بلوچستان کے بجھے ہوئے ستارے

بلوچستان کے بجھے ہوئے ستارے
بلوچستان کے بجھے ہوئے ستارے

جبری مشقت بلوچستان میں عام سی بات ہے، اس وقت پورے ملک میں آٹھ لاکھ سے زائد لوگوں سے جبری مشقت کے ساتھ کام لیا جاتا ہے جن میں بھٹہ مزدور، نوکر، ہاری اور کسان جبری مشقت کا حصہ ہیں۔ یہ لوگ آزادانہ نقل و حرکت ، تعلیم اور صحت کی سہولیات جیسے حقوق سے محروم ہیں۔اس وقت پاکستان میں اینٹوں کے بھٹوں پر کام کرنے والے تین لاکھ کے قریب خاندان بھی اسی زمرے میں آتے ہیں ۔ سرکار کی جانب سے بھٹوں کو صنعت کا درجہ تو دیدیا گیا ہے لیکن ان کے مزدوروں کو صنعتی آجر کا درجہ نہیں دیا گیا ۔اس ملک میں جبری مشقت کا خاتمہ کرنے کیلئے موجودہ قوانین میں ترمیم کی اشد ضرورت ہے۔ تاکہ غلام مزدور کے بچوں سے جبری مشقت اور دیگر صورتوں کو روکا جاسکے۔

بلوچستان کی مارکیٹ میں اس وقت بھٹہ مزدوروں کی سخت کمی کا سامنا ہے اوربھٹہ مالکان کو ہر وقت ایسے کاریگروں کی کمی کا سامنا رہتا ہے جو اچھی اینٹ بنا سکیں اور مارکیٹ میں اس اینٹ کا اچھا ریٹ بھی ملے اسلئے بلوچستان کے بھٹہ مالکان نے سندھ سے زر خرید بھٹہ مستری بھی بلوچستان بلا لیئے جاتے ہیں جن کو دو لاکھ سے تین لاکھ ایڈوانس دیکر بلوچستان کی سر زمیں پہ کام کرنے کیلئے اتارا جاتاہے۔ یہ لوگ اپنے کام میں مہارت رکھتے ہیں اور اپنا کام احسن طریقے سے سر انجام دیتے ہوئے اپنے اپنے قرضہ جات چھ ماہ سے ایک سال کے اندر اتار دیتے ہیں پھر دیہاڑی کے حساب سے کام شروع کر دیتے ہیں۔

بھٹہ کے مالکان کو اس وقت بلوچستان میں فی ہزار پکے اینٹ کی قیمت پانچ ہزار سے دس ہزار تک مارکیٹ میں ملتے ہیں مگر مزدور کو فی ہزار کچے اینٹ کے چھ سو سے آٹھ سو روپے بھٹہ مالکان کی طرف سے اجرت دی جاتی ہے۔ ایک ہزار اینٹ بنانے میں دو سے تین لوگ مدد کرتے ہیں۔ جبکہ بھٹہ مزدور کے بچے کی بالغ اور جوان ہونے کی نشانی یہی ہے کہ اس کے بیٹے نے اینٹ کا سانچہ چلانا سیکھ لیا ہوتاہے۔ بھٹہ مزدور کے یہ بچے ان پڑھ رہ رہتے اور ان کے مقدر کا ستارہ کبھی روشن نہیں ہوتا۔بھٹہ مزدوروں کا جو بچہ سانچے میں خود اینٹ بنانے کے قابل ہو جائے اس کو جوان تصوّر کر لیا جاتا ہے اور اس کی فوراً شادی کر دی جاتی ہے۔ اس روز اس کا بھٹے پہ الگ سے اکاؤنٹ کھل جاتا ہے اور وہ برسر روزگار ہو جاتا ہے۔ اس طرح اینٹ بنانے کا سانچہ بھی اس بچے کو الگ سے دیا جاتا اور اس کوروزانہ ایک ہزار اینٹ بنانے کا ہدف دے دیا جاتا ہے ۔

آج تک بلوچستان میں مزدوروں کو گورنمنٹ کے مقرر کردہ اجرت نہیں دی گئی ۔حکومت بلوچستان نے بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کو سکول داخل کروانے کے لئے جو دو ہزار روپے فی بچہ دینے کا اعلان کیا ہے وہ ایک کاغذی اعلان ہے جو باعث عبرت ہے جبکہ بلوچستان میں بھٹہ پر کام کرنے کا پہلا اصول ہے کہ آپ جتنا کام کرو گے آپ کو اتنی ہی زیادہ اجرت ملے گی ۔ بھٹے میں جس دن آگ سلگائی جاتی ہے اس روز بھٹہ مزدور سب سے زیادہ خوش ہوتے ہیں۔ اس وقت ان کو پتا لگتا ہے کہ اب ہمارے گھر پیسے آئیں گے اور اچھا کھانا کھانے کو ملے گا اور گھر میں نئے کپڑے آئیں گے۔ گویا ان کے گھر خوشیاں آنے والی ہیں۔ حکومت بلوچستان کو چاہیے کہ ان بھٹہ پر کام کرنے والے بچوں کی زندگی پہ خصوصی توجہ دیتاکہ باقی بچوں کی طرح ان کو بھی زندگی میں ترقی کرنے کے مواقع حاصل ہوسکیں ۔وہ پاکستان کا روشن ستارہ بن سکیں۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...