جبری گمشدگی کو قانونی جرم قرار دیا جائے گا، ڈاکٹر شیریں مزاری

30 اگست 2018 (20:22)

اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی سینئر رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری کا کہنا ہے کہ جمہوری حکومت میں اب جبری گمشدگی نہیں ہونے دی جائے گی اور جبری گمشدگی کو قانونی جرم قرار دیا جائے گا۔

جبری گمشدگی کے عالمی دن کے موقع پر اسلام آباد کے ڈی چوک میں ڈی ایچ آر کے زیر اہتمام پرامن مظاہرہ کیا گیا، جس میں لاپتہ افراد کے ورثا، سیاسی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے ارکان نے شرکت کی۔

وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے بھی مظاہرے میں شرکت کی،انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران لوگوں کو بڑی تعداد میں لاپتہ کیا گیا، اب جب اس جنگ کا اختتام ہونے جارہا ہے تو اس مسئلے کا بھی اختتام ہونا چاہئے، جن پر کوئی جرم ہے انہیں عدالتوں میں پیش کیا جائے، جو مر گئے ہیں ان کا بتا دیا جائے جبکہ جو دہشت گردوں کے ساتھ چلے گئے ہیں ان کا بھی بتادیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ 'جمہوری حکومت میں اب جبری گمشدگی نہیں ہونے دی جائے گی، جبری گمشدگی کو قانونی جرم قرار دیا جائے گا اور اب تک لاپتہ ہونے والے افراد کا مسئلہ حل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک میز پر بٹھایا جائے گا۔'

واضح رہے آج دنیا بھر میں جبری گمشدگی کا عالمی دن منایا جا رہا ہے جس کے حوالے سے دنیا بھر میں لا پتہ افراد کے لئے مظاہرے اور احتجاج کئے جا رہے ہیں۔

مزیدخبریں