مردم شماری نتائج، کئی اضلاع میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے

مردم شماری نتائج، کئی اضلاع میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے
مردم شماری نتائج، کئی اضلاع میں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ ہے

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

اسلام آباد (ویب ڈیسک ) چھٹی مردم شماری 2017 کے نتائج کے مطابق ملک میں مردوں کی تعداد خواتین سے زیادہ ہے اور 105 مردوں کے مقابلے میں خواتین کی شرح 100 ہے لیکن ایسے بہت سے اضلاع ہیں جہاں خواتین کی شرح مردوں سے زیادہ ہیں، ضلع ہنگو میں 100 خواتین کے مقابلے میں 92 مرد، ضلع چکوال میں 93 اور گجرات میں 94 مرد ہیں، ضلع ہنگو میں خواتین کی تعداد دو لاکھ 69 ہزار 237 اور مرد حضرات کی تعداد دو لاکھ 49 ہزار 554 ہے، چکوال میں 7 لاکھ 71 ہزار 744 خواتین اور 7 لاکھ 24 ہزار 205 مرد ہیں، گجرات میں 14 لاکھ 20 ہزار 628 خواتین اور 13 لاکھ 35 ہزار 339 مرد ہیں، ضلع منڈی بہاﺅالدین میں 100 خواتین کے مقابلے میں مردوں کی شرح 95 ، جہلم ، اپردیر اور نارووال میں 97 ، لوئر دیر، کرک، گوجرانوالہ او سیالکوٹ میں 98 ، ضلع اٹک ، خوشاب ، بونیر ، مانسہرہ اور ہری پور میں 99 ہے ،جبکہ مردوں کے مقابلے میں خواتین کی شرح کے لحاظ سے بلوچستان کا ضلع شیرانی ایسا ضلع ہے جہاں مردوں کی تعداد خواتین کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے ، 125 مردوں کے مقابلے میں 100 خواتین ہیں، مردوں کی تعداد 84 ہزار 994 اور خواتین کی 68 ہزار 115 ہے ، دوسرے نمبر پر ضلع کیچ ہے جہاں 119 مردوں کے مقابلے میں 100خواتین اور ضلع ڑوب میں 118 مردوں کے مقابلے میں 100 خواتین ہیں، ضلع موسیٰ خیل، مکران میں 117 ، گوادر 116 ، تھرپار کر اور ہرنائی 115 ، ضلع کچھی 114 ، قلعہ سیف اللہ میں 113 ، سبی 112 مردوں کے مقابلے میں 100 خواتین ہیں ، مردم شماری کے اعدادو شمار کے مطابق 1998 سے 2017 کے دوران ملک میں مجموعی طورپر آبادی میں اضافے کی اوسط شرح 4.2 فیصد رہی جبکہ بعض اضلاع میں 1998 کے مقابلے میں آبادی میں کمی آئی ہے سب سے زیادہ آبادی کی شرح میں کمی ضلع لوئر دیر کے شہری علاقے میں منفی 49 فیصد رہی ، ضلع آوار ان منفی 34 ، ضلع تور غرمنفی 10 ، شمالی وزیرستان کے شہری علاقے میں منفی 63.1 اور جھل مگسی کے شہری علاقے میں شرح نمو 18.0 فیصد رہی ان علاقوں میں آبادی میں کمی آئی اور جن اضلاع میں آبادکی اوسط شرح میں سب سے زیادہ اضافہ ہوا۔ ان میں ضلع کوئٹہ کا دیہی علاقہ سر فہرست ہے جہاں آبادی بڑھنے کی شرح 96.9 فیصد، زیارت کے شہری علاقے میں 21.9 فیصد، کراچی وسطی کے دیہی علاقے میں 34.7فیصد ، لکی مروت کے فرنٹیئر ریجن میں 22.7 ، اسلام آباد کے دیہی علاقے میں 95.6 فیصد اور ملیر کراچی کے دیہی علاقے میں آبادی بڑھنے کی اوسط شرح 08.5 فیصد رہی۔

مزید : اسلام آباد