A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جاپانی سفیر

پاکستان کے ساتھ تجارت کو فروغ دینا چاہتے ہیں، جاپانی سفیر

Aug 30, 2018

کراچی (اسٹاف رپورٹر)پاکستان میں قائم ہونے والی نئی حکومت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کے خواہاں ہیں، پہلے سے جاری دوطرفہ تجارتی منصوبے اپنی اصل حالت میں جاری رہیں گے، ان خیالات کا اظہار جاپان کے پاکستان میں سفیر تکاشی کورائے نے ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان کے تحت منعقدہ پہلی سی ای او سمٹ کے موقع پربطور مہمان خصوصی خطاب کے دوران کیا، تکاشی کورائے کا کہنا تھا کہ پاکستان میں اس وقت 80سے زائد جاپانی کمپنیاں اپنے کاروبار کو جاری رکھے ہوئے ہیں، اور وہ اپنے کاروبار کو مزید وسعت دینے کا ارادہ رکھتی ہیں، جس سے پاکستانی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے، اور مقامی سطحُ پر ملازمتوں کے مزید مواقع میسر آئیں گے، ان کا کہنا تھا کہ ہم ان کمپنیز کے لیے مقامی پارٹنرز درکار ہیں تاکہ دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارت کو مزید فروغ حاصل ہو۔تقریب سے ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان کے وائس پریذیڈنٹ زکی احمد، آئی سی ایم اے کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر عامر اعجاز خان، عاصم حسین خان، قائم مقام ڈائریکٹر پروفیشنل ڈیولپمنٹ آئی سی ایم اے، فلپ مورس پاکستان کے سی ای او و ایم ڈی الیگزینڈر ریئیش، آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید،کے الیکٹرک کے چیف مارکیٹنگ اینڈ کمیونیکیشن آفیسرفخر احمد، بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس کے ڈاکٹر پروفیسر مستغیث الرحمان ، اٹلس ہونڈا لمیٹڈ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر ساقب شیرازی ، حبیب بینک اے جی زیوریخ کے صدر و چیف ایگزیکٹو آفیسر سراج الدین عزیز سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔ اس موقع پر اپنے خیالا ت کا اظہار کرتے ہوئے ایمپلائز فیڈریشن آف پاکستان کے صدر مجید عزیز کا کہنا تھا کہ پہلی سی ای او سمٹ میں سی ای اوز کی بڑی تعداد شریک ہوئی ہے اور ان کی شرکت اس بات کی عکاس ہے کہ یہ ملک میں موجودہ حالات میں تبدیلی کے ساتھ کاروباری معاملات میں بھی تبدیلی کے خواہاں اور چیلنجز کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، مجید عزیز نے اس بات پر زور دیا کہ پائیدار ترقی کے مقاصد کے حصول کے لیے ایسی تبدیلیاں لائیں جائیں جن کے ثمرات اوپر سے نیچے کی جانب منتقل ہوں اور سسٹین ایبل ڈیولمپنٹ گولز کا حصول ممکن بنایا جاسکے۔

مزیدخبریں