فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 196

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 196

طارق صاحب کی فاکس ویگن کہاں سے کہاں لے کر پہنچ گئی۔ ہم تو صبیحہ خانم اور سنتوش کمار کے گھر جا رہے تھے۔

صبیحہ خانم سے سنتوش کمار کی شادی ہونے کے بعد بھی صبیحہ شاہ جمال روڈ پر واقع اپنی ذاتی کوٹھی میں ہی رہتی تھیں۔ سنتوش صاحب اپنے سارے خاندان اور پہلی بیگم کے ساتھ مسلم ٹاؤن کی وسیع و عریض کوٹھی میں رہتے تھے۔ کافی عرصے بعد انہوں نے اپنی مسلم ٹاؤن والی کوٹھی میں اضافہ کیا۔ نئی تزئین و تعمیر کی تو صبیحہ خانم اپنی شاہ جمال روڈ والی کوٹھی کو خیرباد کہہ کر مسلم ٹاؤن میں جا آباد ہوئیں۔ یہاں دونوں بیگمات ایک ساتھ ہی رہتی تھیں۔ بالکل بہنوں کے مانند۔ دلوں کا حال تو خدا جانتا ہے مگر ایسا میل جول‘ ایسا سلوک‘ ایسی محبت اور بے تکلّفی ہم نے سوکنوں میں نہیں دیکھی۔ اور چند ماہ یا چند برس کی بات نہیں ہے۔ مرتے دم تک یہ وضع داری اور خلوص قائم رہا۔

اس روز طارق صاحب صبح سویرے ہی ہمارے پاس ماڈل ٹاؤن آگئے تھے۔ صبح سویرے سے ہماری مراد ہے نو ساڑھے نو بجے، بات یہ ہے کہ طارق صاحب کی رندی اور شب بیداری اپنی جگہ مگر وہ سحر خیز تھے۔ خدا جانے وہ کیوں کر اتنے سویرے ہی بیدار ہو جاتے تھے جبکہ ہمیں دس بجے بھی جھنجوڑ جھنجوڑ کر اٹھایا جاتا تھا۔ وہ تو ناشتا کر کے آئے تھے‘ ہمیں امّاں ہر روز ناشتا اپنی ذاتی نگرانی میں اس طرح کراتی تھیں جیسے کہ یہ دنیا میں ہمارا آخری ناشتا ہو اور اس کے بعد شاید ہمارے ناشتا کرنے کی نوبت ہی نہیں آئیگی۔ پراٹھے‘ ٹوسٹ‘ مکھن‘ انڈا‘ دلیا‘ کیک‘ مٹھائی‘ پھل‘ دودھ‘ چائے‘ شہد‘ ملائی‘ جام‘ سیب کا مربّا اور نہ جانے کیا کیا۔ ان کا بس نہیں چلتا تھا کہ تمام چیزیں ہمارے پیٹ میں انڈیل دیں۔ ساتھ ساتھ ان کی نصیحتیں بھی چلتی رہتی تھیں۔

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 195 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

’’دیکھو بیٹا۔ طبیب کہتے ہیں کہ ناشتا خوب اچھا کرنا چاہیے اور تم کو تو خدا جانے پھر کب کھانے کا ہوش آئے گا۔ لو یہ کیک کھاؤ۔‘‘

’’مگر ا مّاں‘ ناشتے میں کیک کی کیا تُک ہے؟‘‘ ہم احتجاج کرتے۔

’’بیٹا شام کی چائے پر تو تم ہوتے نہیں ہو پھر اور کس وقت کھاؤ گے؟ اور دیکھو یہ مٹھائی فلاں کے گھر سے آئی ہے ،میں نے دودھ میں کھجوریں بھی بھگو کر رکھی ہیں۔ تمہیں پسند ہیں نا۔ رات کو یہ سوّیاں بنائی تھیں۔ ‘‘

’’امّاں یہ ناشتا ہے یا کھانا بلکہ کسی کا ولیمہ‘‘

’’زیادہ باتیں مت بناؤ یہ لو ٹھنڈا دودھ ہے۔ ‘‘

’’مگر چائے۔ ‘‘

’’ارے چائے تو سارے دن پیتے ہی رہتے ہو۔ اپنا دل جلاتے ہو پھر جاتے وقت چائے بھی پی لینا۔ یہ تربوز۔۔۔ ‘‘

’’میرے اللہ یہ تربوز کھانے کا کون سا وقت ہے۔‘‘

’’موسم کا پھل ہے۔ ویسے تو سہ پہر کو کھاتے ہیں۔ نہ پیٹ خالی ہو‘ نہ بھرا ہو مگر سہ پہر کو تمہارا کب قدم آتا ہے گھر میں۔‘‘

خیر ہم نے تو ناشتا لنچ اور ڈنر سب کچھ کر لیا۔ شام کی چائے اور سہ پہر کے پھل بھی ایڈوانس میں کھا لئے۔ چائے اور دودھ بھی پی لیا۔ لسّی کے گلاس کو ہاتھ نہ لگا سکتے جس کا امّاں کو شکوہ ہی رہا۔

طارق صاحب کو چائے کی دو پیالیاں پیش کی گئیں۔ کھانے کا انہیں شوق ہی نہیں تھا۔ صرف لنچ کے وقت ہی شوق سے کھاتے تھے، ورنہ ڈنر بس یوں ہی ٹرخا دیتے تھے۔

چائے سے فارغ ہو کر انہوں نے سگریٹ سلگائی ہم نے ان کی سگریٹ کی پیشکش شکریے کے ساتھ واپس کر دی ۔گھر میں ہم کسی قسم کی تمباکو نوشی نہیں کرتے تھے‘ یہ بھی نہیں ہے کہ امّاں کو ہماری پائپ نوشی اور سگار نوشی کا علم نہیں تھا مگر نہ کبھی انہوں نے اس کا تذکرہ کیا نہ ہم نے گھر کی حدود کے اندر یہ گستاخی کی۔ گھر کے اندر ہمیں جیسے صبر سا آ جاتا تھا۔ تمباکو نوشی کو دل ہی نہیں چاہتا تھا۔ امّاں کے بعد بچّیاں تمباکو نوشی کی راہ میں رکاوٹ بنی رہیں۔ وہی اصول بچیوں کے سلسلے میں بھی اپنایا گیا جو امّاں کے معاملے میں تھا۔ البتہ کبھی کبھار کسی بے تکلّف دوست کے اصرار پر کمرے کا دروازہ بند کر کے ڈرتے ڈرتے چند کش لگا لیتے تھے کہ کہیں نادیہ یا پارو کی نظر نہ پڑ جائے۔

ہم نے کہا ’’طارق صاحب اب چلیں؟‘‘

وہ ہنسنے لگے’’ آفاقی صاحب صبر کریں ابھی سے کہاں چلیں۔‘‘

’’کیوں صبیحہ بھابھی کے پاس نہیں جانا؟ ‘‘

’’مولانا تو ابھی سو رہے ہوں گے ،گیارہ بجے سے پہلے تو انہیں صور پھونک کر بھی نہیں اٹھایا جا سکتا۔ آئیے ذرا فلم کے متعلق کچھ بات کرلیں۔ ‘‘

مولانا سے ان کی مراد سنتوش صاحب تھے وہ بھی موڈ میں دوسروں کو مولانا کہتے تھے۔ اس لئے جواب میں یہی سنتے بھی تھے۔ طارق صاحب نے سنجیدگی سے کہانی کے بارے میں بات چیت شروع کر دی۔

’’دیکھیں پہلے تو اس کا نام بدل دیں‘‘ انہوں نے مشورہ دیا۔

’’مگر طارق صاحب ’’مجبور‘‘ کے نام سے ہم نے مہورت کیا تھا اور یہ نام کہانی کے مطابق بھی ہے۔‘‘

’’اسی میں فائدہ ہے، اب آپ کا بندوبست بھی بدل گیا اور کاسٹ بھی بدل جائے گی۔ لوگ سمجھیں کہ یہ کوئی نئی کہانی ہے۔ ‘‘

یہ آئیڈیا ہمیں بہت پسند آیا۔ اس طرح یہ شرمندگی نہیں ہوگی کہ ہم نے مہورت کرنے کے بعد وہ فلم نہیں بنائی۔ لوگ یہی سمجھیں گے کہ کسی وجہ سے ارادہ ہی بدل دیا۔

’’اس کا نام ’’کنیز‘‘ ٹھیک رہے گا۔ دیکھئے نا‘ آپ کی تھیم یہ ہے کہ جاگیردارانہ نظام میں طبقاتی امتیاز اور نسلی و خاندانی غرور کے آگے ہر چیز کو قربان کر دیا جاتا ہے۔ ضرورت کے وقت یہی لوگ پیر کی جوتی کو سر پر رکھ لیتے ہیں مگر وقت نکلنے کے بعد خاندانی وقار انہیں یاد آ جاتا ہے اور پھر ایک کنیز زادی ہی تو ہے جس نے ایک بہت بڑے نواب کے غرور اور پندار کو خاک میں ملا کر رکھ دیا۔ جیت اسی کی ہوئی۔ نواب کی نوابی دھری کی دھری رہ گئی۔ ‘‘

بات درست تھی۔ ’’مجبور‘‘ اس کہانی کا بالواسطہ نام تھا مگر ’’کنیز‘‘ براہ راست اور بلاواسطہ نام تھا۔ ڈائریکٹ اور دو ٹوک۔۔۔ طارق صاحب کو اکثر بہت اچھّی سوجھتی تھی۔ خاص طور پر فلموں کے نام وہ بہت اچھے منتخب کرتے تھے جبکہ ہم کہانی مکمّل کرنے کے بعد بھی نام سوچتے رہ جاتے تھے۔ چنانچہ اس طرح بیٹھے بٹھائے فلم ’’مجبور‘‘ کا نام بدل کر ’’کنیز‘‘ ہوگیا۔

انہوں نے سکرپٹ کے صفحات الٹ پلٹ کئے۔ کچھ غور کیا اور پھر بولے’’ آفاقی صاحب سچ بتائیں آپ نے دونوں بھائیوں کی جو کاسٹنگ کی ہے کیا اس سے آپ مطمئن ہیں؟ ‘‘

ہم نے کہا ’’مطمئن تو نہیں ہیں مگر اور چارہ بھی کیا ہے۔ نوعمر اور نوخیز اداکار ہم کہاں سے لائیں؟ ہم نے تو نئے لوگ بھی تلاش کرنے کی کوشش کی مگر کام نہیں بنا۔ ‘‘

’’توپھر کوئی نہ کوئی صورت خودبخود نکل آئے گی اس لئے کہ یہ کاسٹنگ مجھے بھی مناسب نہیں لگ رہی۔ نوعمر ہیروئن کے لئے آپ نے کیا سوچا ہے؟ ‘‘

’’ہمارے خیال میں تو زیبا مناسب ہیں۔ دراصل اس کہانی میں زیادہ بوجھ ماں، دادا اور بھائیوں پر ہے۔ ہیروئن سجاوٹ اور رنگینی پیدا کرنے کیلئے ہوگی۔‘‘

’’اوکے‘‘ انہوں نے فوراً اتفاق رائے کا اظہار کر دیا۔ ’’زیبا بہت تیزی سے آگے بڑھی ہے۔ اب تو ہیروئن ہے اور پاپولر بھی ہے۔ آپ نے پیسوں کی بات کی ہے زیبا سے؟‘‘

’’ابھی تو نہیں مگر کر لیں گے۔‘‘

’’یہ ڈیپارٹمنٹ آپکا ہے‘‘

ہم دوسرے کرداروں کے بارے میں بھی باتیں کرتے رہے۔ اس دوران میں ایک بار پھر چائے پی گئی۔ یہاں تک کہ گیارہ بج گئے۔

’’آئیے اب چلتے ہیں‘‘ وہ اٹھ کر کھڑے ہوگئے۔

گاڑی شاہ جمال روڈ کی جانب چل پڑی۔ اسی سڑک پر سیّد کمال‘ منور ایچ قاسم اور کسی زمانے میں راگنی بھی رہا کرتی تھیں۔ اس زمانے میں وہ میاں اسلم کی بیگم تھیں۔ ہم نے ان سے اسی کوٹھی میں انٹرویو کیا تھا جس کی روداد بیان کر چکے ہیں۔

سنتوش صاحب کی کوٹھی کی طرف جاتے ہوئے ایک لمحے کے لئے بھی ہمیں یہ خیال نہیں آیا کہ اگر صبیحہ خانم رضامند نہ ہوئیں تو کیا ہوگا؟ ہمیں یقین تھا کہ ہم انہیں منا لیں گے حالانکہ وہ اداکاری ترک کر بیٹھی تھیں۔

کوٹھی کے گیٹ میں سے چوکیدار نے جھانک کر دیکھا اور پہچان کر دروازہ کھول دیا۔

ہم برآمدے میں داخل ہوئے تو سامنے ہی سنتوش صاحب بیٹھے نظر آ گئے۔ ایک چھوٹی میز ان کے سامنے رکھی تھی جس پر گول آئینہ رکھا ہوا تھا۔ وہ شیو کرنے کیلئے چہر ے پر برش کی مدد سے سفید جھاگ بنانے میں مصروف تھے۔

ہم دونوں کو دیکھا تو بے ساختہ ہنسنے لگے۔

’’ سویرے سویرے یہ ہنسوں کا جوڑا کدھر آ نکلا۔‘‘

’’سنتوش صاحب آپ تو آج منہ اندھیرے ہی جاگ گئے صبح گیارہ بجے شیو بنا رہے ہیں۔ خیر تو ہے‘‘ ہم نے پوچھا۔

’’مولانا انکم ٹیکس کا معاملہ ہے۔ یار ہم تو ان ہی لوگوں کے لئے کماتے ہیں شاید۔ میں تو پروڈیوسروں سے کہہ دوں گا کہ میاں انکم ٹیکس والوں کو ہی میک اپ کر ا لیا کرو یہ کہاں کا انصاف ہے۔ کمائے کوئی اڑائے کوئی۔ ‘‘

سنتوش صاحب بہت دلچسپ اور زندہ دل آدمی تھے۔ بے حد شائستہ‘ تعلیم یافتہ اور بااخلاق، ایک زمانہ تھا جب وہ پاکستان کے اکلوتے ہیرو قرار دئیے جاتے تھے۔ ان کی مقبولیت کی کوئی انتہا نہیں تھی۔ کوئی اچھی فلم ان کے بغیر مکمّل نہیں سمجھی جاتی تھی اور مزے کی بات یہ ہے کہ اردو فلموں میں تو راج کرتے ہی تھے پنجابی فلموں میں بھی مقبول تھے اور ان کی اکثر پنجابی فلمیں سُپرہٹ ہوئی تھیں۔(جاری ہے)

فلمی و ادابی شخصیات کے سکینڈلز۔ ۔ ۔ قسط نمبر 197 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

(علی سفیان آفاقی ایک لیجنڈ صحافی اور کہانی نویس کی حیثیت میں منفرد شہرہ اور مقام رکھتے تھے ۔انہوں نے فلم پروڈیوسر کی حیثیت سے بھی ساٹھ سے زائد مقبول ترین فلمیں بنائیں اور کئی نئے چہروں کو ہیرو اور ہیروئن بنا کر انہیں صف اوّل میں لاکھڑا کیا۔ پاکستان کی فلمی صنعت میں ان کا احترام محض انکی قابلیت کا مرہون منت نہ تھا بلکہ وہ شرافت اور کردار کا نمونہ تھے۔انہیں اپنے عہد کے نامور ادباء اور صحافیوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا اور بہت سے قلمکار انکی تربیت سے اعلا مقام تک پہنچے ۔علی سفیان آفاقی غیر معمولی طور انتھک اور خوش مزاج انسان تھے ۔انکا حافظہ بلا کا تھا۔انہوں نے متعدد ممالک کے سفرنامے لکھ کر رپوتاژ کی انوکھی طرح ڈالی ۔آفاقی صاحب نے اپنی زندگی میں سرگزشت ڈائجسٹ میں کم و بیش پندرہ سال تک فلمی الف لیلہ کے عنوان سے عہد ساز شخصیات کی زندگی کے بھیدوں کو آشکار کیا تھا ۔اس اعتبار سے یہ دنیا کی طویل ترین ہڈ بیتی اور جگ بیتی ہے ۔اس داستان کی خوبی یہ ہے کہ اس میں کہانی سے کہانیاں جنم لیتیں اور ہمارے سامنے اُس دور کی تصویرکشی کرتی ہیں۔ روزنامہ پاکستان آن لائن انکے قلمی اثاثے کو یہاں محفوظ کرنے کی سعادت حاصل کررہا ہے)

مزید : فلمی الف لیلیٰ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...