پاکستان میں محنت کش طبقے کو مضبوط کرنیکی کوشش ہے،رضا ربانی

پاکستان میں محنت کش طبقے کو مضبوط کرنیکی کوشش ہے،رضا ربانی

اسلام آباد( سٹاف رپورٹر) پیپلزپارٹی کے سینئر راہنما اور سینٹ کے سابق چیئرمین میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ پاکستان میں مزدور اور محنت کش طبقے کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے عام آدمی خوشحال ہو گا تو ملک ترقی کرے گا لیکن افسوس کی بات ہے کہ یہاں سامراجی قوتوں نے ہمیشہ مزدور کی طاقت کو ختم کرنے کی کوشش کی ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ پاکستان میں آمریت اور لوٹ کھسوٹ کے سرمایہ دارانہ نظام کیخلاف اور جمہوری حقوق کیلئے جب بھی تحریک چلی اُس کا ہراول دستہ پاکستان کے مزدور ہی ہوں گے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز محنت کشوں کی وفاقی تنظیم آل پاکستان ورکرز کنفیڈریشن (رجسٹرڈ) کے زیراہتمام نیشنل پریس کلب کے آڈیٹوریم میں ’’قومی لیبر کانفرنس‘‘ سے مہمان خصوصی کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کیاکانفرنس سے چیئرمین ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان آئی اے رحمان، کنفیڈریشن کے سیکرٹری جنرل اور بزرگ مزدور راہنما خورشید احمد،مرکزی صدر روبینہ جمیل ، چیئرمین یوسف بلوچ، عبداللطیف نظامانی ، حاجی رمضان اچکزئی، حاجی گوہر تاج ، اکبر علی خان، اْسامہ طارق، کرامت حسین، نیاز خان، خوشی محمد کھوکھر،سعید گجر، چوہدری محمد انور گجر، حسن محمد رانا،جاوید ا قبال بلوچ ،حاجی ظاہر گل ، محمد اکرم بندہ، چوہدری محمد فیاض، صلاح الدین ایوبی ودیگر مزدور راہنماؤں نے بھی خطاب کیا۔ کانفرنس میں واپڈا، ریلوے، پی ڈبلیو ڈی، ٹیلی کمیونیکیشن، انجینئرنگ، پی ٹی وی، نیشنل بینک، زرعی بینک، بینکنگ فیڈریشن،کراچی پورٹ ٹرسٹ، اری گیشن، کوکا کولا، فرٹیلائزر،ٹیکسٹائل فیڈریشن سمیت ملک بھر سے کنفیڈریشن سے ملحقہ130سے زائد ٹریڈ یونینز کے سینکڑوں نمائندگان نے شرکت کی۔ میاں رضا ربانی نے کہا کہ ہمارے ملک کی اشرافیہ جدوجہد کرنے والی قوتوں کو کبھی اوپر نہیں آنے دیتی مارشل لائی دور میں طلبہ یونینوں پر پابندی لگا دی گئی جو بدقسمتی سے آج تک قائم ہے ٹریڈ یونین موومنٹ پر بھی قدغنیں لگائی گئیں اداروں کو توڑا گیا کنٹریکٹ سسٹم اور آؤٹ سورسنگ کو رواج دیا گیا تاکہ مزدوروں کو تقسیم کرکے مزدور تحریک کو نقصان پہنچایا جا سکے۔ عالمی اداروں نے ہمیں پابندیوں میں جکڑا ہوا ہے تبدیلی کے نعرے کیساتھ نئی آنے والی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے لیکن اب وزیرخزانہ اسد عمر نے برملا کہہ دیا ہے کہ جانا پڑا تو کون سی قیامت آجائے گی۔ اس سے حکومت پر تو نہیں مزدور پر قیامت ضرور آجائے گی پابندیاں مزدور اور ملازمت پیشہ طبقے پر لگیں گی۔ انہوں نے کہا کہ وقت آگیا ہے کہ مزدور اور پسے ہوئے طبقات اتحاد بنا لیں ورنہ کوئی پرسانِ حال نہ ہو گا۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بزرگ مزدور راہنما خورشید احمد نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم پاکستان عمران خان اور چاروں صوبائی حکومتیں اپنے انتخابی منشور پر عمل کرتے ہوئے ملک میں بڑھتی ہوئی غربت ، نوجوانوں کی عام بے روزگاری ، جہالت، بیماری اور سماج میں امیر وغریب کے مابین روز افزوں بے پناہ فرق دور کرنے ، نوجوانوں کو بامقصد خوشگوار روزگار، ہر بچے کو مفت معیاری یکساں تعلیم کا حق ، محنت کشوں کے آئین اسلامی جمہوریہ پاکستان میں ضمانت شدہ بنیادی حقوق اور حکومت پاکستان کی توثیق شدہ آئی ایل او، اقوام متحدہ کی کنونشنوں کے مطابق فرسودہ مزدور قوانین میں ترقی پسندانہ ترامیم ،صنعتی ، تجارتی و زرعی اور میڈیا کے کارکنوں کو معقول اْجرتیں اور سماجی تحفظ مہیا کرانے کے لئے موجودہ فرسودہ اقتصادی و سماجی نظام میں دُوررس اصلاحات کا نفاذ کریں اور ملک میں کسانوں کے لئے زرعی اصلاحات کا نفاذ ، ریاست کی خالی زمین اْنہیں الا ٹ کرنے، کارکنوں کے بہبود آرڈیننس 1971 کے تحت وزارت خزانہ کے پاس ایک کھرب 70 ارب روپے کی جمع شدہ رقم سے کارکنوں کیلئے ہاؤسنگ سہولت اور ان کے بچوں کو معیاری تعلیم مہیا کرانے کے لئے بروئے کار لائے۔اس موقع پر ایک قرار داد کے ذریعے وزیراعظم پاکستان اور صوبائی حکومتوں سے پْرزور مطالبہ کیاگیا کہ وہ کارکنوں کے مسائل کے حل کے لئے حکومت کی توثیق شدہ آئی ایل او کنونشن نمبر 144 کے مطابق سہ فریقی لیبر کانفرنس کا انعقاد کریں اور آئی ایل او کنونشن نمبر81 کے تحت لیبر قوانین کا موثر نفا ذکرائیں۔ ایک اورقرارداد کے ذریعے مطالبہ کیاگیا کہ محنت کشوں کی کم ازکم اْجرت تیس ہزار روپے اور ماہانہ پنشن پندرہ ہزار روپے مقرر کی جائے۔واپڈا، پی آئی اے، ریلوے، اسٹیل ملز اور دیگر قومی اداروں کی نجکاری کی بجائے بہتر انتظام کاری کے ذریعے ان کی کارکردگی بہتر بنائی جائے اور مزدور قوانین میں آئی ایل او کنوینشنوں کے مطابق ترقی پسندانہ ترامیم کی جائیں۔ وزارت پانی و بجلی کو ماضی کی طرح یکجا کر کے این ٹی ڈی سی اور ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کو قومی مفاد میں واپڈا کے زیرانتظام کیا جائے اور آئین و قانون کے مطابق تمام اداروں میں تنظیم سازی کا حق دیا جائے۔ مقررین نے کہا کہ اگر موجودہ حکومت نے مزدور و محنت کش اور تنخواہ دار طبقے کے مسائل و مشکلات اور مطالبات پر توجہ نہ دی تو اسے ملک بھر کے لاکھوں محنت کشوں کی جانب سے شدید ترین احتجاج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

Back to Con

مزید : کراچی صفحہ آخر