والد کی شخصیت بیٹیوں کی زندگی اور شخصیت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے :امریکی ماہرین نفسیات

والد کی شخصیت بیٹیوں کی زندگی اور شخصیت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے ...
والد کی شخصیت بیٹیوں کی زندگی اور شخصیت پر انتہائی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے :امریکی ماہرین نفسیات

  

نیویارک( ڈیلی پاکستان آن لائن) امریکا کے بچوں کی پرورش اور نفسیات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ گھر میں والد کا کردار ایک ’خاموش اور بے عمل‘ شخص کے طور پر سمجھا جاتا ہے لیکن بیٹیوں کے معاملے میں ایسا نہیں والد کا رویہ بیٹیوں کی زندگی اور ترجیحات کا تعین کرتا ہے اور نفسیاتی طور پر ابتدائی عمر سے ہی والد اور بیٹی کے درمیان ایک اہم بندھن قائم ہو جاتا ہےجو  آنے والی زندگی میں بیٹی کی زندگی پر گہرے اثرات مرتب کرتا ہے ۔

تفصیلات  کے مطابق’’ جرنل آف نارتھ امریکن سائیکالوجی‘‘  نے ایک نئی تحقیق کی جس کے مطابق نفسیاتی طور پر ابتدائی عمر میں بیٹیوں اور والدکے درمیان ایک اہم بندھن قائم ہو جاتا ہے۔ والد بچیوں کو دنیا سے آگاہ کرنے اور ان کی اچھی تربیت کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں اور بچیاں بھی اپنے باپ کو پرورش ، محبت، نگہداشت اور باہمی احترام کا اہم مرکزسمجھتی  ہیں ۔ماہرین کہتے ہیں کہ والد کی شفقت بچیوں میں غربت کا احساس بھی کم کرتی ہے، جب وہ سکول جانے لگیں تو ان کی جسمانی، نفسیاتی اور سماجی صحت کے متعلق والد کا کردار مزید اہم ہو جاتا ہے ، جس سے وہ اپنے احساسات کو بہتر انداز میں بیان کرنے کی اہل ہو جاتی ہیں۔سائنسی تحقیق ان تمام باتوں پر مہر ثبت کرتی نظر آتی ہے کہ  نوعمر لڑکیاں اپنے والد کی آغوش اور گرم جوشی کے رویے سے روزمرہ زندگی کے مسائل جھیلنے اور تناؤ سے باہر نکلنے میں زیادہ کامیاب رہتی ہیں،  اسی طرح وہ اپنے احساسات کو بہتر انداز میں بیان کرنے کی اہل ہو جاتی ہیں۔تحقیق کے مطابق نوعمری سے نوجوانی تک کے سفر میں بھی والد کا کردار اہم ہوتا ہے، اگر اس مرحلے پر باپ محبت اور خیال کرنے والا ہو تو لڑکیوں کی خود اعتمادی آسمانوں پر ہوتی ہے اور شدید مصائب میں بھی وہ ثابت قدم رہتی ہیں، باپ کا کردار لڑکیوں کی کالج اور اس سے اوپر کی سطح کی تعلیم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔تحقیق سے یہ بھی ظاہر ہوا ہے کہ جو بچیاں والد کے زیادہ قریب ہوتی ہیں وہ شادی کے بعد مضبوط اعصاب کی ماں ثابت ہوتی ہیں،جب کوئی لڑکی خودمختار ہوکر اپنے گھر سے باہر نکلتی ہے تو اس موقع پر والد کا مشاورتی کردار بھی اہم ہوتا ہے،  اسی لیے ماہرین کا مشورہ ہے کہ والد گھر میں خاموش کردار کے بجائے آگے بڑھ کر بیٹیوں کی پرورش میں اپنا سرگرم حصہ لیں۔

مزید : تعلیم و صحت