہ ہو گی۔وزیر اعلیٰ نے منصوبے کے نفاذ کے لئے تیز رفتار حکمت عملی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حکومت مزید وقت ضائع کرنے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔جب منصوبے پر عمل درآمد شروع کرنے کے سلسلے میں تمام ضروریات مکمل ہیں تو تاخیر کی گنجائش نہیں بنتی۔ انہوں نے ٹریفک کے متبادل انتظام ،یوٹیلٹیز کی متبادل تنصیب اور منصوبے کے با ضابطہ اجراء کے لئے صوبائی حکومت کے مجموعی اقدامات پر بھی روشنی ڈالی۔

مزید : کراچی صفحہ اول