حافظ نعیم الرحمن سے سرکاری کواٹرزکی متاثرہ خواتین کی ملاقات

30 اگست 2018

کراچی (اسٹاف رپورٹر)امیر جماعت اسلا می کراچی حافظ نعیم الرحمن سے ادارہ نورحق میں مارٹن کواٹرز ، کلیٹن کواٹرز اور پاکستان کواٹرز کی متاثرہ خواتین کے ایک وفد نے ملاقات کی اور حکومت کی جانب سے بے دخلی اور جاری ظلم و زیادتی کے حوالے سے آگاہ کیا اور تعاون کی اپیل کی۔ملاقات میں سربراہ پبلک ایڈ کمیٹی سیف الدین ایڈوکیٹ، کلیم الحق عثمانی ، سکریٹری پبلک ایڈکمیٹی نجیب ایوبی ، نائب صدر پبلک ایڈ کمیٹی نصیر الدین اور دیگر بھی موجود تھے۔ حافظ نعیم الرحمن نے وفد کی مکمل حمائت اور مسئلہ حل کرانے کی جدوجہد کی یقین دہانی کراتے ہوئے کہاکہ کواٹرز کے مکینوں کو کوئی بے یارومددگار نہ سمجھے اگر گزشتہ منتخب ارکان نے اس معاملے میں اپنی بے حسی کا ثبوت دیا اور موجودہ بھی حکومت کے مزے لوٹنے میں مصروف ہوگئے تب بھی جماعت اسلامی اس سلسلے میں بھرپور کوشش کرے گی اورسندھ اسمبلی میں دیگر عوامی نمائندوں کو ساتھ ملاکر مسئلہ حل کرانے کی کوشش کرے گی۔وفاقی حکومت کو چاہیئے کہ وہ ہوش کے ناخن لے ،یہاں کے مکینوں کو لیز او رمالکانہ حقوق دیے جائیں کیونکہ یہ لوگ نہ کرایہ دار ہیں اور نہ ہی قابض بلکہ یہ حقیقی مالک ہیں۔انہوں نے کہاکہ حکومت کی جانب سے سپریم کورٹ میں کواٹرز کے حوالے سے صحیح رپورٹ نہیں پیش کی گئی اور جب وہاں کے مکینوں نے چیف جسٹس کے سامنے ساری صورتحال خود پیش کردی اورسپریم کورٹ نے ان کی سماعت کے لیے 31جولائی مقرر کی لیکن اس کے باوجود سماعت سے صرف ایک دن قبل اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے پولیس کی بھاری نفری کے ساتھ جبکہ گھروں میں صرف عورتیں اور بچے تھے کاروائی کی اور مکینوں کو بے دخل کرنے کی کوشش کی گئی۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہاکہ ماضی کی حکومتوں اور بیوروکریسی کی نااہلی کی سزا پاکستان کے لیے جانوں کی قربانیاں دینے والوں کو دی جارہی ہے جماعت اسلامی نے پہلے بھی متاثرین کے مسئلہ پر آواز اٹھائی ہے اور اب بھی مسئلے کے حل تک آواز اٹھاتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ ماضی میں 1991میں متحدہ کے وزیر ہاؤسنگ اینڈ ورکس طارق محمود نے سرکاری کواٹرز کے مالکانہ حقوق دینے کا وعدہ کیا تھا لیکن عملدرآمد نہ ہوسکا۔ انہوں نے کہاکہ انصاف کا تقاضہ تو یہی ہے کہ سابقہ اعلانات اور حقائق کی روشنی میں کواٹرز کے رہائشی سرکاری ملازمین کو مالکان حقوق دیئے جائیں۔

مزیدخبریں