مردان ،گورنمنٹ ہائی سکول کس کورونہ کے عملہ اور پرنسپل کیخلاف شہری سراپا احتجاج

مردان ،گورنمنٹ ہائی سکول کس کورونہ کے عملہ اور پرنسپل کیخلاف شہری سراپا ...

مردان (بیورورپورٹ ) گورنمنٹ ہائی سکول کس کورونہ کے عملے اورپرنسپل کے تبادلے کے خلاف درجنوں شہریوں نے احتجاج کرتے ہوئے فیصلے کو فی الفور واپس لینے کا مطالبہ کیاہے اور پی ٹی آئی ورکروں کی طرف سے پرنسپل پر تشدد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے تحقیقات کا مطالبہ کیاہے جبکہ ضلع ناظم نے کہاہے کہ عوام تبدیلی سرکار سے تنگ آچکے ہیں علاقہ ڈاگئی اور کس کورونہ کے درجنوں افراد ضلع کونسلر مختیار لالا ،صدر ظفر خان اورچیئرمین عبدالدیان کی قیادت میں جمع ہوگئے مظاہرین نے ہائی سکول سے مارچ کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر ،ڈپٹی کمشنر اور بعدازاں کمشنر آفس تک ریلی نکالی مظاہرین بعدازاں ضلع ناظم حمایت اللہ مایار کی قیادت میں پریس کلب پہنچے جہاں ضلع ناظم نے صحافیوں کو بتایاکہ گورنمنٹ ہائی سکول کس کورونہ میں گذشتہ روز لیب افتتاح کے دوران صوبائی وزیر تعلیم نے پرنسپل کو زبردستی افتتاحی کتبہ لگوانے پر مجبور کیا اور بعدازاں اس کے ورکروں نے پرنسپل جو پہلے ہی زخمی تھے کو دھکے دیئے جس سے اس کی ٹانگ دوبارہ ٹوٹ گئی انہوں نے کہاکہ تبدیلی سرکار اس قدر عجلت میں تھی کہ وزیر موصوف کے حلقہ پی کے 30کا کتبہ پی کے 23میں لگایاگیا جس سے ان کی تعلیمی ایمرجنسی کی قلعی کھل جاتی ہے انہوں نے کہاکہ وزیرتعلیم نے سیاسی انتقام کے طورپر پی ٹی آئی سے تعلق رکھنے والے ایک ٹیچر کو چھوڑ باقی تمام عملے کو تبدیل کیاہے جن میں ایسے اساتذہ بھی شامل ہیں جس کے سکول میں حال میں تبادلے ہوئے ہیں اور ابھی چارج بھی نہیں لیا تھا ضلع ناظم نے کہاکہ وہ اس حوالے وزیراعلیٰ اور سیکرٹری ایجوکیشن سمیت دیگر متعلقہ حکام کو خطوط ارسال کریں گے اور انہیں حقائق سے اگاہ کریں گے انہوں نے مطالبہ کیاکہ اساتذہ اور پرنسپل کے تبادلوں کے احکامات فی الفور واپس لئے جائیں بصورت دیگر احتجاجی تحریک چلائی جائے گی ۔

 

مزید : پشاورصفحہ آخر