وزیر اعظم عمران خان کے لئے کھلاڑی چیلنج بن گئے 

Aug 30, 2018 | 13:31:PM

شاہد نذیر چودھری

عمران خان جتنے بھی مضبوط اعصاب کے مالک ہوں ،ان کی جھنجلاہٹ بہر حال معروف ہے اور کسی بھی قسم کے دباو سے اپنے ذہن کو آزاد کرنا جانتے ہیں۔ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے ہیں انہیں وزارت عظمی کا تاج پہنے ہوئے لیکن ان پر آزمائشوں کے پہاڑ ٹوٹنے لگ پڑے ہیں ۔دیکھنا ہوگا کہ وہ فطری جھنجلا ہٹ  سے ان امور پر قابو پاتے ہیں یا کوئی کارگر تدبیر اپناتے ہیں،دونوں میں سے ایک طاقت تو انہیں استعمال کرنی پڑے گی تاکہ مطلوبہ تبدیلی کے راستوں کو ہموارکیا جاسکے۔

پارٹی سے باہر دوسری سیاسی جماعتوں یعنی اپوزیشن کا دباو اور ایک سادہ اکثریت سے وزارت عظمی کا ملنا خود خان صاحب کے لئےایک بڑا امتحان ہے جبکہ ریاستی امور کا جوالہ مکھی الگ سے کسی بڑے طوفان کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ لیکن یہ کیا عذاب در آیا ہے کہ خود ان کی جماعت کے اندر بھی بھونچال آنے لگا ہے ۔فارورڈ بلاک چٹکیاں بجانے لگا ہے ۔اس ٹھکا ٹھک میں پارٹی کے کئی کھلاڑی عوام ومیڈیاسے اور خود باہم گیر ہوتے چلے جارہے ہیں ۔ عمران خان کے وہ کھلاڑی جنہیں وزارتیں ملی ہیں وہ گالم گلوچ کرتے نظر آنے لگے ہیں ۔ان کا خبث باطن بھی سامنے آنے لگا ۔یہ منظر دیکھ کر لگتا ہے کہ جس تبدیلی کے انتظار میں عمران خان نے بائیس سال محنت کرکے دعویٰ کیاتھا کہ انہوں نے قوم کو سیاسی شعور دیا ہے اور حق کے لئے کھڑے ہونے کا حوصلہ پیدا کیا ہے خود انکی پارٹی میں ڈسپلن کا فقدان ہے اوربائیس سالہ تربیت پر سوالیہ نشان امڈ آیاہے ۔

ابھی کل کی بات ہے پنجاب کے صوبائی وزیر اطلاعات فیاض الحسن چوہان نے اپنی چولا اتارپھینکا ہے اور کیمرے کے سامنے میڈیا کو گالیاں بکتے دکھائی دئے ہیں ۔ادھر کراچی میں ڈاکٹر عامر لیاقت نے پارٹی کمان کو ہلا کر رکھ دیا اور پارٹی میں باغیانہ اور معاندانہ چپلقش اندر سے باہر نکل آئی ہے ۔کراچی میں ہی ایک ایم پی اے عمران شاہ شہری کو تھپڑ مار کر پارٹی کو رسوا کرنے کا باعث بن چکے ہیں۔پاکپتن میں مانیکا خاندان اور پولیس میں ایسی ٹھن گئی ہے کہ عمران خان کو ملتجی نگاہوں سے خاتون اوّل کی جانب دیکھنا پڑگیا ہے ۔وزیر اعلیٰ بزدار کی سادگی کو بھی ہائی پروٹوکو ل کھاگیا ہے ۔ الیکشن کے دنوں میں جیت کی خوشی میں لاہور سے ایم پی اے ندیم عباس بارا نے بھی پولیس پر ہاتھ اٹھایاتو اسے جیل میں ٹھونس دینا پڑا ۔یہ الگ سے جگ ہنسائی ہوئی۔اب وزیر اعظم کے طور پر ان کا بنی گالہ سے پرائم منسٹر سیکرٹریٹ تک ہیلی کاپٹر کا پچپن روپے فی کلومیٹر کا حساب گلے پڑگیا ہے۔ یکے بعد دیگرے ایسے بہت سے واقعات نے سر اٹھایا ہے جس سے ایک جانب تو نو منتخب حکومت کے کھلاڑیوں کی اناڑیوں اور بونگیوں ، ہڑبونگیوں کا واضح ثبوت مل رہا ہے تو دوسری جانب تحریک انصاف میں پارٹی نظم وضبط اور اخلاقی تربیت کے فقدان کی نشاندہی ہوتی ہے ۔

ٹھیک ہے ،یہ مان لیا جائے کہ ہر سیاسی جماعت میں ڈسپلن کا فقدان پایا جاتا ہے لیکن عمران خان کی جماعت کا معاملہ ذرا مختلف ہے کیونکہ انہوں نے قوم کو جو خواب دکھایا ہے اسکی رو سے ان کے پاس ایسی جغادری ٹیم موجود ہے جو ملک میں بہترین قیادت کا ثبوت دے گی اور ملک میں واضح تبدیلی آئے گی لیکن قوم اب اس سوچ میں پڑ گئی ہے کہ عمران خان نے اپنی جس سیاسی انتظامی دیگ کے پک جانے کا دعویٰ کیا ہے اسکے چند دانے کھانے پر ہی معلوم ہوگیا ہے کہ باقی دیگ کیسی ہوگی ۔ایسی تبدیلی سے ملک کا مالی سیاسی انتظامی اخلاقی دیوالیہ نہ نکل جائے ۔خان کا پارٹی ڈسپلن پر کتنا قابو ہے ؟عمران خان صاحب نے اگر اس معاملہ پر سختی سے نظر رکھی تو امید کی جاسکتی ہے کہ وہ ریاستی اور غیر پارٹی چینلجز کا بھی مقابلہ کرلیں گے بصورت دیگر انہیں اپنی نبیڑنے کی پہلے فکر کرنی ہوگی۔ 

۔

نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں۔ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزیدخبریں