ایک نئی سیاسی جنگ کا آغاز

ایک نئی سیاسی جنگ کا آغاز
ایک نئی سیاسی جنگ کا آغاز

  

نئی حکومت کے وجود میں آنے کے بعد پاکستانی عوام’’ تنقید ‘‘ اور ’’تعریف‘‘ نامی دو حصوں میں تقسیم ہو چکی ہے ۔

ایک حصہ کہتا ہے کہ نئی حکومت کو بنے ابھی چند دن ہوئے ہیں اِسے کچھ وقت ملنا چاہیئے تاکہ وہ الیکشن میں کئے گئے وعدے پورے کر سکے جبکہ دوسرے حصے کا موقف ہے کہ وزیر اعظم عمران خان اور اُن کی کابینہ میں شامل وزراء نے انتخابی مہم کے دوران عوام سے جو وعدے کئے تھے وہ پورے نہیں ہو رہے ، اس دوسرے حصے میں تحریک انصاف کے کراچی سے منتخب ہونے والے ایم این اے عامر لیاقت حسین بھی ہیں جنہوں نے میڈیا پر واویلہ کیا ہے کہ وزیر اعظم نہ تو مزار قائد پر حاضری دینے آئے ہیں اور نہ ہی کراچی کی جانب اپنا دھیان مبذول کر رہے ہیں ، عامر لیاقت کا کہنا ہے کہ کراچی کے مسائل کی طرف دھیان دینا وزیر اعظم کا اؤلین فرض ہونا چاہیئے ، کیونکہ کہا گیا تھا کہ گورنر ہاؤسز میں کسی قسم کی کوئی میٹنگ نہیں ہو گی لیکن اس کے برعکس گورنر ہاؤس فعال ہے اور وہاں پروگرام تشکیل دیئے جا رہے ہیں ، عامر لیاقت نے اپنے اعتراضات نوٹ کراتے ہوئے کہا کہ گورنر ہاؤس میں ہونے والے پروگرام میں مجھے مدعو نہیں کیا گیا اور نہ ہی وزیر اعظم پاکستان نے حکومتی امور کے لئے کراچی کے لوگوں سے کوئی مشورہ کرنے کی کوشش کی ہے ۔وہ کہتے ہیں کہ تحریک انصاف میں فارورڈ بلاک بن رہا ہے جو چند دن تک سامنے آ جائے گا ۔

تحریک انصاف کے ایم این اے کا حکومت بنائے جانے کے چند دن بعد ہی اس طرح ’’جذباتی ‘‘ ہو کر اپنی ہی حکومت کے بارے میں منفی پراپیگنڈہ کرنا سمجھ سے بالا تر ہے ، وہ تو یہاں تک بھی کہہ گئے کہ تبدیلی اور سادگی کا جو نعرہ لگایا گیا تھا نئی حکومت اُس نعرے کی دھجیاں بکھیر رہی ہے اور پروٹوکول کی مد میں وہ سب کام ہو رہے ہیں جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ ہم ’’پروٹوکول ‘‘کے سخت خلاف ہیں ۔ دوسری طرف پہلے حصے میں شامل پی ٹی آئی کے رہنما سینیٹر فیصل جاوید نے عامر لیاقت کے پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی میں فارورڈ بلاک نہیں بلکہ پروگریسو بلاک ہے، کراچی نے عامر لیاقت کو نہیں عمران خان کو ووٹ دیا۔سینیٹر فیصل جاوید کا کہنا تھا کہ عامر لیاقت’’ ہائپ‘‘ پیدا کرلیتے ہیں ہم ان کو منا ہی لیں گے کیونکہ عامر لیاقت نے کراچی کے جلسے میں بھی تقریرکرنے کی خواہش ظاہر کی تھی جو پوری نہ ہوئی تو انہوں نے تب بھی شکوہ کیا تھا ۔

فیصل جاوید نے مزید کہا کہ اگرعامر لیاقت یہ واویلہ وزارت کے حصول کے لیے کررہے ہیں تو یہ غلط راستہ ہے، کیونکہ عمران خان سے تحریک انصاف کا کوئی ایم این اے یا ایم پی اے وزارت لینے کا نہیں کہتا بلکہ یہ فیصلہ عمران خان خود کرتے ہیں ۔

فیصل جاوید نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ کراچی نے 2013 اور 2018 میں ووٹ عمران خان کودیا، عامر لیاقت کو نہیں کیونکہ عمران خان عامر لیاقت کی جگہ کوئی کھمبا بھی کھڑا کر دیتے تو وہ بھی جیت جاتا۔ تحریک انصاف کے سینیٹر اور ایم این اے کی جانب سے ایک دوسرے پر لفظوں کی یہ بوچھاڑ پہلے سے مختلف معاملات میں اُلجھی حکومت کو مزید ’’ ڈسٹرب ‘‘ کر سکتی ہے ۔لہذا حسب روائت عامر لیاقت کی چھپی خواہش کو پورا کرنے میں ہی حکومت کی بچت ہے ، عامر لیاقت کو وزیر یا مشیر بنا کر یہ جنگ ختم کی جا سکتی ہے ،ویسے بھی انہوں نے پی ٹی آئی کا فارورڈ بلاک بننے کا دعویٰ بڑی ذمہ داری اور تحکمانہ انداز میں کیا ہے اور یہ بھی کہا کہ کراچی کے عوام نے عمران خان کو نہیں بلکہ انہیں ووٹ دیا ہے۔عامر لیاقت حسین نے مزید کہا کہ ہے پی ٹی آئی’’ اسٹیٹس کو ‘‘ اور پروٹوکول وغیرہ کی شدید مخالف رہی ہے، عمران خان ڈچ وزیر اعظم کے سائیکل پر سفر کی مثالیں بھی متعدد باردے چکے ہیں مگر کیا وجہ ہے کہ کفایت شعاری کے اعلانات کے باوجود حکومت پروٹوکول کلچر ختم نہیں کر پا رہی؟ اب تحریک انصاف میں ایسی فضاء کا بننا یا بنایا جانا حکومتی امورکے لئے نقصان دہ ثابت ہو سکتاہے ۔پاکستانی عوام سوشل میڈیا پر وزیر اعظم پاکستان کے ہیلی کاپٹر کے استعمال پر بھی سیخ پاء نظر آ رہی ہے ، عوام شائد حکومتی نمائندوں کو اس طرح تنقید کا نشانہ نہ بناتی اگر وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری میڈیا پر ہیلی کاپٹر کے سفر کا خرچہ 50روپے فی میل نہ بتاتے ، سوشل میڈیا پر ہیلی کاپٹر کے اخراجات کو اس غلط بیانی سے بتانے کو تمسخر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے ، لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہیلی کاپٹر اتنا سستا ہے تو ہم اپنے چنگ چی اور رکشے بیچ کر ایک سیکنڈ ہینڈ ہیلی کاپٹر ہی لے لیتے ہیں ، ہیلی کاپٹر اور فضائی معاملات کے ایکسپرٹس نے کہا ہے کہ اسلام سے بنی گالا جانا ہو تو ہیلی کاپٹر پر تقریباً دو لاکھ روپے کا خرچہ ہوتا ہے لیکن حکومتی نمائندے اس بات پر ’’ اڑ ‘‘ گئے ہیں کہ ہیلی کاپٹر کا خرچہ تقریباً پانچ سے چھ سو روپے ہے ۔

یہ تو کچھ بھی نہیں وزیر اعلیٰ پنجاب جب اپنے ایک دوست کے والد کی وفات پر فاتحہ خوانی کے لئے میاں چنوں گئے تو اُن کا پروٹوکول 20سے 25گاڑیوں پر مشتمل تھا ، اس کی وجہ بھی سوشل میڈیا پر کچھ یوں بیان کی گئی ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار چونکہ چند ماہ کے لئے اپنے عہدے پر رہیں گے اُس کے بعد جہانگیز ترین سپریم کورٹ سے ’’ کلیئر ‘‘ ہو کر ضمنی انتخاب میں ایم پی اے بنیں گے اور وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے عہدے پر براجمان ہوں گے تو ان چند ماہ کے لئے بنائے گئے وزیر اعلیٰ کو حق حاصل ہے کہ مکمل پروٹوکول لے اور اُس کی کہیں بھی آمد پر ٹریفک کا نظام بھی درہم برہم کیا جائے، ڈاکٹرز ہسپتالوں سے چھٹی کر لیں اور بے شک کسی غریب کی بچی طبی امداد نہ ملنے سے وفات پا جائے ۔وزیر اعظم پاکستان عمران خان کو کچھ فیصلے جلد کرنے کی ضرورت ہے جن کے لئے کسی قسم کی کمیٹی بنانے یا مشورہ ٹیم کی قطعاً ضرورت نہیں اُن میں سے سب سے پہلے گورنر ہاؤسز کی جگہ تعلیمی ادارے یاغریبوں کے لئے مکانات بنانا ضروری ہے کیونکہ قومی انتخابات میں عمران خان نے عوام کے ساتھ یہ وعدے یقیناًاپنی ٹیم یا کمیٹی کے مشورے سے ہی کئے ہوں گے ۔کہ جس دن ہماری حکومت بننے کا اعلان ہوگا اُس دن سب سے پہلے گورنر ہاؤسز کی دیواروں کے ساتھ کھڑے بلڈورز وہ دیواریں گرا رہیں ہوں گے۔

مزید : رائے /کالم