A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

صوبہ جنوبی پنجاب کے لئے ٹاسک فورس: معاملہ آسان نہیں!

صوبہ جنوبی پنجاب کے لئے ٹاسک فورس: معاملہ آسان نہیں!

Aug 30, 2018

نسیم شاہد

وزیر اعظم عمران خان نے تیزی سے کام کرنے کا ٹمپو بنا دیا ہے۔ ان کا سب سے اچھا فیصلہ یہ ہے کہ کابینہ کا اجلاس اب ہر ہفتے ہوا کرے گا جس کا فائدہ یہ ہوگا کہ تمام وزارتوں کے امور چلتے رہیں گے، ان میں میٹنگ نہ ہونے کی وجہ سے جمود نہیں آئے گا۔ اب مختلف ایشوز پر فیصلے بھی تیزی سے ہو رہے ہیں اور انہی فیصلوں میں ایک فیصلہ جنوبی پنجاب کوالگ صوبہ بنانے کے لئے ٹاسک فورس کا قیام بھی ہے۔ اس ٹاسک فورس میں شاہ محمود قریشی اور خسرو بختیار شامل ہیں۔ یاد رہے کہ خسرو بختیار اس صوبہ محاذ کے سربراہ تھے، جس کے ارکان نے مسلم لیگ (ن) سے علیحدہ ہو کر صوبہ محاذ بنایا اور بعد ازاں الگ صوبہ بنانے کی شرط پر تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔ یہ ٹاسک فورس جیسا کہ بتایا گیا ہے، جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں سے رابطے کرے گی اور صوبے کی راہ میں جو آئینی رکاوٹیں ہیں، انہیں دور کرنے پر مشاورت کر کے قابل قبول حل نکالے گی۔ آنے والے دنوں میں پتہ چل جائے گا کہ اس بار جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی یہ کوشش کتنی سنجیدہ ہے اور کیا اس کے مثبت نتائج بھی برآمد ہوں گے یا اس کا حال بھی ماضی کی کوششوں جیسا ہوگا؟ جو وقت کے ساتھ ساتھ زمین برد ہوتی رہیں۔

جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی باتیں آج سے نہیں کئی دہائیوں سے کی جا رہی ہیں۔ تاج محمد لنگاہ مرحوم نے سرائیکی پارٹی بنا کر اس کے لئے آواز اٹھائی، مگر انہیں پذیرائی نہ مل سکی، وہ جب انتخابات میں ایم این اے کی نشست پر امیدوار کھڑے ہوتے تو انہیں بمشکل دو اڑھائی سو ووٹ ملتے اور ضمانت ضبط ہو جاتی، تاہم وہ خود سرائیکی خطے کی علامت بن گئے تھے۔ گزشتہ تقریباً ایک دہائی میں سرائیکی خطے کی محرومیوں کا ذکر بہت ہوا ہے۔ اس عرصے میں الگ صوبے کی آواز بھی زیادہ توانائی کے ساتھ ابھری ہے۔ نئی سرائیکی قوم پرست تنظیمیں بھی اسی مدت میں سامنے آئیں، انہوں نے جب اسے ایک تحریک کے طورپر آگے بڑھایا تو سیاسی جماعتوں کو بھی بھنک پڑی۔

خاص طور پر انہیں اپنے ووٹ بینک کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ پھر یہ بھی سب نے دیکھا کہ ملک کی تینوں بڑی سیاسی جماعتیں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور تحریک انصاف الگ صوبے کا علم لے کر میدان میں آ گئیں۔ پتہ نہیں وہ دل سے چاہتی تھیں یا نہیں، تاہم انہیں زبان سے یہ اقرار ضرور کرنا پڑا کہ وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے حق میں ہیں جب سید یوسف رضا گیلانی وزیر اعظم تھے، تو وہ جب بھی ملتان آتے ان سے صحافی یہی سوال پوچھتے کہ جنوبی پنجاب کو صوبہ کب بنایا جا رہا ہے؟ پیپلزپارٹی اگرچہ اس صورتِ حال میں ایک مشکل کا شکار تھی، کراچی کو ایم کیو ایم الگ صوبہ بنانا چاہتی تھی لیکن پیپلزپارٹی کا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ سندھ کی تقسیم نہیں ہو سکتی۔

اب اگر وہ کھل کر جنوبی پنجاب کی حمایت کرتی تو کراچی کو صوبہ بنانے کا مطالبہ بھی زور پکڑ جاتا۔ تاہم اس کے باوجود سید یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی قرارداد منظور کرانے میں کامیاب ہو گئے۔ انہی دنوں پنجاب اسمبلی میں بھی الگ صوبے کی قرارداد منظور کر لی گئی۔ مگر اس کے بعد وہی گہرا سناٹا چھا گیا۔

البتہ جنوبی پنجاب میں الگ صوبے کا لاوا پکتا رہا۔ اس تناظر میں جب 2018ء کے انتخابات آئے تو جنوبی پنجاب میں کچھ ایسی فضا بن گئی تھی کہ جو سیاسی جماعت الگ صوبے کا اعلان نہیں کرے گی، اسے ووٹ نہیں ملیں گے۔ تب سیاسی جماعتوں کو ہوش آیا کہ اس مطالبے پر کان دھرنے ہوں گے۔ اسی دوران مسلم لیگ (ن) کو بڑا دھچکا لگا اور اس کے 3 ارکان اسمبلی صوبہ محاذ کے نام پر اسمبلی رکنیت سے مستعفی ہو گئے۔وہ موقع تھا کہ جب مسلم لیگ (ن) کو علیحدہ صوبے کے لئے کھل کر سامنے آنا چاہئے تھا، لیکن وہ نہ آئی، جس کا اسے عام انتخابات میں نقصان ہوا اور جنوبی پنجاب سے اس کا صفایا ہو گیا۔

پیپلزپارٹی اس سے غافل نہیں رہی، بلاول بھٹو زرداری نے جنوبی پنجاب میں جو انتخابی مہم چلائی اس میں جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کی حمایت کا اعلان کیا۔ ان کی اس مہم کی وجہ سے پیپلزپارٹی جنوبی پنجاب سے اتنی نشستیں لینے میں کامیاب رہی کہ اس کی پنجاب میں عزت رہ گئی۔ اس منظر نامے کو یہاں بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ تینوں بڑی سیاسی جماعتوں میں سے کوئی بھی کھل کر جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے کی مخالفت نہیں کر سکتی، کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں اسے اس علاقے سے مستقلاً ہاتھ دھونا پڑیں گے۔

سو صوبے کی حمایت کا مسئلہ تو بآسانی حل ہو جائے گا، تاہم اصل مسئلہ یہ ہے کہ مجوزہ جنوبی پنجاب صوبے کے خدو خال کیا ہوں گے؟ اس پر ذرہ بھر کام نہیں ہوا۔ مثلاً صوبے کی حدود بھی ابھی طے نہیں ہوئی۔ اس پر بھی ایک بڑا ہنگامہ کھڑا ہو سکتا ہے۔ اس وقت ایک عام خیال یہ ہے کہ جنوبی پنجاب تین ڈویژنوں یعنی ملتان، ڈیرہ غازیخان اور بہاولپور پر مشتمل ہوگا، لیکن یہاں کے سرائیگی قوم پرست حلقے اسے ماننے کو تیار نہیں۔ ان کا مطالبہ یہ ہے کہ جہاں جہاں سرائیگی بولنے والے موجود ہیں، وہاں تک صوبے کی حدود بڑھائی جائیں۔

مثلاً وہ جھنگ اور میانوالی کو بھی مجوزہ صوبے میں شامل کرنا چاہتے ہیں جو اس وقت فیصل آباد اور سرگودھا ڈویژن میں شامل ہیں۔ ان لوگوں کا خیال ہے کہ پنجاب کو رقبے کے لحاظ سے برابر برابر تقسیم کر دیا جائے۔ اس پر سب سے پہلے ٹاسک فورس کو کام کرنا چاہئے، کیونکہ اگر بنیاد ہی متفقہ نہیں تو عمارت کیسے استوار ہو گی۔ سب سے پہلے جنوبی پنجاب کے تینوں بڑے ڈویژنوں کی سیاسی، سماجی، صنعتی اور سرائیکی قوم پرست جماعتوں کی قیادت کا نمائندہ اجلاس بلا کر مجوزہ صوبے کی حدود بارے ایک متفقہ قرارداد منظور کی جانی چاہئے۔ دوسرا بڑا مسئلہ صوبے کے نام کا ہے جس پر خاصا اختلاف موجود ہے۔

کہنے کو ہر کوئی اسے جنوبی پنجاب صوبہ کہہ دیتا ہے، مگر یہاں کے ثقافتی و لسانی حلقے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ وہ یہ چاہتے ہیں کہ دیگر صوبوں کی طرح اسے بھی قومیت اور لسانی تشخص کی بنیاد پر صوبہ بنایا جائے۔ مثلاً وہ اس کا نام سرائیکستان تجویز کر چکے ہیں۔ ان کا استدلال ہے کہ سندھی بولنے والوں کا سندھ، پنجابی بولنے والوں کا پنجاب، بلوچی بولنے والوں کا بلوچستان اور پشتو بولنے والوں کا خیبر پختونخوا ہے تو سرائیکی بولنے والوں کا سرائیکستان کیوں نہیں ہو سکتا؟ لیکن اس تصویر کا دوسرا رخ بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

پاکستان کے اس وقت جو چار صوبے ہیں، وہ تو قیام پاکستان کے بعد ہی اپنی شناخت کے ساتھ موجود تھے، لیکن ایک نئے صوبے کو لسانی تہذیب و شناخت کے حوالے سے منسوب کرنا موجودہ تناظر میں آسان دکھائی نہیں دیتا، اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ جنوبی پنجاب میں کثیر اللسانی کلچر پروان چڑھ چکا ہے۔ یہاں اب صرف سرائیکی ہی نہیں بولی جاتی، بلکہ اردو، پنجابی، ہریانوی، روہتکی اور دیگر زبانیں بولنے والے بھی کروڑوں کی تعداد میں آباد ہیں، وہ کھل کر اس کا اظہار بھی کر چکے ہیں کہ لسانی بنیاد پر صوبہ قبول نہیں کریں گے، کیونکہ پھر یہاں لسانی تصادم کے خطرات منڈلانے لگیں گے۔

اس کا حل دانشوروں نے یہ تلاش کیا ہے کہ صوبے کا نام مقامی ثقافت کے حوالے سے ہی ہو، تاہم اس پر لسانی چھاپ نہ لگے۔ طارق محمود جو نامور افسانہ و ناول نگار ہیں اور جو وفاقی سیکرٹری داخلہ کی حیثیت سے ریٹائر ہوئے، اس موضوع پر کافی کام کر چکے ہیں۔ ان کا تھیسز یہ ہے کہ پنجاب کے پانچ دریا جہاں ملتے ہیں، وہ علی پور کا علاقہ پنجند ہے۔ اس لئے بہتر ہوگا کہ اس کا نام صوبہ پنجند رکھا جائے۔ اسی طرح بعض لوگ جنوبی پنجاب کو بھی نئے صوبے کا نام دیکھنا چاہتے ہیں، تاہم یہ تو اب ٹاسک فورس کا کام ہے کہ ایک طرف وہ نئے صوبے کے لئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کرے اور دوسری طرف اس صوبے کے بنیادی معاملات پر یہاں کے حلقوں سے مل کر اتفاق رائے پیدا کرنے کی سعی کرے۔ جب یہ معاملات طے ہو جائیں گے، تبھی یہ بیل منڈھے چڑھے گی، وگرنہ یہ پانچ سال بھی گزر جائیں گے اور صوبے کے قیام کا خواب تشنہ تعبیر ہی رہے گا۔

مزیدخبریں