حکومتی وعدوں کے باوجود کھاد سبسڈی رقوم کی ادائیگی نہیں ہو سکی

حکومتی وعدوں کے باوجود کھاد سبسڈی رقوم کی ادائیگی نہیں ہو سکی

کراچی(اسٹاف رپورٹر) حکومت پاکستان تاحال کھاد سبسڈی کے کلیمز کی ادائیگی کے معاملات کو التواء میں رکھ رہی ہے۔ سرخ فیتہ اور اداروں کی پیچیدگیوں کے باعث اربوں روپے کی رقم مسلسل پھنسی ہوئی ہے۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے ایک ماہ قبل وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ کو ہدایت کی گئی تھی کہ فوری طور پر تمام زیر التواء رقوم ادا کی جائیں لیکن مالی بوجھ کم کرنے کے لئے تاحال اس ضمن میں عمل درآمد نہیں ہو سکا۔ قبل ازیں وزیراعظم ہاؤس میں 24 جولائی 2017ء کو منعقدہ اعلیٰ سطحی اجلاس جو وزیراعظم کے سیکریٹری فواد حسن فواد کی زیر صدارت منعقد ہوا تھا، میں فیصلہ کیا گیا تھا کہ تمام سبسڈی کلیمز کا 80 فیصد فوری طور پر ادا کیا جائے گا اور بقایا 20 فیصد رقم تیسرے فریق کی تصدیق کے بعد تین ماہ کے اندر ادا کر دی جائے گی۔ کھاد انڈسٹری کو اس بات پر تشویش لاحق ہے کہ فنڈز کی عدم دستیابی کا بہانہ کرتے ہوئے ادائیگیاں ابھی تک زیر التواء رکھی ہوئی ہیں جبکہ فنانس ڈویژن اس مد میں پہلے سے ہی مطلوبہ رقم جاری کر چکا ہے جس کے باوجود ادائیگیوں میں رکاؤٹ معنی خیز ہے۔ اسی طرح مستقبل کے سبسڈی میکنزم کے لئے حکومت نے اس سکیم میں ایک غیر ضروری شق شامل کر رکھی ہے جس کے تحت حکومت ہر فرٹیلائزر ڈیلر سے نیشنل ٹیکس نمبر کا مطالبہ کرتی ہے۔ یہ شق یقینی طور پر قابل عمل نہیں ہے کیونکہ چھوٹے ڈیلرز کی ایک بڑی اکثریت (90 فیصد سے زائد) غیر رجسٹرڈ ہے اور ان کے پاس کوئی نیشنل ٹیکس نمبر نہیں ہے۔ مزید یہ کہ سبسڈی کلیمز سیلز ٹیکس پر مبنی ہیں جن کا نیشنل ٹیکس نمبر کے ساتھ کوئی تعلق ہی نہیں۔ لہذا اس طرح کا اقدام کسانوں تک سبسڈی فوائد کی منتقلی میں یوریا ڈسٹری بیوٹرز کے لئے مشکلات پیدا کر رہا ہے۔ اس ضمن میں حکام نے بیرونی آڈٹ کا کام بھی شروع نہیں کرایا جو اس بحران کو حل کرنے کے لئے بہت ضروری جانا جاتا ہے۔ یہ عمل قومی معیشت کے لئے بھی نقصان دہ ہے۔ وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ نے کھاد کی صنعت بارے بیرونی آڈٹ کرانے کے لئے ابھی تک ریفرنسز بھی جاری نہیں کئے۔ حالانکہ کھاد کی صنعت کو 20 ارب روپے سے زائد رقوم کی زیر التواء ادائیگیوں کی وجہ سے کافی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ کمپنیوں کی طرف سے فراہمی کے عمل میں سست روی کے باوجود پاکستانی مارکیٹ میں کھاد کی قیمتیں کم رکھی ہوئی ہیں۔ کھاد پروڈیوسرز نے حکومت کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے قیمتوں میں فی بیگ 106 روپے کی کمی کر رکھی ہے جبکہ حکومت نے 100روپے فی بیگ سبسڈی کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ فرٹیلائزر مینوفیکچررز آف پاکستان ایڈوائزری کونسل حکومت کے ساتھ مل کر سبسڈی بحران کو حل کرنا چاہتی ہے۔ اس سلسلہ میں انڈسٹری ترجمان نے کہا ہے کہ حکومت کو چاہئے کہ وہ قومی معیشت میں کھاد انڈسٹری کے احسن کردار کی قدر کرے جو زرعی ترقی کی صورت میں نمایاں طور پر نظر آ رہا ہے۔ کھاد کمپنیاں حکومت کی طرف سے مثبت ردعمل کی منتظر ہیں۔ مالی مشکلات کے باوجود ہم نے ابھی تک کسانوں کے لئے سبسڈی کھاد کی فراہمی نہیں روکی اور اس سبسڈی بحران کے بہتر حل کے لئے منتظر ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ وہ اس ضمن میں ذاتی دلچسپی لیں تاکہ اس سبسڈی کا فائدہ کسانوں تک پہنچتا رہے اور مارکیٹ میں یوریا کی فراہمی کا عمل بھی جاری رہے۔ ترجمان نے مزید کہا کہ وزارت خزانہ، ایف بی آر، سٹیٹ بینک اور وزارت نیشنل فوڈ سیکورٹی اینڈ ریسرچ سے توقع ہے کہ وہ انڈسٹری پر مالیاتی دباؤ کم کرنے کے لئے اس سبسڈی سکیم میں عمل درآمد کی پیچیدگیوں کو آسان بنائیں گی۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...