زمانے کے خداوند اور ہمارا کمانڈو

  زمانے کے خداوند اور ہمارا کمانڈو
  زمانے کے خداوند اور ہمارا کمانڈو

دنیا بدل رہی ہے ، دنیا بدل گئی ہے – کل تک خدائی کے دعوے دار اور اکھاڑے کے اکیلے علمبردار اپنے مقابل آج ایک پکار ، ایک پچھاڑ  سن رہے ہیں- مختلف محاذوں  پہ بر سرِ پیکار اپنے خلاف کچھ مزاحمت محسوس کر رہے ہیں – کل تک  جنہیں اپنی حکمرانی کا ناز تھا آج اپنے ہی ملک میں اپنے ہی  راج میں ڈگمگا رہے ہیں- روز ہوتے مظاہرے اور نسلی امتیاز کے لگتے نعرے بتا رہے ہیں کہ ہیں کچھ لوگ ہیں  جو زمانے کے اس خداوند کو للکار رہے ہیں-

شمالی سوشلسٹ کوریا کے سربراہ کم جونگ ان پچھلے چھ ماہ سے  صدرٹرمپ کا بہادری سے ترکی بہ ترکی جواب دے رہے ہیں- دنیا پہ گو اس وقت امریکی سامراج کا غلبہ ہے- سعودی عرب، اسرائیل،یو اے ای ، کویت ، اردن اور مصر میں موجود اس کے ہوائی اڈے سب کو بتا رہے ہیں کہ اس کی نظر سب پر ہے لیکن اگر زمینی حقائق دیکھے جائیں تو کریمیا یوکرائن سے الگ  اب رشین فیڈریشن کا حصہ ہے- چیچنیا میں امریکی جارحیت ناکام ہوچکی ہے- شام میں بشارت الاسد اب بھی تخت ِطاؤس پہ براجمان ہیں- یمن میں  امریکی پالیسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہوسکی ہے- ایران وینزویلا  کے داخلی معاملات میں امریکی  صدر ٹرمپ کی دخل اندازی  اور اشتعال انگیز بیانات کی خوب مذمت کر رہا ہے- شاید وہ ہمارے ہی کمانڈو حاکم تھے  جو ایک فون کال پہ ہی لیٹ گئے  ورنہ آج کے دور میں  ایسا قہر ڈھانا کہاں ممکن ہے جن قیامت کی گھڑیوں سے ہم گذرے ہیں-  کیا یہ امتحان اس امتحان سے کم تھا جس سے ہمیں ڈرا یادھمکا یا گیا تھا  اور اس  جنگ میں اتحادی بننے پہ مجبور کیا گیا تھا-جنوبی اور شمالی کوریا میں تلخیاں آج کی بات نہیں ہے- جب  1950ء  میں امریکہ نے کوریا پر  فوجی یلغار کی تھی تو  کیمونسٹ گوریلوں نے دنیا بھر سے آکراس جارحیت کا مقابلہ کیا تھا اور پھر 1953 ء میں شمالی اور جنوبی کوریا میں یہ طے پایا تھا کہ شمالی کوریا سے  کیمونسٹ گوریلے اور جنوب سے امریکن چلے جائیں  گے لیکن جنوبی کوریا میں اب بھی امریکی  فوجی اڈے موجود ہیں – جنوبی کوریا امریکہ کے ساتھ مل کر  فوجی مشقیں کر رہا ہے اور اس کا  جنگی بحری بیڑا  بھی  بھی سمندر  میں لنگر انداز ہے- امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے شمالی کوریا   پہ اقتصادی پابندیاں لگا رکھی ہیں- یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب تک  امریکی مفادات  خطرہ میں نہ ہوں اقوامِ متحدہ کسی مسئلہ کا حصہ نہیں بنتا – وہ بھی شمالی کوریا کے خلاف پابندیوں میں کود پڑا ہے- ان  عائد  درآمدی پابندیوں کی وجہ سے  شمالی کوریا کی لوہے اور سمندری  غذا کی ترسیل  بھی چین تک روک  دی گئی ہے جس سے شمالی کوریا  کو سالانہ ایک ارب ڈالر  کا نقصان اٹھانا پڑے گا-

بر طانیہ کسی جنگ کا حصہ نہیں بننا چاہتا – شمالی کوریا کے صدر کم جون ان نے کہا ہے کہ وہ بھی  گوام پہ حملہ نہیں کررہا لیکن شرط یہ ہے کہ  امریکہ  ہمارے سمندروں کے پاس جنگی مشقیں بند کردے اور جنوبی کوریا سے اپنے جنگی فوجی اڈے  ختم کردے- اس پر امریکی وزیرِ خارجہ  ریکس ٹیلر سن نے کہا ہے کہ  امریکی حکومت مذاکرات کے لئے تیار ہے مگر  مذاکرات کا دور   شروع کرنے میں کم جون  ان کی  طرف سے پیش قدمی ضروری ہے – ٹیلر سن نے یہ بھی کہا ہے کہ شمالی کوریا کو اپنا جوہری اور میزائیل کا پروگرام ترک کرنا ہو گا- یورپی یونین نے بھی  امریکہ اور شمالی کوریا  کے درمیان کشیدگی  کم کرانے کے لئے مصالحانہ کردار ادا کرنے کا  فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لئے خارجہ امور کے نمائندہ فیڈیریکا  مو گیرینی  کی قیادت میں ایک وفد تشکیل دیا ہے- برسلز میں ہوئے اس اجلاس کے بیانیے  میں  کہا گیا ہے کہ  امریکہ اور شمالی کوریا  کے درمیان کشیدگی میں کمی  اور خطے کو جوہری اسلحے سے مکمل طور پر پاک کرنے  کے لئے سفارتی کوششیں کی جائیں گی- روسی وزیر سر گئی لاروف اور ن کے چینی ہم منصب  وانگ زی نے بھی اس بات پہ زور دیا ہے کہ  امریکہ اور شمالی کوریا ایک دوسرے کو اشتعال دلانے والے بیانات اور اقدامات سے پرہیز کریں- شمالی کوریا کی جراءت نے یہ ثابت کردیا ہے کہ ہمیشہ  دھمکی آمیز لہجہ اور  پابندیوں کے خوف میں جھکڑ کر دوسروں کو مطیع رکھنے کا  وہ دور گذر گیا ہے – ایرانی صدر  حسن روحانی کے اس بیان نے تو  شاید دنیا کی سب طاقتوں کو متنبہ کر دیا ہے کہ  اگر امریکہ کی جانب سے پابندیاں لگانے کا یہ عمل جاری رہا تو تہران بھی  عالمی طاقتوں سے ہونے والے 2015ء  کے جوہری معاہدوں کی بندھی زنجیر سے آزاد ہو گا اور  ایران امریکہ تعلقات کا از سرِ نو اعادہ کرے گا- اب عالمی طاقتوں کو یہ سمجھنا ہوگا کہ ہر وقت طاقت کے نشے میں  جنگ و جدل کے ان  اطوار کو بدلنا ہوگا – کسی بھی باہمی مسئلے کا حل میدانِ جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کی میز ہے  - حاکم و محکوم  اور آقا و غلام کے رشتے تج گئے –

خداوندی کے دعوے داروں کو زمیں پہ آنا ہوگا اور برابری کی سطح پر ہی ہر فیصلہ کرنا ہوگا- گدلے پانی کا بہانہ بنا کر  دنیا کو ڈرانا دھمکانا اب کسی کے بھی حق میں بہتر نہیں – دنیا کا سکون چاہئے تو سب کو بساط بھر جینے دیجئے یہی ہے پیغام چھوٹے ممالک کا وقت کے فرعونوں  اور شہنشاہوں کو – خود ہی آگ لگاتے ہو اور جب سب کچھ جلتا ہے تو الزام ہمارے سر- آپ کی بھارت نواز پالیسی دشمن کی تعریفیں  اور ہماری قربانیاں  بھی بے وقعت کیسے منصف ہو- ہمارے حکمرانوں کو دو ٹوک فیصلہ کرنا ہوگا- کیا ہر دفعہ ہمارے دفترِ خارجہ کی بجائے چین ہی ہمارے موقف اور کردار کو دنیا میں پہنچائے گا- ہمیں  بھی چپ کا روزہ توڑنا ہوگا  ،خود ہمت کرنا ہوگی  ،خود اٹھنا ہوگا اور  ہمیں بد تہذیب کہنے والے کو بھی کوئی تہذیب سکھانا ہوگی- پھر جب  نیت صاف اور حاکمیت ِ اعلیٰ کا پرچم سربلند ہوگا  تو مدد ِخدا   بھی شاملِ حال ہوگی اور انشااللہ دنیا کے یہ نام نہاد  خدا ونداور نمرود اوندھے منہ  گریں گے  اور اپنے انجام کو پہنچیں گے  کیونکہ خدائے بزرگ و برتر   کے سامنے اپنی خدا ئی کے دعوے  دار ابلیس ہمیشہ ہی ذلیل و رسوا ہوئے ہیں-       

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...