ڈینگی سے اموات ،پرویز خٹک،شہرام ترکئی کو گرفتار کیا جائے :لیگی رہنما

ڈینگی سے اموات ،پرویز خٹک،شہرام ترکئی کو گرفتار کیا جائے :لیگی رہنما

پشاور (کرائمز رپورٹر) پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما ارباب خضر حیات خان نے کہا ہے کہ حکومت تاحال پشاوراور صوبے کے دیگر اضلاع میں ڈینگی وائرس پر قا بو پانے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جس کے نتیجے میں ہلاکتوں میں آئے روز اضافہ ہو رہا ہے جس کے ذمہ وار وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور صوبائی وزیر صحت شہرام تراکئی ہے جن کے خلاف گذشتہ روزمیں نے تھانہ تہکال میں میڈیا نمائندوں کے سامنے ایف آئی آر کے اندراج کے لئے درخواست بھی جمع کروائی ہے جس پر فوری کاروائی کرتے ہوئے انہیں گرفتار کر کے قانون کے کٹہرے میں لایا جائے کیونکہ ان کے بروقت اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے کئی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں۔پشاور میں میڈیا نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ارباب خضر حیات نے کہا کہ سب سے ذیادہ متاثرہ علاقہ تہکال ہے جہاں پر پندرہ سے زائد لوگ اب تک وفات ہوئے ہیں اور ہزاروں کی تعداد میں زیر علاج ہے ارباب خضر حیات نے کہا کہ پرویز خٹک قاتل وزیر اعلی ثابت ہو ئے ہیں اور انہیں فوری طور پر اپنی حکومت کی ناکامی تسلیم کرتے ہوئے مستعفیٰ ہو جانا چا ہیئے ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت اپنی عیاشیوں میں مصروف ہے انہیں صوبے کے عوام سے کوئی سروکار نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ ایک مچھر نے پورے صوبے کو اپنی لپیٹ میں لیکرعوام کا جینا محال کر رکھا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ صوبائی حکومت کا کام عوام کو فوری ریلیف دینا تھا لیکن افسوس کہ تین مہینوں سے حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی تھی اور نہ ہی کوئی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے گئے تھے لیکن جب پنجاب حکومت نے اپنے ڈاکٹرز کی ٹیمیں بھجوائی اور انہوں نے عوام کو سہولیات زندگی دینی شروع کر دی تو تب صوبائی حکومت کوہوش آیا لیکن اس کے باوجود بھی تاحال عوام کو کسی قسم کی کوئی ریلیف نہیں ملی ہے اور متاثرین میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے جبکہ ہسپتالوں میں بھی جو مریض لائے جارہے ہیں انہیں جگہ نہ ہونے پر داخل نہیں کیا جا رہا ہے جس وجہ سے عوام میں پریشانی دن بدن بڑھتی جا رہی ہے اور عوام اپنی مدد آپ کے تحت اپنی جانوں کی حفاظت کر رہے ہیں ۔ارباب خضر حیات نے تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کو بھی کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ موصوف کو اتنی فرصت نہیں ہے کہ وہ پشاور کا دورہ کر کے متاثرین ڈینگی سے اظہار یکجہتی کریں وہ ناردرن ایریاز میں بیٹھ کر زندگی انجوائے کر ہیں او ر صوبے میں عوام مر رہے ہیں ۔

مزید : پشاورصفحہ آخر