سفارت کاری،ضرب کاری

سفارت کاری،ضرب کاری
سفارت کاری،ضرب کاری

  

چین اور بھارت کے درمیان دو تین ماہ سے چلنے وا لا معاملہ خوش ا سلوبی سے طے پا گیا ہے۔ جس کے لئے دونوں فریقین مبارکباد کے مستحق ہیں۔ ہم نے کئی بار اپنے کا لموں کے ذریعے اِس بات کا ا عادہ کیا ہے کہ مسائل کو حل کرنے کے لئے جنگوں کی نہیں بلکہ مُفاہمت کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ جنگوں سے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔ متحارب مُلکوں کی ترقی رُک جاتی ہے۔ اقتصادی طور پر شدید نُقصان ہوتا ہے۔ ہزاروں جانیں جنگ میں ہلاک ہو جاتی ہیں۔ لاکھوں لوگوں جنگ کی وجہ سے بے روزگار ہو جاتے ہیں۔ نقل مکانی کی وجہ سے کئی دوسرے مسائل جنم لیتے ہیں۔ مُلک کے عوام کی بہبود پر خرچ ہونے وا لی رقم جنگ کے لئے اسلحہ خریدینے پر صرف ہو جاتی ہے۔ مرنے والے لوگوں کے وارثین کے لئے اقتصادی مسائل پیدا ہو جاتے ہیں۔۔ مہنگائی کا افراط زیادہ قوت کے ساتھ اُبھر کر سامنے آتا ہے۔ جنگ میں کسی فریق کی بھی جیت نہیں ہو تی بلکہ فریقین مالی، اقتصادی اور اخلاقی طور پر شکست کھا تے ہیں۔ ہم نے دیکھا ہے کہ جنگوں کے بعد بھی مفاہمت کے ذریعے ہی مُلکوں کے درمیان امن قائم کیا جاتا ہے۔ بعد از بسیار خرابی، امن کے لئے مذاکرات کرنا شائد اتنا فائدے مند نہیں ہوتا۔ اِس لئے بہتر یہی ہے کہ فریقین عقلمندی اور سمجھداری کے ساتھ اپنے مسائل کو افہام و تفہیم کے ساتھ طے کریں۔ آخر کار سفارتکاری کرنے کا مقصد کیا ہے؟۔

سفارتکاری کا مطلب بھی یہی ہے کہ سفارتکار مشکل سے مشکل مسئلہ کا حل بھی گُفت و شنید سے نکال لینے میں مہارت رکھتے ہیں۔ بھار ت اور چین کے درمیاں تنازعہ بھی اِسی لئے پیدا ہوا کہ بھارت نے سفارکاری کو اہمیت دینے کے بجائے فوجی ذریعے کے استعمال سے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی، جو کہ بھارت کی سرکار کی ایک سیاسی غلطی تھی۔

اگر چین اور بھارت کے درمیاں حائل مسئلہ کو غیر جانبداری سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ چین اور بھارت کے اِس مسئلہ پر بھار ت کا موقف درُست نہیں تھا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ ڈوکلام کا علاقہ بھار ت کی سر حد سے مُنسلک نہیں بلکہ یہ علاقہ بھوٹاں اور چین کی مشترکہ سر حد سے مُلحق ہے۔ چین اپنے علاقے کے اندر سڑک تعمیر کرنے میں مُصروف ہے۔ سٹرک کی تعمیر کو روکنے کے لئے بھارت نے اپنی فوج ڈوکلام کے علاقے میں بھیجنے کا فیصلہ کیا۔اس کے ساتھ ہی چین کو سٹرک کی تعمیر روکنے کے لئے کہا۔ بھارت کے کہنے کا انداز نہایت ہی غیر مہذب تھا۔ جس سے چین کی قیادت کا خفا ہونا لازمی تھا۔ بھارت کا غیر پارلیمانی زُبان میں چین کو عندیہ دینا سیاسی اور سفارتی اعتبار سے غیرسنجیدہ تھا۔ بھارت کے حکام کے بیانات یہ تا ثر دے رہے تھے کہ بھارت چین سے ہرگز خائف نہیں۔ بلکہ بھارت چین سے ۱۹۶۲ کی جنگ کا بدلہ لینے کے لئے با لکُل تیار ہے۔جس سے چین کے عوام کے دلوں میں بھی بھارت کے خلا ف غم و غصے کا اظہار ہونے لگا۔ چین کے حکام نے نے اپنی طاقت کے اظہار کے لئے بھارت کیساتھ ویسا ہی کڑا سلوک جاری رکھا۔ جس سے حالات دِن بدن بگڑنے لگے۔ لہجوں کی تُندی اور اناؤں کے ٹکر اؤنے مسائل کو مزید اُلجھا دیا۔ دونوں طرف سے جنگی تیاریاں کی جانے لگیں۔ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ دنوں ممالک کے درمیان بوجوہ اچھے تعلقات کی اُمید رکھنا عبث ہے۔ کیونکہ دونوں ممالک نے سفارتکاری پر جنگی حل کو تر جیح دنے کے ٹھان لی ہے۔ تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ بھارت نے حالات کا ادراک کرتے ہوئے ڈوکلام سے ا پنی فوجیں بُلانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جس سے یہ اُمید پید اہو گئی ہے کہ دونوں ممالک نے مسئلہ کو فوجی اعتبار سے حل کرنے کی بجائے مفاہمت کے ساتھ حل کرنے میں ہی عافیت سجھی ہے۔ ایسے مسائل کو حل کرنے کے لئے سفارتکاری کو ہی پہلا موقعہ دیا جانا چاہئے۔

کاش پاکستان اور بھارت اپنے مسائل کو حل کرنے کے لئے اِس باہمی ضرورت کو اہم سمجھ سکیں اور جنگیں لڑنے کے بجائے، افلاس، بیماری، تنگ دستی اور بیروزگاری کے خلاف ا پنے اپنے مُلکوں میں محاذ کھولیں۔ باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے ذریعے اپنے مسائل کو طے کریں۔نیتوں میں اخلاص ہو تو کوئی مسئلہ بھی نا قا بلِ حل نہیں ہے۔

.

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ