قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 53

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 53

گلزار دینوی

مینا کماری کے ذکر کے ساتھ جو اور نام ذہن میں ابھرتے ہیں ان میں گلزار کا نام بڑی اہمیت رکھتا ہے ۔ وہ پنجاب اور پنجاب میں بھی ایک چھوٹی سی جگہ دینہ کے رہنے والے سردار ہیں۔ لیکن جب وہ بمبئی پہنچے تو بالوں سے بے نیاز ہو چکے تھے۔ وہ شروع شروع میں گلزار دینوی کے نام سے مختلف ادبی پرچوں میں لکھا کرتے تھے ۔ وہ خصوصاً امرتسر سے نکلنے والے پرچے ’’پگڈنڈی ‘‘ میں باقاعدگی سے لکھا کرتے تھے۔

نوجوان تھے اور شروع ہی میں انہیں یہ موقع ملا کہ وہ بمل رائے ٹیم کے ساتھ منسلک ہو گئے ۔ خدا نے انہیں بڑی صلاحیتیں دی ہوئی تھیں۔ شعر کہتے تھے ’‘ نثر لکھتے تھے ‘ اور ڈائریکشن کا بھی شوق تھا۔ وہ اسی سلسلے میں بمل رائے کے پاس ایک مدت تک کام کرتے رہے اور وہاں سے بہت کچھ سیکھا ۔ چنانچہ مینا کماری کے پسندیدہ لوگوں میں سے ایک وہ بھی تھے۔

ان کے بارے میں داستانیں تو بہت سی مشہور ہیں مگر میں ان داستانوں سے ہٹ کر گلزار کی شخصیت کے بارے میں کچھ کہوں گا۔ وہ اپنی ذات میں ایک انجمن تھے اور بمبئی کے بہت بڑی ہجوم میں انہوں نے اپنی پہچان پیدا کر رکھی تھی۔ دیکھنے میں وہ کوئی اتنا قابل فخر نوجوان بھی نہیں تھا کہ ہم کہیں کہ وہ رانجھے جیسا خوبصورت آدمی تھا اور ہیریں اس کی طرف کھچی چلی آتی تھیں۔ لیکن یہ بھی درست ہے کہ اس کی زندگی میں جو نام آئے وہ ہیروں سے کم نہ تھے۔

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 52 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

میں نہیں سمجھتا کہ مینا کماری اس کی زندگی میں کہاں تک آئی لیکن یہ درست ہے کہ یہ دونوں دوست تھے۔ اور مینا کماری انہیں اچھا جانتی تھی۔ اس کے بعد راکھی بنگال کی بہت خوبصورت عورت تھی اور چوٹی کی ہیروئن تھی۔ وہ باقاعدہ ان کی شادی میں آئیں۔ دونوں نے شادی کی اور اس سے ایک بچی بھی پیدا ہوئی۔ جس کا نام انہوں نے بوسکی رکھا اور اس مناسبت سے گلزار نے اپنے مکان کا نام بوسکیانہ رکھا پھر دونوں کی علیحدگی بھی ہو گئی لیکن نجانے راکھی اب تک راکھی گلزار کیوں لکھ رہی ہے۔ جبکہ علیحدگی کو بھی کوئی دس بارہ دس سال ہو چکے ہیں۔

جب میں بمبئی گیا تو اس سے پہلے سے میرا ن کے ساتھ تھوڑا سا تعارف تھا وہ یوں کہ تبرکاً بالواسطہ تعارف ہو چکا تھا ۔ یہ گلزار صاحب کی بڑائی کا ثبوت ہے کہ انہوں نے اپنی یہ ایک کتاب مجھے پیش کی تو اس پر لکھا تھا۔۔۔ قتیل شفائی صاحب کے نام جن کی انگلی پکڑ کر میں نے اس رستے پر چلنا سیکھا۔۔۔ میں پتا نہیں اتنا بڑا ہوں یا نہیں لیکن یہ الفاظ لکھنے والا یقیناً بڑا ہے۔

چنانچہ جب میں وہاں گیاتو انہوں نے مجھے دعوت پر بلایا ۔ اس وقت تک ان کی فلم ’’میرا ‘‘ چل چکی تھی جو کامیابی سے ہمکنار نہ ہو سکی تھی۔ مگر چونکہ گلزار کی فلم تھی اس لئے میرے ذہن میں تھا کہ اس میں کچھ نہ کچھ ضرور ہو گا۔ گلزار صاحب خود بھی یہ تجزیہ کر رہے تھے کہ یہ فلم جو ان کی نظر میں اچھی تھی فلاپ کیوں ہو گئی۔ چنانچہ انہوں نے اس فلم کا ایک خاص شو میرے لئے کیا۔ اس میں میرے ساتھ میرا بیٹا اور میری بیوی بھی تھیں۔ اس زمانے میں میری راتیں دعوتوں میں صرف ہو جاتی تھیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ بمبئی کے لوگ بڑے زندہ دل ہیں اور ان کا دن دس گیارہ بجے رات کے بعد شروع ہو تا۔ چنانچہ یہ محفلیں تین چار بجے صبح کے وقت ختم ہوتی تھیں اور مجھے سونے کا موقع کم ملتا تھا۔

انہوں نے فلم دیکھنے کی دعوت دی اور ہم وہاں گئے تو نیند پوری نہ ہو سکنے کی وجہ سے مجھے درمیان میں اونگھ آجاتی تھی ۔ ایک بار اونگھ آئی تو میں نے بیٹے سے کہا کہ اگر مجھے اونگھتے دیکھو تو فوراً کہنی مار دینا۔ کیونکہ انہوں نے جتنے پیار سے فلم کا اہتمام کیا ہے اس لحاظ سے میرے لئے یہ بڑی شرم کی بات ہو گی۔

ہمارے علاوہ وہاں سادہ سے خدوخال والا ایک اور چہرہ بیٹھا ہوا تھا۔ میں نے اسے اس وقت تو نہیں پہچانا لیکن بعد میں پتا چلا کہ وہ دپتی نول تھیں۔ وہ امرتسر کی رہنے والی ایک خوابوں کے پیچھے بھاگنے والی لڑکی تھی۔ چونکہ گلزار بھی اسی قبیلے کا شخص تھا اس لئے اب وہ اس کی زندگی میں دوست کی حیثیت سے آئی ہوئی تھی۔ پکچر دیکھنے کے بعد یہ مجھے بھی اچھی لگی لیکن دو چیزوں کی اس میں مجھے بھی کمی محسوس ہوئی۔ ایک تو یہ ہے کہ ہماری پبلک جو کچھ بچپن میں معجزاتی قسم کی چیز سن چکتی ہے فلم میں اگر اس سے انحراف کر لیا جائے تو پبلک اس کا ساتھ نہیں دیتی ۔ مثال کے طور پر شریف نیئر یہاں کے بہت بڑے آرٹسٹ اور ہدایتکار ہیں انہوں نے فلم ’’شیریں فرہاد‘‘ بنائی۔ اس میں انہوں نے یہ کیا کہ بجائے اس کے لوگوں کو پہلے سے سنی سنائی کہانی دوبارہ سنا دیتے‘ انہوں نے اس موضوع پر ریسرچ کی اور دودھ کی نہر والی روایتی کہانی سے انحراف کیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے اس میں کچھ نئے کردار بھی شامل کیے ۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی فلم فلاپ ہو گئی۔ اس کے برعکس ’’لیلیٰ مجنوں ‘‘ کی روایتی کہانی کے مطابق اس موضوع پر کئی فلمیں بنی ہیں لیکن یہ کبھی فلاپ نہیں گئیں۔

’’میرا ‘‘ کے ساتھ یہ ہوا کہ چونکہ اس میں گلزار نئے ذہن کے آدمی تھے اس لئے انہوں نے کہانی کو روایت سے ہٹ کر لیا۔ اب اصل کہانی جو لوگوں نے سنی ہوئی ہے وہ تو یہ ہے کہ جب میرا گاتی ہے تو محل کو آگ لگ جاتی ہے۔ اب گلزار نے اس معجزاتی کہانی سے ہٹ کر یہ کیا کہ میرا جہاں بیٹھ کر گا رہی ہے وہاں دیئے کسی زنجیر کے ساتھ لٹک رہے ہیں اور تیز ہوا بھی چل رہی ہے۔ چنانچہ کسی دیئے کا تیل چھلک کر لکڑی کے دروازے پر پڑ جاتا ہے جو آگ پکڑ لیتا ہے اور یوں محل کو آگ لگ جاتی ہے۔ یہ سائنٹیفک بات تھی اور اس میں بھگوان کا آگ لگانے میں عمل دخل نہیں تھا۔ چونکہ یہ بات روایت سے ہٹ کر تھی اسلئے لوگوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

اس کے علاوہ میرا بائی کے مشہور بھجن ہیں جن کی دھنیں پہلے سے بنی ہوئی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے:

اے ری میں تو پریم دیوانی میرا درد نہ جانے کو

اب اس کی ایک مانوس دھن ہے جو میں نے بھی بچپن میں سنی تھی اور بعد میں بھی جن لوگوں نے یہ بھجن گائے اس کی وہی مانوس دھن استعمال کی۔ لیکن گلزار نے ان سب کی دھنیں بدل دیں اور اب ان کی نئی دھنیں بنائیں۔ اس لئے فلم کا میوزک دیکھنے والوں کو بالکل متاثر نہ کر سکا۔ چنانچہ فلم کی کہانی میں عقلی موڑوں اور ان نئی دھنوں کو لوگوں نے پسند نہ کیا اور یہ فلم بھی رہ گئی۔

سننے کی حد تک یہ بات بھی آئی ہے کہ گلزار صاحب کی زندگی میں اس کے بعد بھی آگے چل کر رومانس کے کچھ مراحل آئے ہیں لیکن میں خود ابھی تک ان کی تصدیق یا تردید نہیں کرپایا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دھرمندر

مینا کماری کے حوالے سے جو ایک اور نام سامنے آتا ہے وہ دھرمندر کا ہے ۔ اثفاق سے دھرمیندر بھی بنیادی طور پر سردار ہیں مگر بالوں کے بغیر۔ یہ 1960 ء کے قریب نیا نیا نام رکھ کر بمبئی آئے ۔ یہ بہت جی دار اور بااصول ہیں۔ شروع میں ان کی کچھ فلمیں فیل ہوئیں لیکن یہ حوصلے سے آگے بڑھتے رہے۔ اب ان کی عمر کچھ بڑھ بھی گئی ہے۔ لیکن بظاہر زیادہ عمر کے لگتے نہیں ہیں۔ ان کا بیٹا بھی اب ہیرو بن چکا ہے لیکن اب بھی بیٹے سے زیادہ کامیابی ان کے قدم چوم رہی ہے۔

ان کی طرف سے شعر و شاعری کی سرپرستی کیے جانے کے بارے میں کئی داستانیں سننے میں آئی ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ایک محفل میں ایک گائیکہ میری غزل گا رہی تھیں تو انہوں نے خوش ہو کر اپنا سونے کا لاکٹ اتار کر گائیکہ کو دے دیا اور اسے مالا مال کر دیا۔ ان کی سخاوت کی اور لوگوں کی مدد کرنے کی اسی طرح کی اور بھی بہت سی داستانیں مشہور ہیں۔

میں جب بمبئی گیا تو دل میں ان سے ملنے کا خیال تھا۔ پتا چلا کہ وہ فلم ’’رضیہ سلطان ‘‘ کے سیٹ پر موجود ہیں ۔ میں نے کمال امروہوی صاحب سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے تصدیق کی چنانچہ میں ‘ میرا بیٹا نوید اور صابردت سیٹ پر پہنچے تو دیکھا کہ یہ غلام کا رول کر رہے تھے اور انہوں نے کالا میک اپ کیا ہوا تھا۔ عجیب بات ہے کہ انہوں نے دیکھتے ہی مجھے پہچان لیا۔ اسی دوران کمال صاحب نے جو ہمارے ساتھ تھے کہا کہ یہ قتیل صاحب ہیں۔ مجھے بڑے پیار سے ملے اور اس طرح گلے لگالیا جس طرح سالہا سال کے دوست ہوں ۔ پھر مجھ سے خیریت دریافت کی‘ کھانے پینے کاچھوٹا سا انتظام کیا اور پھر ایک ساتھ کچھ تصویریں ہوئیں۔

اس کے بعد ان ے دوبارہ ملاقات نہ ہو سکی۔ کیونکہ میں کچھ غیر ضروری دعوتوں میں الجھا ہوا تھا جبکہ وہ پہلے ہی سے فلموں کے سلسلے میں بہت مصروف تھے۔ لیکن بعد میں میرے دوست صابردست جنہوں نے وہاں سے قتیل شفائی نمبر نکالا ہے ‘ بتایا کہ میرے انڈیا سے چلے آنے کے بعد جب ان کی دھرمیندر سے ملاقات ہوئی تو اس میں یہ طے پایا کہ میں اب جب بمبئی جاؤں گا تو وہ اپنی فلموں کے گانے جس حد تک میں لکھ سکا مجھ سے لکھوائیں گے ۔ یہ 1979 ء کا واقعہ ہے ۔(جاری ہے)

قتیل شفائی کی آپ بیتی. . .قسط نمبر 54 پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

مزید : گھنگروٹوٹ گئے

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...