ایف بی آر میں غیر قانونی بھرتیاں ،عدالت عالیہ نے تفصیلات طلب کرلیں

ایف بی آر میں غیر قانونی بھرتیاں ،عدالت عالیہ نے تفصیلات طلب کرلیں

کراچی (اسٹاف رپورٹر)سندھ ہائی کورٹ نے ایف بی آر میں غیر قانونی بھرتیوں سے متعلق درخواست پر ڈی جی نیب الطاف باوانی کی سرزنش کرتے ہوئے چودہ ستمبر تک سندھ بھر میں زیر التوا انکوائریوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ جسٹس احمد علی شیخ کی سربراہی میں دو رکنی بینچ کے روبرو ایف بی آر میں غیر قانونی بھرتیوں کے خلاف نیب انکوائری سے متعلق سماعت ہوئی۔ عدالتی حکم پر ڈی جی نیب محمد الطاف باوانی پیش ہوگئے۔ چیف احمد علی احمد شیخ نے ڈی جی نیب کی سرزنش کی۔ عدالت نے دو سال سے سندھ میں زیر التوا انکوائریوں کی تفصیلات طلب کرلیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جو غیر قانونی بھرتیاں کرتے ہیں نیب والے انکو نہیں پکڑتے۔جن کو بھرتی کیا جاتا ہے ان کیخلاف تحقیقات شروع کردی جاتی ہے۔ چیف جسٹس احمد علی شیخ نے ڈی جی نیب کی سرزنش کرتے ہوئے کہا جو تفتیشی افسر ماتحت عدالتوں میں ملزمان کے حق میں بیان دیتے ہیں وہ اعلی عدالتوں کی خاک معاونت کریں گے۔ چیف جسٹس نے ریماکس میں کہا کہ دس ہزار روپے کرپشن کرنے والوں کو پکڑ لیتے ہیں۔ جس نے اس ملک سے اربوں لوٹے اس پر کوئی ہاتھ نہیں ڈالتا۔ دس ہزار روپے کرپشن کرنے والا سکھر سے کراچی تک ہزاروں روپے خرچ کرکے انصاف مانگنے آتا ہے۔ چیف جسٹس نے ریماکس دیئے لوگ نیب سے تنگ آچکے ہیں۔ تفتیشی افسران نے زندگیاں اجیرن کررکھی ہیں۔ عدالت نے حکم دیا کہ تفتیش کے معاملات عدالت پیش کئے جائیں اور غیر ضروری تاخیر کی وضاحت پیش کی جائے۔ عدالت جائزہ لے کر خود غیرضروری انکوائریوں کو ختم کر دے گی۔ اس صوبہ میں نیب جو کچھ کررہا ہے اس کی تفصیل پیش کریں۔ ڈی جی نیب نے کہا کہ ہم کارگردی بہتر بنا رہے ہیں،رپورٹ پیش کرنے کے لیے وقت دیا جائے۔ عدالت نے ڈی جی نیب سندھ کی استدعا مسترد کرتے ہوئے چودہ ستمبر تک نیب سے سندھ بھر میں زیر التوا انکوائریوں کی فہرست طلب کرلیں۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...