ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گجرات خود لاعلاج

ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال گجرات خود لاعلاج

ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر عزیز بھٹی شہید ٹیچنگ ہسپتال میں سیاسی بھرتیوں ‘ ڈاکٹرز اور عملے کی طرف سے مریضوں کیساتھ بد اخلاقی‘ صفائی کا ناقص نظام ‘ ادویات کی قلت ‘ مشینری کی خرابی جیسے معاملات نے ہسپتال کو مسائلستان میں تبدیل کر کے رکھ دیا گجرات شہر کے اکلوتے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں ناتجربہ انتظامیہ ‘ اور ماتحت عملے میں کوارڈینیشن کے فقدان کے باعث مریضوں کو سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ضلعی انتظامیہ اور محکمہ صحت نے اس صورتحال پر آنکھیں موندرکھی ہیں میڈیکل سپرٹینڈنٹ ڈاکٹر عابد غوری صورتحال کے تدارک اور بگڑے ہوئے معاملات کو درست کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتے ہیں ہسپتال کا بند سیوریج سسٹم سب سے بڑا مسئلہ ہے سیوریج کی بندش نہ صرف گندا پانی ہسپتال میں کھڑا رہتا ہے بلکہ مچھروں کی افزائش کا سبب بن رہا ہے گندگی کے ڈھیر صفائی کا ناقص نظام ہسپتال انتظامیہ کی کارکردگی کا منہ چڑاتا ہے ہسپتال کے ہاسٹل میں مقیم ڈاکٹرز اور لیڈی ڈاکٹرز بھی صورتحال سے سخت پریشان ہیں ڈاکٹرز ‘ پیرامیڈیکل سٹاف اور عملے کی طرف سے مریضوں کے ساتھ ناروا سلوک کی شکایات عام ہیں تو ڈیوٹی روسٹر پر جھگڑے بھی معمول بن چکے ہیں ‘آلات اور مشینری کی خرابی ‘ واٹر فلٹرپلانٹس کی عدم صفائی ‘آپریشن تھیٹر میں قدیم آلات جراحی اور خراب مشینیں ہسپتال کی کارکردگی پر کئی سوالات اٹھا رہی ہیں کروڑوں روپے کے فنڈز کے باوجود ہسپتال کی حالت زار انتہائی افسوسناک ہے ہسپتال میں نصب سیوریج پائپ بوسیدہ ہونے کے باعث جگہ جگہ سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں ‘ واٹر سپلائی کا پانی کسی بھی طرح پینے کے قابل نہیں فلٹرپلانٹس کی سال ہا سال سے صفائی نہیں ہوئی جس کے باعث لوگ گندا پانی پینے پر مجبور ہیں مریضوں ‘ اور سماجی حلقوں کا ماننا ہے کہ ہسپتال میں سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اور بے جا سیاسی مداخلت نے ہسپتال کے نظام کو تباہ کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے ٹیچنگ ہسپتال کا درجہ ملنے کے بعد عزیز بھٹی شہید ہسپتال کے مریضوں کی تعداد میں جہاں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے وہیں مسائل کا انبار بھی بڑھتا جا رہا ہے ایک بیڈ پر دو سے تین مریضوں کو اکٹھے لیٹنا پڑتا ہے مختلف شعبہ جات میں پروفیسروں اور عملے کی کمی بھی سنگین مسائل کو جنم دے رہی ہے ریڈیالوجی ڈیپارٹمنٹ میں ایک ڈاکٹر موجود ہے جوبیشتر اوقات چھٹی پر ہونے کے باعث مریضوں کو اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس فکلیٹی کو چلانے کیلئے دس سے بارہ ڈاکٹرز و عملہ کا درکار ہے مگر میڈیکل کالج اس کمی کو پورا کرنے میں ناکام ہے میڈیکل کالجز سے فارغ ہونے والے طالبعلموں کو ہاؤس جاب کیلئے بھی پاپڑ بیلنا پڑتے ہیں آپریشن تھیٹروں میں جدید مشینری اور جدید آلات جراحی کی فراہمی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے تاکہ آپریشن کیلئے مریضوں کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے میڈیکل کالج کے بے اختیار پرنسپل کی ڈوریں بھی گجرات یونیورسٹی سے ہلائی جاتی ہیں وہ یونیورسٹی حکام کی مرضی کے بغیر ایک ڈیلی ویجز ملازم بھی بھرتی نہیں کر سکتے جس کی وجہ سے پی جی ایس ڈاکٹرز مشکلات کا شکار ہیں پرنسپل کے عدم تعاون اور ڈاکٹرز کے ساتھ مسلسل زیادتیوں کے باعث ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن اور پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ایم ایس کیخلاف احتجاج کا لائحہ عمل تیار کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں عید سے قبل دونوں تنظیموں کے رہنماؤں نے اجلاس منعقد کیے جہاں صورتحال پرتفصیلی تبادلہ خیال اور لائحہ عمل مرتب کیا گیا ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب کی نئی حکومت ہسپتال میں ہونیوالی سیاسی بھرتیوں ‘ بے جا سیاسی مداخلت ‘ڈاکٹرز اور عملے کی غیر ذمہ داریوں کا فی الفورنوٹس لیتے ہوئے مریضوں کو ہر ممکنہ سہولیات کی فراہمی یقینی بنائے ۔

مزید : ایڈیشن 2