کراچی ، سندھ کی جیلوں میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا فیصلہ

کراچی ، سندھ کی جیلوں میں بڑے پیمانے پر تبادلوں کا فیصلہ

کراچی (کرائم رپورٹر) سندھ کی جیلوں میں منظم نیٹ ورک کے انکشاف کے بعد ڈی آئی جی جیل ناصر آفتاب نے نیٹ ورک توڑنے کا فیصلہ کر لیا اور کہا جیلوں میں تعینات پرانے افسران کوتبدیل کیا جائے گا۔تفصیلا ت کے مطابق سندھ کی جیلوں میں جرائم پیشہ عناصر سے رابطوں کا منظم نیٹ ورک کے انکشاف نے کھلبلی مچادی، ڈی آئی جیل نے نیٹ ورک توڑنے کے لئے بڑے پیمانے پر تبادلوں کا فیصلہ کرلیا ، جیلوں میں تعینات پرانے افسران کو تبدیل کیا جائے گا۔ڈی آئی جی جیل کا کہنا تھا کہ 3مرحلوں میں تمام تبادلے کیے جائیں گے، پہلے فیز میں 82 افسران و اہلکاروں کا تبادلہ کر دیا گیا ہے، تبادلہ کئے گئے افسران میں گریڈ 15 تک کے افسران شامل ہیں، سینٹرل جیل میں ایک اہلکار 1989 سے دوسرا 1993سے تعینات تھا۔ناصرآفتاب نے کہا تبادلے جرائم پیشہ عناصر سے رابطوں کے انکشاف کے بعد کیے جا رہے ہیں، جیل میں تبادلوں کے حوالے سے نئے قواعدوضوابط بنائے ہیں، کوئی بھی اہلکار اب ایک سال سے زیادہ کسی جیل میں تعینات نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا کہ کراچی کی جیلوں میں قیدیوں کی تعداد 3 گنا زائد ہے، سینٹرل جیل میں 1600 قیدیوں کی جگہ 4500 موجود ہیں۔دوسری جانب جیل ریفارم کمیٹی کی جانب سے سندھ کے ہرضلع میں چھوٹی جیلیں تعمیرکرنے کا فیصلہ کیا گیا اور جیلوں کی تعمیر کے لیے محکمہ داخلہ اور غیرسرکاری تنظیموں سے مدد لی جائے گی جبکہ ضلع کی جیلوں میں ان ملزموں کو رکھا جائے گا، جن کے مقدمات زیرسماعت ہوں۔ذرائع کے مطابق سینٹرل جیل کراچی صرف سزایافتہ مجرموں کے لیے مختص کردی جائے گی، سینٹرل جیل کراچی کی نفری میں بھی اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جیل سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں کی تعداد مذید 500 بڑھائی جائے گی جبکہ قیدیوں کو عمر کے حساب سے تقسیم کردیا جائے گا، 18 سے 22 سال ، 22 سے 30 سال اور 30 سے 40 سال کے قیدیوں کو الگ الگ رکھا جائے گا۔

مزید : کراچی صفحہ آخر