بھارتی میڈیا نے گرو رام رحیم کے بعد اب ایک اور بلاتکاری سادھو ’’آسا رام باپو ‘‘ کا شکنجہ کسنے کا فیصلہ کر لیا ، جنسی زیادتی کی شکار متاثرہ خاتون نے انڈین سپریم کورٹ سے امیدیں باندھ لیں

بھارتی میڈیا نے گرو رام رحیم کے بعد اب ایک اور بلاتکاری سادھو ’’آسا رام باپو ...

نئی دہلی(ڈیلی پاکستان آن لائن)بھارتی ریاست ہریانہ میں ’’سچا سودا ‘‘ کے سربراہ گورو رام رحیم سنگھ  کو ریپ کیس میں 20سال کی سزا ملنے کے بعد جنسی زیادتی کے ایک اور کیس میں جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی گذارنے والےسادھو  بابا ’’آسا رام باپو ‘‘ کے معاملے میں بھی متاثرہ خاندان کو انصاف کی امید بندھی ہے جبکہ سپریم کورٹ نے بھی کیس میں ہونے والی تاخیر پر گجرات حکومت کی سخت کھنچائی کی ہے ۔دوسری طرف اس کیس میں جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی لڑکی کے والد نے کہا ہے کہ گرو رام رحیم کو ملنے والی 20سال کی سزا کم ہے ایسے ’’بلاتکاریوں ‘‘ کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے تاکہ ان ’’مذہبی ناسوروں ‘‘ کو ملنے والی سزا معاشرے کے لئے عبرت کا سامان ہو ۔سچا سودا کے سربراہ کو ملنے والی سزا کے بعد اب  بھارتی میڈیا نے ہندوستانی ریاست گجرات کے مشہور آشرم کے سادھو بابا ’’آسا رام ‘‘ کو نوجوان خاتون سے جنسی زیادتی کے الزام میں کیفر کردار تک پہنچانے کے لئے کمر کستے ہوئے اس کیس کو بھی اپنی خصوصی ٹرانسمیشن کا حصہ بنا لیا ہے ۔

بھارتی نجی ٹی وی چینل ’’این ڈی ٹی وی ‘‘ کے مطابق گرو رام رحیم کوریپ کیس میں ملنے والی 20سال کی سزا کے بعد اب ہندوستانی ریاست گجرات کے مشہور سادھو ’’آسا رام باپو ‘‘ جو جنسی زیادتی کے ایک کیس میں گذشتہ 4سال سے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ،کہ کیس میں بھی اب نیا موڑ آ گیا ہے جبکہ جنسی زیادتی کا شکار ہونے والی خاتون اور اس کے گھر والوں کو بھی انصاف کی امید بندھ گئی ہے ،دوسری طرف بھارتی سپریم کورٹ نے بھی جیل میں بند پر’’ آسارام باپو ‘‘ کے خلاف آبروریزی کے معاملے کی سماعت میں تاخیر پر گجرات حکومت کو آج سخت پھٹکار لگاتے ہوئے حکومتی وکیل سے سوال کیا ہے کہ اس کیس میں حکومت نے متاثرہ خاتون سے رابطہ کیو ں نہیں کیا اور ابھی تک اس سے کیس کی بابت پوچھ گچھ کیوں نہیں کی گئی ؟سپریم کورٹ نے ریاستی حکومت کے وکیل سے اس تناظر میں ایک حلف نامہ دائر کرنے کو بھی کہا تھا۔ اس سے پہلے اپریل میں اس وقت کے چیف جسٹس جے ایس کیہر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑ اور جسٹس سنجے کشن کول پر مشتمل  تین رکنی بنچ نے نچلی عدالت کو ہدایت دی تھی کہ وہ اس کیس کی سماعت میں تیزی لائے،تین رکنی لارجر بنچ نے کہا تھا کہ نچلی عدالت کو ہدایت دی جاتی ہے کہ وہ گواہوں سے پوچھ گچھ کاکام جلد از جلد کرے۔واضح رہے کہ اس کیس میں جودھپور پولیس نے آسا رام کو تین اگست 2013 ء کو گرفتار کیا تھا اور اس وقت سے وہ جیل میں بند ہیں۔

یاد رہے کہ سورت کی ایک خاتون نے الزام لگایا تھا کہ آسارام نے 1997ء سے لے کر 2006ء تک اس کی آبروریزی کی تھی، اس دوران وہ احمد آباد شہر میں واقع آشرم میں رہ رہی تھی، اس جنسی زیادتی کے سنگین واقعہ کے منظر عام پر آنے کے بعد بھارت بھر میں آسا رام کے خلاف احتجاج شروع ہوا تھا لیکن طاقتور سادھو بابا کی دہشت تھی کہ کئی سال گذرنے کے بعد بھی یہ کیس جوں کا توں ہے اور جیل میں بھی سادھو بابا کی عیاشیاں اور پروٹوکول جاری ہے ۔

دوسری طرف سچا سودا کے سربراہ گرو رام رحیم کو ملنے والی 20سال سزا کے بعد ’’این ڈی ٹی وی‘‘سے گفتگو کرتے ہوئے متاثرہ خاتون کے باپ کا کہنا تھا کہ گرمیت رام کو ملنے والی سزاکے بعد انہیں بھی امید بندھی ہے کہ ان کے مجرم کو بھی کڑی سزا ملے گی جبکہ اس کے بقول گرمیت رام کو ملنے والی 20سال کی سزا اس سنگین جرم میں انتہائی کم ہے اسے اور آسا رام کو پھانسی کی سزا ملنی چاہئے تاکہ معاشرے کے لئے عبرت کا سامان پیدا ہو ۔انہوں نے کہا کہ آسا رام جان بوجھ کر اس کیس کی کارروائی کو آگے نہیں بڑھنے دے رہا ،اس کے وکیل عدالت میں پیش ہو کر تاریخ پر تاریخ لے لیتے ہیں اور عدالت بھی ہر مرتبہ نئی تاریخ دے دیتی ہے جس سے بھارت میں انصاف کے متلاشیوں میں مایوسی کی فضا قائم ہو رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ایسے کیسوں میں ہزاروں لڑکیاں ایسی ہیں جو عدالتی نظام انصاف سے مایوس ہو کر کیس ہی رجسٹرڈ نہیں کراتیں اور اپنے اوپر ہونے والے ظلم پر خاموشی اختیار کر لیتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی سادھو انتہائی طاقتور ہیں ،میری بچی کے کیس میں بھی آسا رام نے گواہوں کو چن چن کر قتل کرا دیا اور کئی لوگ لاپتا ہو گئے جن کے بارے میں ابھی تک پتا نہیں چل سکا کہ وہ کہاں ہیں ؟اب گرو رام رحیم سنگھ کے فیصلے کے بعد ایک امید جاگی ہے کہ شائد اب عدالت میری بیٹی کی عزت لوٹنے والے اس طاقتور سادھو کو پھانسی کی سزا سنائے گی ۔

مزید : بین الاقوامی

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...