برسات کی بیماریوں سے محفوظ رہیے!

برسات کی بیماریوں سے محفوظ رہیے!

موسم برسات کو عام طور پر گندا موسم سمجھا جاتا ہے‘ موسم اپنی آب و ہوا کی ظاہر خوشگواری کے باوجود صحت انسانی کیلئے بعض بڑے خطرناک مضمرات کا حامل ہے۔ پاکستان میں برسات اور اس کے اثرات اگست سے لے کر ستمبر تک ہوتے ہیں۔ اس موسم میں جہاں انسان کے قوائے جسمانی میں مضرت رساں تغیر پذیرائی کی غیرمعمولی استعداد پیدا ہوجاتی ہے۔اس موسم میں جہاں انسان کے غذائی تاثیر اور نظام ہضم میں بھی بہت سی تبدلیاں رونما ہوتی ہیں آب و ہوا کے اثر میں سمیاتی کیفیت بڑھ جاتی ہے اور ہر ذی روح کی قوت مدبرہ بدن میں معتدبہ کمی واقع ہوجاتی ہے بالخصوص مارے ہاں یہ موسم بہت سی قباحتوں اور خرابیوں کا موجب ثابت ہوتا ہے کیونکہ ہمارے ہاں برسات کی موسلادھار اور متواتر و مسلسل بارشوں کے باعث نشیبی علاقوں میں دنوں اور ہفتوں تک جمع رہنے والا پانی صحت عامہ کیلئے بڑا نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔ نکاسی آب کا کوئی خاطر خواہ اور قابل رشک نظام نہ ہونے کی وجہ سے برسات کا جمع ہونے والا پانی بہت سے امراض پھیلانے کا باعث بنتا ہے۔

ستمبر کے مہینے میں مچھروں کا حملہ انسانوں کی مملکت صحت پر اپنے مضری حربے استعمال کرتا ہے۔ستمبر میں موسمی تغیر زیادہ پراسرار صورت اختیار کرلیتا ہے ستمبر کے وسط اور بعض اوقات آخری دنوں تک اگست کی مخصوص موسمی سوغات یعنی ملیریا بخار کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ستمبر کے دوران بالائے زمین اور اندرون زمین موجود مرطوب آب و ہوا چھوٹے موٹے عوارض یعنی پھوڑے پھنسیاں‘ بدہضمی ( جس میں معمولی نقص ہضم قواء معدہ کی ماؤف سی استعداد بھی شامل ہے) اختلاء طبیعت‘ اعضاء شکم کا عدم توازن‘ اعضاء شکنی غیرواضح‘ تبخیری کیفیت‘ کمزوری اعصاب و اخلاط اربعہ یعنی صفراء سودا‘ بلغم ہونے کی علامت کا آغاز ابھرتے ہیں اور اس سلسلہ میں جب تک کسی ماہر مستند معالج سے رجوع نہ کیا جائے ان تمام عوارض کی نوعیت و کیفیت پراسرار اور ناقابل فہم رہتی ہے۔

بخار‘ ملیریا‘ پھوڑے‘ پھنسی‘ فتور ہضم‘ قے‘ اسہال اور ہیضہ ایسے امراض اس موسم کی پیداوار ہیں چنانچہ غذائی بے اعتدالیوں اور لاپرواہی کے عادی عام الناس اس موسم میں کسی نہ کسی عارضہ یا وبائی مرض میں مبتلا ہوجاتے ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس موسم میں ہر چیز رطوبت زدہ ہوجاتی ہے اور غیرمعمولی طور پر مرطوب آب و ہوا مختلف قسم کے جراثیم کو جنم دیتی ہے جو بعض اوقات وبائی قسم کے امراض و عوارض پیدا کرتے ہیں تاہم ان موسمی عوارض وامراض کے دفیعہ و استیصال کیلئے قدرت کاملہ نے ہمیں چند ایسی نعمتیں عطا کررکھی ہیں اگر ان سے مناسب طور پر استفادہ کیا جائے تو اس موسم کی خطرناکیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ بھلا کون ایسا شخص ہے جو لیموں‘ پیاز‘ اور سرکہ کا لذت آشنا نہیں کیا قارئین کرام کو یہ جان کر خوشی نہ ہوگی کہ یہ بظاہر معمولی سی چیزیں جو ہمارے ہائی غذائی معمولات میں شامل ہیں۔ اس موسم کی بڑی قیمتی دوا سے بھی زیادہ اہمیت رکھتی ہیں اور موسم برسات میں ان کے یہ تینوں قدرتی دوائیں موسم برسات کے علاوہ تمام ممکنہ مضمرات سے انسان کو بچاتی ہیں۔

اس حقیقت سے بہت کم لوگ آگاہ ہوں گے کہ جس بخار کا تعلق فساد ہو‘ خون میں حرارت اور غلبہ صفرا سے ہو لیموں اس کو دور کردیتا ہے۔ برساتی ہوا کے پیدا کردہ فساد کا قلع قمع کرنا اس کا ایک ادنیٰ کرشمہ ہے علاوہ ازیں اس کا استعمال طبیعت میں فرحت و بشاشت پیدا کرتا ہے اور جگر ومعدہ کو قوی کرتا ہے اسی طرح پیاز اور سرکہ کا استعمال نہ صرف جگر‘ معدہ اور تلی کو وبائی اور موسمی اثرات کا مقابلہ کرنے کے قابل بناتا ہے بلکہ ہضم غذا اور اضافہ بھوک کیلئے ایک انتہائی مفید تدیبر ہے‘ موسمی اثرات کے باعث جسم میں خواہ کیسا ہی مضر مواد ہو‘ سرکہ اور پیاز اسے یکسر ختم کردیتا ہے۔ ملیریا کیلئے عام طور پر جوماڈرن ادویہ استعمال کی جاتی ہیں ان کا کثرت استعمال بھی بجائے فائدہ کے نقصان کا باعث بنتا ہے کیونکہ یہ جسم میں بعض دوسری خرابیاں بھی پیدا کردیتا ہے اس لیے مناسب یہ ہے کہ ملیریا کے لیے مغز کرنجوہ استعمال کیا جائے مغز کرنجوہ بیس گرام‘ مرچ سیاہ دس گرام سفوف بنائیں دو تا چار رتی سفوف صبح‘ دوپہر ورات کو پانی سے کھائیں تو ملیریا یا بخار کسی دقت کے بغیر دور ہوجاتا ہے۔ طبی تحقیق کے مطابق کرنجوہ کا استعمال قوت بینائی کیلئے بھی بے حد مفید ثابت ہوچکا ہے۔ماہ اگست وستمبر میں کسی قسم کی خرابی صحت سے بچنے کیلئے بہترین تدبیر غذائی احتیاط وپرہیز ہے۔ کھانے پینے کی کوئی بھی چیز جو ناقص اور بسی ہو اور خاص طور پر گلے سڑے پھل اس موسم میں ہرگز استعمال نہیں کرنے چاہئیں اور کھانے سے پہلے اشیائے طعام کا اچھی طرح جائزہ لے لینا چاہیے تاکہ لاپرواہی اور بے احتیاطی سے کوئی خراب شے معدہ میں پہنچ کر خرابی کا موجب نہ بنے‘ علاوہ ازیں ہر ایسی غذا سے حتی الوسع پرہیز کرنا چاہیے جو معدہ میں پہنچ کر گرانی پیدا کرے۔ یہاں بتا دینا ضروری ہے کہ موسم برسات میں بدن انسانی کی کیفیات میں غیرمعمولی تغیر پیدا ہوجاتا ہے جس کا عام طور پر احساس نہیں ہوتا۔ مگر واقعہ یہ ہے کہ اس موسم میں انسان کا طبعی مزاج اور جسمانی نظام کسی قسم کی بھی گرانی اور خلاف معمول عمل کو برداشت کرنے کی صلاحیت سے قریب قریب عاری ہوجاتا ہے‘ یہی وجہ ہے کہ زمانہ قدیم سے ہی اب تک اطباء4 کرام اس موسم میں مریضوں کو کسی قسم کی مسہل دوا دینے سے گریز کرتے چلے آئے ہیں۔ فی الجملہ نہ صرف گرانی پیدا کرنے والی اشیاء کے استعمال سے گریز کرنا چاہیے بلکہ سرکہ‘ لیموں اور پیاز کے استعمال کو اپنا غذائی معمول بنا کر موسمی اور وبائی امراض سے بچے رہنا چاہیے۔ بچہ‘ شہد اور حفظان صحت: بچوں کو حفظ ماتقدم کے طور پر خالص شہد حسب العمر مقدار میں تھوڑا تھوڑا‘ دن میں دو چار مرتبہ ضرور چٹائیں انشاء اللہ العزیز آپ کا بچہ ہر قسم کے موسمی عوارض سے محفوظ رہے گا۔چند ضروری احتیاطیں: اس مہینے رات کو سوتے وقت (خواہ کمرہ میں پنکھا ہی کیوں نہ ہو) دروازہ بند نہ کریں کیونکہ اس مہینے کی ہوا میں حبس کی بھی کیفیت ہوتی ہے جس سے بعض عوارض کے پیدا ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔ زیادہ تر ترش اشیاء کے استعمال سے پرہیز کریں کیونکہ ان سے نزلہ‘ زکام‘ بخار اور دیگر امراض سینہ کے رونما ہونے کا قطعی احتمال ہے۔اس مہینے میں نزلہ کے بگاڑ کی ابتدا ہوجایا کرتی ہے۔ اس لیے نزلہ ہونے کی صورت میں فوراً اس کی اصلاح کی کوشش کریں۔

***

مزید : ایڈیشن 2