A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 0

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

Error

A PHP Error was encountered

Severity: Notice

Message: Undefined offset: 2

Filename: frontend_ver3/Sanitization.php

Line Number: 1246

شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین انصاف کے منتظر !!!

شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین انصاف کے منتظر !!!

Aug 30, 2018 | 12:13:PM

عائشہ نور

یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین چارسال سے انصاف کے منتظر ہیں ،مگرتاحال انصاف نہیں ملا۔ باقرنجفی رپورٹ کی اشاعت اور چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثارکے ماڈل ٹاون کیس کا ازخود نوٹس لینے پر شہداء کے لواحقین کافی پرامید تھے کہ انہیں فوری طور پر انصاف فراہم کیا جائیگا۔ توقع ہے کہ اس ضمن میں چیف جسٹس آف پاکستان اپناوعدہ پورا کریں گے۔ اسی طرح اقتدارمیں آنے سے قبل عمران خان نے بھی حصولِ انصاف کی جدوجہد میں شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین کی مدد کا وعدہ کیا تھا۔ مگر تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے پنجاب کی بیوروکریسی میں کچھ ایسی تعیناتیاں ہونے جارہی ہیں , جن پرتحفظات سامنے آئے ہیں۔

سانحہ ماڈل ٹاون میں نامزد ملزم چیف سیکرٹری سندھ میجر (ر ) اعظم سلیمان ہیں جو کہ سانحہ ماڈل ٹاون کے وقت سیکرٹری داخلہ پنجاب تھے۔ اعظم سلیمان نے باقرنجفی رپورٹ کی اشاعت سے بھی انکارکیا تھا۔ ورثاء کی طرف سے طلبی کیلیے دائر رٹ میں بھی اعظم سلیمان کانام موجود ہے۔ موصوف کی وزیراعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات ہوئی ہے۔ ذرائع کے مطابق میجر (ر) اعظم سلیمان کو چیف سیکریٹری پنجاب بنائے جانے کا امکان ہے۔ اگر ایسا ہوا تو یہ تحریک انصاف حکومت کی پہلی نا انصافی ہوگی اور یہ شہداء ماڈل ٹاون کے ورثاء کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہوگا۔ وزیراعظم عمران خان سے ایسی توقع بالکل بھی نہیں تھی۔ اگر ایسا ہوا تو تحریک انصاف کے خلاف پہلا احتجاج پاکستان عوامی تحریک کا ہوگا۔ شہداء ماڈل ٹاون کے ورثاء سے حصولِ انصاف کی جدوجہد میں مدد کے وہ وعدے یاد دلانے کا وقت ہے جو کہ عمران خان نے کر رکھے ہیں۔

میجر (ر ) اعظم سلیمان کی بطور چیف سیکریٹری پنجاب تعیناتی کے خلاف عوامی تحریک نے وزیراعظم عمران خان کو باضابطہ طور پر احتجاجی مراسلہ بھیجا ہے۔ اگر اس کے باوجود یہ تعیناتی ہوگئی تو یہ تحریک انصاف کی حکومت کی پہلی بڑی غلطی ہوگی۔ جس سے شہداء ماڈل ٹاون کے ورثاء کی جانب سے شدید احتجاج متوقع ہے۔ لہٰذا میجر (ر) اعظم سلیمان کی تعیناتی کی کوشش تحریک انصاف اور عوامی تحریک کے درمیان دوریاں پیداکرنے کی ایک دانستہ منصوبہ بندی اورتشویشناک عمل ہے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھاکہ تحریک انصاف کی حکومت ماڈل ٹاون آپریشن میں ملوث تمام پنجاب پولیس افسران اور اس کی منصوبہ بندی میں شامل تمام سرکاری افسران کو ان کے عہدوں سے برطرف کرتی , تاکہ ان کا فیئر ٹرائل ہوسکے ,کیونکہ اپنے عہدوں پر بدستورتعیناتی کو وہ کسی نہ کسی شکل میں اپنے دفاع کیلیے استعمال کرتے رہیں گے۔

ماڈل ٹاون کیس کے ایک نامزد ملزم کیپٹن (ر) محمد عثمان کو پنجاب فوڈ اتھارٹی کا نیا ڈی جی مقرر کیا جارہاہے۔ موصوف کو انسدادِ دہشت گردی عدالت نے ماڈل ٹاون استغاثہ کیس میں طلب کررکھا ہے۔ کیونکہ کیپٹن (ر) محمد عثمان کے خلاف ایسے ویڈیو ثبوت موجود ہیں کہ وہ ماڈل ٹاون آپریشن ہینڈل کرنے والوں میں شامل تھے۔ جب ڈی سی اولاہور احمد جاوید قاضی نے ماڈل ٹاون آپریشن کاحصہ بننے سے انکارکردیاتو 15جون 2014 کوکیپٹن (ر) محمد عثمان کوہنگامی بنیادوں پرڈی سی او لاہور لگادیاگیا۔ کیپٹن (ر) محمد عثمان مبینہ طور پر صاف پانی منصوبے میں ہونے والی اربوں کی کرپشن میں شہبازشریف کے فرنٹ مین ہیں۔ اس کے علاوہ یہ موصوف 56 کمپنیوں کے فراڈ کیس کے ماسٹرمائنڈ بھی ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایسی تعیناتیاں کرکے تحریک انصاف اپنے سیاسی کزنز یعنی عوامی تحریک اور شہداء ماڈل ٹاون کے ورثاء کو کیا پیغام دینا چاہتی ہے؟؟؟

پاکستان عوامی تحریک نے میجر (ر ) اعظم سلیمان کی تقرری پر جو مراسلہ وزیراعظم کو ارسال کیا , کیا اس کا جواب کیپٹن (ر) محمد عثمان کی تقرری سے دیاگیا ہے؟؟؟ اگر وزیراعظم عمران خان نے صورتحال کا بروقت ادراک نہ کیا تویہ عمران خان کی بطور وزیراعظم پہلی غلطی ہوگی۔

نومنتخب وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے اگرچہ سانحہ ماڈل ٹاون کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کاعندیہ دیاہے , جو کہ خوش آئند ہے۔ لہٰذا عثمان بزدار کو بھی چاہیے کہ وہ میجر (ر) اعظم سلیمان اور کیپٹن (ر) محمد عثمان کی مجوزہ تعیناتی کا نوٹس لیں۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ سانحہ ماڈل ٹاون میں ملوث افراد کو اس وقت تک کوئی سرکاری منصب نہ دیاجائے , جب تک وہ عدالت میں خود کو بے گناہ ثابت نہیں کردیتے۔ تاکہ شہداء ماڈل ٹاون کے لواحقین کا ان وعدوں پر اعتماد بحال ہو سکے جو تحریک انصاف نے برسراقتدار آنے سے پہلے ان سے کیے تھے۔

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں