کاروبارِ عدل؟

کاروبارِ عدل؟
کاروبارِ عدل؟

  



ابنِ خلدون، تاریخ اسلام کا ایک روشن ستارہ ہے۔ جَودَت، ذکاوت، ذہانت اور فراست! حلقہ ء اسلامیان کا زرخیز و تحقیقی، بلکہ تخلیقی دماغ! بے مثال و لازوال ماہرِ عمرانیات و سماجیات!! انہوں نے اپنے معروف مقدمہ ء تاریخ، جو مقدمہ ابنِ خلدون کی حیثیت سے شناخت رکھتا ہے، میں گویا قوموں اور تہذیبوں کے فنا و بقا کا سربستہ راز کھول دکھایا! ان کے نزدیک فرد کی طرح اقوام کا بھی ایک عرصہ ء حیات متعین ہے۔ اسی طرح عوارض اور حیات و ممات بھی! لکھتے ہیں:

”جبر و تشدد اور استبداد کی حکمت عملی نے آج تک کسی حکومت یا مملکت کو استحکام نہیں بخشا۔ اس کا نتیجہ ذلت و زوال اور بتدریج تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ جو حکومتیں یا حکمران عوام کے ساتھ عدل نہیں کرتے اور محض طاقت کے بل بوتے پر حکومت کرنا چاہتے ہیں، وہ ہمیشہ ناکام ہوتے ہیں۔ محصولات کا بھاری بوجھ، رعایا کی جائیداد اور املاک پر ناجائز قبضہ، انتظامیہ کی بے قاعدگیاں، ناانصافیاں اور کارکنانِ قضا و قدر کی چشم پوشی سے پہلے لوگوں میں بداعتمادی پیدا ہوتی اور پھر دھیرے دھیرے ملک میں شورش پھیل جاتی ہے۔ بالآخر یہی اسباب بڑھتے بڑھتے ملک و قوم کی تباہی کا سبب بن جاتے ہیں“۔

علامہ ابنِ خلدون نے اس موضوع کو مزید آگے بڑھایا اور بتایا ہے کہ اگر حکومت سہولت و عدالت کو مدنظر رکھتی ہو تو عوام کی جرات و غیرت اور خود داری قائم رہتی ہے، جبکہ یہ غضب و غلبہ سے کام لے تو قوم کی عزتِ نفس و حریت پسندی مٹنے لگتی ہے اور رفتہ رفتہ ان کی حفظ و مدافعت کی صلاحیت بالکل مفقود ہو جاتی ہے۔ یہاں تک کہ وہ نکما اور سست پڑ جاتے ہیں!

ہمیں سوچنا اور خوب غور کرنا چاہیے کہ مملکتِ خداداد پاکستان میں معیار عدل کیا ہے؟ ہمارے معاشرے میں عدل نام کی کوئی شے ہے بھی کہ نہیں؟ عدل، عدل ہے۔ اس کی فقط دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔ یہ کہیں پورے کا پورا موجود ہوتا ہے یا بالکل بھی نہیں۔ پہلی قابلِ غور تو یہ بات ہے کہ ہمارے منصف، مزاج ملازمت رکھتے ہیں۔ خدا کے بجائے حکمران کی رضا پر نظر ہو تو کیا خاک قضا کریں گے۔ دوسری یہ کہ پھر ان کے ہاتھ پاؤں قوانین و تعزیرات کی زنجیروں سے جکڑ دیئے گئے ہیں۔ اولاً ان کی فطرت، عدالت سے عاری، ثانیاً بالائی طبقہ نے قوانین اپنے اور اپنی کرپشن کے تحفظ کی خاطر وضع کر رکھے ہیں۔ نتیجتاً ہر جگہ کرپشن ہی کرپشن اور ناانصافی ہی ناانصافی!

مجھے کھل کر کہنے دیجئے کہ پاکستان میں انصاف نہیں ہو رہا، اور نہ ہی دور دور تک اس کا کوئی امکان ہے۔ یہاں تو بس ایک مفروضہ انصاف کی اداکاری ہو رہی ہے۔ ابنِ خلدون نے صدیوں قبل جو نقشہ کھینچا تھا۔ ہمارا ملک آج بھی ہوبہو اس کی تصویر ہے۔ اگر خدانخواستہ یہی حالات و واقعات رہے تو تباہی میں بس تھوڑی سی کسر باقی ہے!

پاکستان، کہا جاتا ہے، دو قومی نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا تھا۔ وطن عزیز میں اب بھی دو قومیں ہی آباد ہیں۔ ستم مگر یہ ہے کہ عملاً قوموں کا حدود اربعہ تبدیل ہو گیا ہے۔ اب مسلمان اور غیر مسلمان کی جگہ ظالم اور مظلوم، غاصب اور محروم، امیر اور غریب نے لے لی ہے۔ پوری قوم کے وسائل اقلیت (چند افراد و خاندان) کے قبضے میں ہیں۔ غالب ترین اکثریت کا کوئی پُرسان حال نہیں۔ ہر شعبہ ہائے حیات میں ناانصافی! عدالتوں پر بھی عداوتوں کا گمان گزرتا ہے۔ اس کی وجہ لیکن یہ ہے کہ یہاں دو قانون نافذ ہیں۔ ایک ان کے لئے، جن کا سب کچھ ہے۔ دوسرا ان کے لئے جن کا دنیا میں کچھ بھی نہیں۔

دیکھئے، بہت کچھ ہو چکا، اب یہ نہیں چلے گا۔ اگر یہ چلا تو ملک نہیں چلے گا۔ ہمیں جلد کوئی فیصلہ کرنا ہو گا۔ نہیں تو بہت دیر ہو جائے گی۔ دیر تو پہلے ہی کافی سے زیادہ ہو چکی ہے۔ آخر حالات کا ماتم کب تک؟ کوئی ہے ملک کو بچانے والا؟ پھر نہ کہنا کہ بروقت خبر نہ تھی! بلاشبہ اپنا ملک تباہی کے دہانے پر آ پہنچا ہے۔ کسی وقت کچھ بھی ہو سکتا ہے۔ ایک آگ سوئی پڑی ہے، جو کہیں بھی جاگ سکتی ہے اور جلا کر سب خاکستر کر دے گی۔ تباہی و بربادی سے بچنے کی تو بس ایک ہی صورت رہ گئی ہے، اور وہ یہ کہ حکمرانی کا قانون یکسر ختم کر دیا جائے اور قانون کی حکمرانی کا دور دورہ ہو۔ انقلابی قانون اور انقلابی حکمران!

مزید : رائے /کالم