ہم امریکہ سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن اس کے سامنے جھک نہیں سکتے ،وزیر خارجہ کو ایران کا بھی دورہ کر نا چاہیے :شاہ محمود قریشی

ہم امریکہ سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن اس کے سامنے جھک نہیں سکتے ،وزیر خارجہ کو ...

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )تحریک انصاف کے رہنما اور سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان نے یک زبان ہو کر ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی کو مسترد کیا ،ہم امریکہ سے لڑنا نہیں چاہتے لیکن امریکہ کے سامنے جھک نہیں سکتے۔ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ نے اربوں ڈالر دینے کی بات کی ،معاشی ایکسپرٹ کہتے ہیں پاکستان کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 120ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔قومی اسمبلی میں ڈونلڈ ٹرمپ کی افغان پالیسی سے متعلق بحث کے دوران گفتگو کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ وزیر خارجہ نے چین ،روس اور ترکی جانے کا درست فیصلہ کیا لیکن چوہدری نثار سے اتفاق کروں گا کہ وزیر خارجہ کو ایران بھی جانا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ ایران جانے کی دو وجوہات ہیں ،پہلی یہ کے ان کا بارڈر بھی پاکستان کے بارڈر کی طرح افغانستان سے ملتا ہے اور دوسری بات یہ کہ ایران بھی طالبانائزیشن کے بارے میں رائے رکھتا ہے ،ایران کی اہمیت سے ہمیں انکار نہیں کرنا چاہیے ۔انہوں نے کہا کہ آج ٹرمپ نے ہم پر الزام لگا یا کہ ہم دہشت گردی کی پشت پناہی کر رہے ہیں لیکن اگر میں ہم معنوں میں دیکھیں تو دہشت گردی کا سب سے بڑا شکار ہم ہیں ،ہماری فوج ،پولیس اور شہریوں نے جانیں قربان کیں جبکہ پاکستان نے اس جنگ سے معاشی نقصان بھی اٹھا یا ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کہتے ہیں امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالر دئیے ،ہم شکر گزار ہیں لیکن آئیے بیٹھ کر حساب کریں کہ آپ نے کتنے پیسے دئیے اور ہم نے کتنے بھرے ۔معاشی ایکسپرٹ کہتے ہیں کہ ہمیں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 120ارب ڈالر کا نقصان ہوا ۔انہوں نے بتا یا کہ جب میں وزیر خارجہ تھا تو کولیشن سپورٹ فنڈ حاصل کرنے کے لیے کتنی دہائیاںدینی پڑتی تھیں لیکن امریکی اس امداد میں تاخیر کرتے تھے ۔

پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ امریکا داعش کا خاتمہ کرنا چاہتا ہے ہمیں اختلاف نہیں، مگر امریکا کو یہ کیوں دکھائی نہیں دیتا کہ ہم بھی افغانستان اور پاکستان کی طالبانائزیشن نہیں چاہتے، امریکا کی سیکیورٹی کانفرنس میں تسلیم کیا گیا پاکستان کاایٹمی کمانڈ، کنٹرول سسٹم بے مثال ہے۔ پاکستان نے دہشت گردوں کے خلاف 7 فوجی آپریشنز کیے مگر پاکستان کی بارڈر مینجمنٹ پالیسی پر امریکا پانی پھیرتا رہا، افغانستان میں ہزاروں ایکڑ پر منشیات کاشت ہوتی ہے کیا یہ پاکستان کاشت کراتا ہے، امریکا کو افغانستان میں دہشتگردوں کی پناہ گاہیں نظر نہیں آتیں، پاکستان میں رہنے والے لاکھوں افغان پناہ گزینوں کو دنیا کیا بھول گئی۔شاہ محمد قریشی نے کہا کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی نے بھی ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسی پر کہا ہے کہ اس سے امن نہیں آئے گا ،ڈونلڈ ٹرمپ کو پاکستان میں سیو ہیون دکھائی دیتی ہے ،افغانستان  میں کیو ں نہیں دکھائی دیتی ۔

مزید خبریں :مافیا دراصل کیا ہوتا ہے؟ معزز جج صاحبان جاننا چاہتے ہیں تو پاکستان میں ان کی اپنی عدالت کے سامنے وہنے والا یہ واقعہ ضرور پڑھ لیں

مزید : قومی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...