عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر58

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر58
عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر58

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

سلطان محمد خان، آغاحسن ، احمد کدک پاشا اور محمود پاشا جیسے سالاروں کے ہمراہ ایک مضبوط اور ناقابلِ تسخیر فوج تیار کرنے میں مصروف تھا ۔ اس نے اپنے ہر صوبے میں نئی فوجی بھرتی کے لیے پیغام بھیجے ، ہر صوبے کا حکمران ’’بیلر بیگ ‘‘ کہلاتا تھا ۔ بیگ اور پاشا ایک ہی طرز کے القابات تھے۔ ایسے فوجی سردار جن کے نیزے کے سرے کے ساتھ گھوڑے کی دم جیسا ایک پھندنا لگا ہوتا تھا ۔ وہ بیگ یا پاشا کہلاتے یہ عثمانیوں کا فوجی نشان تھا ۔

یہ لوگ ان جاگیروں کے سردار تھے۔ جن کو فوجی خدمات کے صلہ میں زمینیں دی گئی تھیں۔ اور ان کے فرائض میں شامل تھا کہ جنگ کے موقع پر مسلح ہوکر لشکر میں شامل ہوں۔ان جاگیروں کے لوگ ایسے موقعوں پر اپنے اپنے سرداروں کے علم کے نیچے جمع ہوجاتے تھے۔ علم کو ترکی زبان میں ’’سنجق ‘‘ کہتے ہیں۔اور چونکہ سنجق ہر علاقے کا الگ ہوتا ہے۔ اس لیے دھیرے دھیرے لوگ صوبوں اور علاقوں کو سنجق کہنے لگے۔ہر سنجق یعنی فوجی پرچم تلے ’’بیگ ‘‘یعنی ’’بیلر بیگ‘‘ کے بہت سے ماتحت ہوا کرتے اور ہر بیگ کا دستہ چار سو سواروں پر مشتمل ہوتا۔سلطان نے اس عظیم حملہ کے لیے اپنی یورپی اور ایشیائی مقبوضات سے باضابطہ طور پر ایک لاکھ کی فوج تیار کرنا شروع کر دی۔رضا کار اس کے علاوہ تھے۔جو ہر جنگ کے موقع پر بطورِ خود اپنی خدمات پیش کرتے ۔ اور جن کا معاوضہ صرف مالِ غنیمت تھا۔ ان دونوں قسم کی افواج سے زیادہ شان وشوکت اور عظمت و شہرت ’’ینی چری ‘‘کی تھی۔جس کا سپہ سالار ’’آغاحسن‘‘ تھا ........ایک طرف اگر آغا حسن سلطان کی فوج کے لیے ایک مایہ ناز اور بہادر سالارتھا ۔ تو دوسری طرف ’’احمد کدک پاشا‘‘اور ’’محمود پاشا‘‘ صوبے دارفوج کے جنگجو جنریل تھے۔

عظیم ترک حکمران جس نے مسلمانوں کو دنیا کی طاقتورقوم بنادیا تھا۔۔۔قسط نمبر57پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں

بحریہ کو مضبوط کرنے کے لیے سلطان نے ایک مضبوط بحری بیڑہ تیار کرنے کا حکم دیا ۔جس میں کم سے کم ایک سو اسی جہاز شامل ہوتے۔ چھوٹی بڑی کشتیوں کی تعداد الگ تھی۔ جو پہلے سے عثمانی بحریہ کا حصہ تھی۔سلطان محمد خان ایک باصلاحیت نوجوان تھا ۔ جس کی خدا داد قابلیت کے جوہر رزم و بزم .........دونوں جگہ یکساں طور پر نمایاں تھے۔ ’’ایدین‘‘ کے مقام پر اس نے بہترین استاذہ سے حیرت انگیز تیزی کے ساتھ علوم و فنون کی تحصیل کی تھی۔ وہ اپنی مادری زبان کے علاوہ عربی،فارسی،عبرانی ، لاطینی، اور یونانی زبانوں پر بھی قدرت رکھتا تھا ۔ سلطان محمد کی نظر نہ صرف دنیا کی تاریخ پر تھی بلکہ وہ کرہء ارض کے جغرافیے سے بھی پوری واقفیت رکھتا تھا ۔وہ ایک بلند پایا شاعرو اور شعر و سخن کا بہت بڑا رسیا تھا ۔سلطان محمد خان کو اپنے وقت کے جید عالم اور فقیہ’’ملا عبد الرحمن جامی‘‘ کے ساتھ براہِ راست نسبت تھی۔ اور وہ ہندوستان کے ’’خواجہ جہاں‘‘ کی عقیدت میں بھی پیش رہتا تھا ۔سلطان کی صوبے داری افواج کے سالار ’’محمود پاشا‘‘ بھی سپاہی ہونے کے ساتھ ساتھ شاعر بھی تھا ۔

قسطنطنیہ پر حملے کا ارادہ کیا تو سلطان نے انتہائی گہری نظر کے ساتھ ’’پلوٹارک‘‘ کی مشہور و معروف تصنیف جو ’’یونان ‘‘ اور ’’روم ‘‘ کے تذکروں پر مشتمل تھی۔ پڑھنا شروع کردی۔ اس نے سکندرے اعظم قسطنطین اول اور ’’تھیو ڈوسیس‘‘ کے حالات زندگی کا مطالعہ کرکے’’ قسطنطنیہ ‘‘کے طویل ماضی کو ازبر کرلیا۔ان دنوں اس خطے کی صورتحال یہ تھی کہ ایشیائے کوچک میں ’’امیر کرمانیہ‘‘ راضی برضا خاموش تھا ۔ البانیہ میں سلطان محمد خان کے ساتھ پل کر جوان ہونے والا سکندر بیگ مرتد ہوکر قابض تھا ۔ لیکن سلطان ابھی تک ضدی سکندر بیگ کو نہ چھیڑنا چاہتا تھا ۔ ’’والیشیا‘‘ (ولاچیہ) کا سربراہ ’’ولاد‘‘......ایک ظالم اور کینہ پرور شخص تھا ۔ اور قیدیوں کے جسموں میں میخیں ٹھونک کر ہلاک کردیا کر تا تھا ۔لیکن اس میں اتنی ہمت نہ تھی کہ وہ سلطان کے مقابلے پر آتا۔ہمت تھی تو صرف شاہِ ہنگری ہونیاڈے کے بازؤوں میں ۔ لیکن سلطان نے اس کے ساتھ تین سال کی صلح کا معاہدہ کر لیا تھا ۔’’ہونیاڈے ‘‘ سلطان کے باپ ’’مراد خان ثانی‘‘ کے ہاتھوں ایک معاہدہ شکنی کا مزا چکھ چکا تھا ۔ چنانچہ دوسری بار معاہدہ توڑنے کا تو وہ تصور بھی نہیں کرسکتا تھا ۔ اب صرف ’’موریا‘‘ ہی ایسا علاقہ تھا جہاں سے ’’قسطنطنیہ ‘‘ کے لیے ہر وقت کمک مہیا کی جاسکتی تھی۔چنانچہ سلطان کی ایک ماہر فوج ’’موریا‘‘ والوں کا راستہ روکنے کے لیے ’’موریا‘‘ کی جانب چل دی۔

چنانچہ تمام تیاریوں کا خاکہ مکمل طور پر تیار کرنے کے بعد سلطان نے ایک حتمی اجلاس طلب کر کے ’’قسطنطنیہ‘‘ پر حملے کے فیصلے کو آخری شکل دے دی۔ یہ اجلاس بھی بڑے بڑے سالاروں ، سرداروں اور عمائدینِ سلطنت پر مشتمل تھا ۔ اس اجلاس میں قاسم بن ہشام کسی کو نظر نہ آیا ۔ کیونکہ وہ’’ وادیء تھریس‘‘عبور کرنے والا تھا ۔ اجلاس مسلسل تین روز تک جاری رہا۔اور سلطان نے حملے کی حتمی شکل کے بعد سلطنت کے لیے نئے احکامات اور قوانین بھی جاری کیے۔’’ارخان‘‘ کے زمانے میں دولتِ عثمانیہ کے وزیرِ اعظم ’’علاؤالدین ‘‘ نے فوجی اصطلاحات جاری کی تھیں۔ جس کی تکمیل مراد خان اول کے زمانے میں ہوئی۔لیکن نظامے حکومت کے لیے کوئی دستور سلطان محمد خان کے زمانے تک مرتب نہ ہوا تھا ۔ سلطان نے آئینِ سلطنت کو باضابطہ طور پر ترتیب دیا ۔ اور اس کا قانون نامہ سلطنتِ عثمانیہ کا باقاعدہ دستور بن گیا۔ سلطان نے آئینِ سلطنت پیش کر تے وقت اپنے خطاب کے دوران سلطنت کو ایک خیمے سے تشبیہ دی۔ اور کہا کہ سلطنت کا یہ خیمہ چار ستونوں پر قائم ہوگا۔ (۱) وزرائے سلطنت (۲) قضاہِ عسکر(۳) دفتر دار(خازن) ،(۴) نشانجی (معتمدِ سلطنت)، اس خیمے کے ستون ہیں۔ اس نے خیمے کے دروازے کو’’ بابِ عالی‘‘کا نام دیا ۔ جو رہتی دنیا تک حکومتِ عثمانیہ کا نام بن گیا ۔ اس نے چار وزرائے سلطنت مقرر کیے ۔ جن کا صدر وزیرِ اعظم تھا ۔ جو سلطنت کے تمام عہدے داروں کا افسرِ اعلیٰ تھا ۔ اور اس کے پاس حکومت کی مہر رہا کرتی تھی۔وزیرِ اعظم بھی سلطان کی طرح اپنے محل میں دربار طلب کرسکتا تھا ۔ ’’قضاۃِ عسکر‘‘ کا تعلق علماء کی جماعت سے ہوتا تھا ۔ اور ایک قضاۃ العسکریورپی عدالتوں جبکہ ایک قضاۃ العسکر ایشیائی عدالتوں کے لیے سلطان نے مقرر کیا ۔

(جاری ہے۔۔۔ اگلی قسط پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں)

مزید : کتابیں /سلطان محمد فاتح