ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان باعث تشویش اور تضحیک آمیز،پارلیمنٹ یکجا اور یک زبان ہو کر امریکا کو پیغام دے، چودھری نثار

ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان باعث تشویش اور تضحیک آمیز،پارلیمنٹ یکجا اور یک زبان ہو کر ...
ڈونلڈ ٹرمپ کا بیان باعث تشویش اور تضحیک آمیز،پارلیمنٹ یکجا اور یک زبان ہو کر امریکا کو پیغام دے، چودھری نثار

  

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وفاقی وزیر داخلہ اور رکن قومی اسمبلی چودھری نثار نے کہا ہے کہ امریکی صدر کا بیان پاکستان کیلئے باعث تشویش اور تضحیک آمیز ہے ہمیں اس بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اورپارلیمنٹ کو یک زبان ہو کر دنیا کو پیغام دینا چاہئے،قومی اسمبلی میں پاکستان کی خارجہ پالیسی پر بحث کرتے ہوئے چودھری نثارنے اظہار خیال کرتے ہوئے چودھری نثار کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کے گرد گھیرا تنگ ہو رہا ہے اورگھیرا تنگ کرنے میں ایسے لوگ ملوث ہیں جو ہمارے وہم و گمان میں نہیں ، انہوں نے مشترکہ اجلاس بلانے کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر کے پاس کوئی ثبوت ہے تو سامنے لائیں، اب جب محفوظ پناہ گاہیں نہیں تو امریکا الزامات لگا رہا ہے اور جب پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں تھیں تو امریکا فوجی آمروں کو ڈالرز دیتا تھا، سابق وفاقی وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ سپیکر قومی اسمبلی بیانیہ تیار کریں اوربیانیہ ایک ہونا چاہیے ،پارلیمنٹ عوام کی نمایندگی کرتی ہے، پارلیمنٹ ،عوام ،حکومت ایک زبان سے بولیں، ایک بیانیہ بنا کر قائم رہنا چاہیے ،ہم محاذ آرائی نہیں چاہتے۔

چودھری نثار نے کہا کہ افغان سرحد پر دہشتگردوں کی کم از کم 10 محفوظ پناہ گاہیں ہیں، امریکا ڈالرز کی بات اس لیے کرتاہے کہ ہمارا ریکارڈ درست نہیں،سپیکر قومی اسمبلی اورچیئرمین سینیٹ امریکا میں اپنے ہم منصبوں کو خطوط لکھیں اور کمیٹی بنائی جائے جوافغانستان میں ان ٹھکانوں کی نشاندہی کرے جہاں کارروائیاں ہوتی ہیںاور اس بات کو منطقی انجام تک پہنچائیں محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں ہیں یا پاکستان میں،انہوںنے کہا کہ افغانستان میں امن امریکا سے زیادہ پاکستان کے مفاد میں ہے لیکن یہ تعاون یک طرفہ اور دشمن کے ایجنڈے پر نہیں ہو سکتا، یہ تعاون پاکستان کی عزت نفس پر نہیں ہوسکتا،سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا ہمیں امریکا سے محاذآرائی نہیں کرنی چاہئے بلکہ دلائل اور حقائق سے لڑنا چاہئے ،امریکا کی افغانستان میں پالیسی پاکستان کی وجہ سے ناکام نہیں ہوئیں ، امریکا خود مذاکرات کرنا چاہتا ہے اور پاکستان کرے تو مخالفت کرتاہے، چودھری نثار نے کہا کہ جب آپ بار بار ڈریں گے تو لوگ اس خوف سے فائدہ اٹھائیں گے، امریکا کی افغانستان میں مذاکرات ،سفارتی ہر پالیسی ناکام ہوئی، امریکا پاکستان سے پوچھ کر افغانستان میں نہیں آیا خود آیا ہے ، انہوں نے کہا کہ معاملات وزارت خارجہ میں طے ہونے چاہییں یہ نہ ہوکے امریکی عہدیدارآئیں اور یہاں عہدیداروں پر انگلیاں اٹھائیں، ایک قدم تو اٹھایا گیا ان کی معاون وزیر خارجہ کادورہ ملتوی کرایا گیا۔

انہوںنے کہا کہ ہم پر دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کا الزام لگایا گیا ہمیں دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے الزام کا سدباب کرنا چاہئے اورہمیں یہ مقابلہ سنجیدگی دلیل اور حقائق سے لڑنا چاہئے ،امریکا سے دہشتگردوں کی پناہ گاہوں کے ثبوت مانگنے چاہئے ،سابق وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ افغانستان میں امن امریکا سے زیادہ پاکستان کے حق میں ہے پاکستان امریکا سمیت تمام ملکوں سے تعلقات چاہتا ہے لیکن یہ تعاون یکطرفہ نہیں ہو سکتا، انہوںنے کہا افغان جنگ کیلئے امریکا نے ہماری سڑکیں اورحدود استعمال کیں اور انہیں خراب کر دیا،امریکا ہماری فضائی حدود استعمال کرتا ہے اور اوپر سے احسان جتلاتا ہے ، اب امریکا سے جواب مانگنے کا وقت ہے ،پچھلے 10سال کی امریکی امداد کا آڈٹ کرایا جائے ۔

چودھری نثار کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ صرف تقاریر کیلئے نہیں،رہنمائی دینے کیلئے ہوتی ہے آج خوش آیند یہ ہے کہ آج ہم یک زبان اور یک جان ہیںاور حکومت کو اس سے فائدہ اٹھانا چاہئے، انہوں نے کہا پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس ہونا چاہئے تھااور یہ اجلاس کئی دن پہلے بلا لینا چاہئے تھا۔

مزید : اسلام آباد