والدین کی مرضی سے شادی کرنے والی لڑکیوں کیلئے پاکستانی لڑکی نے انتہائی دلچسپ گیم متعارف کروا دی

والدین کی مرضی سے شادی کرنے والی لڑکیوں کیلئے پاکستانی لڑکی نے انتہائی دلچسپ ...
والدین کی مرضی سے شادی کرنے والی لڑکیوں کیلئے پاکستانی لڑکی نے انتہائی دلچسپ گیم متعارف کروا دی

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )نشارا بالاگم والا صرف 18سال کی تھیں جب ان کی فیملی نے ان پر ایرینج میریج کیلئے دباﺅ ڈالنا شروع کر دیا گیا ،تاہم پانچ سال کی کڑی محنت کے بعد وہ کسی طرح اس سے باہر نکلنے میں کامیاب ہو گئی ۔

تفصیلات کے مطابق نشارا نے روڈ آئی لینڈ سکول آف ڈیزائنز سے گریجوایشن کر رکھی ہے اور وہ گیم بنانے والی کمپنی ’جائنٹ ہسبرو ‘کیلئے کام بھی کرتی ہیں ۔وہ 24سال کی تھیں جب ان کے ذہن میں’ ایرینجڈ‘''Arranged!" نامی گیم بنانے کا منصوبہ آیا ،انہو ں نے منظم شادی کے امکانات صاف کرنے کیلئے جن چیزوں کا استعمال کیا انہیں ترتیب سے لکھ دیااور ان تمام تجربوں کو انہوں نے گیم کی شکل میں ڈھال دیاہے ۔جیسا کہ جعلی منگنی کی انگوٹھیاں پہننا ،عوامی مقامات پر لڑکوں کے ساتھ چلتے پھرتے دیکھے جانا ۔

نشارا کا کہناتھا کہ یہ گیم حقیقت میں ایرینجڈ میرج کے دباﺅ کو کم کرنے میں بہت ہی مددگار ثابت ہوئی ہے ،ان کا کہناتھا کہ میں نے اس مسئلے پر آواز اٹھائی ہے جس سے پاکستانی لڑکیاں بہت زیادہ پریشان رہتی ہیں ۔یہ بورڈ گیم ہے جس میں تین لڑکیاں کھلاڑی ہوتی ہیں ،اس گیم کا مقصد ہے کہ اس میں آپ نے ’رشتہ کروانے والی آنٹیوں ‘سے بچنا ہوتاہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان اور بھارت میں عمومی طو رپر اس جدید زمانے میں بھی والدین بچوں کی شادیوں کیلئے ’رشتے والی آنٹیوں یا پھر میرج بیوروو ‘کی مدد حاصل کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب بچوں کو اچھی تعلیم بھی دلواتے ہیں ،پڑھے لکھے اور شعور رکھنے والے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں عمومی طو رپر اپنی پسندسے شادی کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن کئی فیملیز کی روایات انہیں یہ اجازت نہیں دیتی جس کے باعث نہیں اپنی والدین کی مرضی کے مطابق ایرینج میریج ہی کرنا پڑتی ہے ۔

مزیدپڑھیں:وہ پاکستانی جو حج کرنے سعودی عرب نہ جاسکے ان کے لئے سعودی حکومت نے سب سے شاندار سروس متعارف کرادی

گیم میں شامل کارڈز کی کمانڈز ہیں کہ ’اگر آپ اپنا کیریئر آگے بڑھانا چاہتی ہیں تو چار قدم آگے چلئے ‘،جو کہ گیم میں آپ کو رشتہ کروانے والوں سے دو رے لے جائیں گی ۔لیکن اس میں اصل مقصد اردگرد میں منظم شادی کے نظام کے بارے میں آگاہی پھیلانا اور بات چیت شروع کرواناہے ۔

ان کا کہناتھا کہ شروع شروع میں جب لڑکیاں اس گیم کو صرف مزہ کرنے کیلئے کھیلتی ہیں لیکن جوں جوں وہ اسے کھیلتی جاتی ہیں انہیں ان میں چھپے اصل مسائل کی سمجھ آنا شرو ع ہو جاتی ہے اور وہ پھر اس پر بات کرنا چاہتی ہیں اور اس کیخلاف آواز اٹھاتی ہیں۔ان کا کہناتھا کہ ان کی اس گیم کو بہت اچھا رسپانس ملاہے اور جبکہ مجھے اس پر پاکستان سمیت بھارتیوں لڑکیوں کی جانب سے سراہا گیاہے کہ میں نے اس مقصد کیلئے آواز اٹھائی ۔

مزید : ڈیلی بائیٹس

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...