کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لیے وہ 7 اصول جو آپ کو معلوم نہیں

کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لیے وہ 7 اصول جو آپ کو معلوم نہیں
کسی کے دل میں جگہ بنانے کے لیے وہ 7 اصول جو آپ کو معلوم نہیں

  


لاہور (مولانا حافظ زبیر حسن اشرفی) ”حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم اپنے آپ کو بدگمانی سے بچائو کیونکہ بدگمانی سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے اور نہ کسی کا راز جاننے کی کوشش کرو اور نہ کسی کی ٹوہ میں رہو اور نہ قیمت بڑھانے کے لیے بولی دو اور نہ آپس میں حسد کرو اور نہ ایک دوسرے سے بغض رکھو اور نہ ایک دوسرے سے قطع تعلقی کرو اور تم بھائی بھائی بن کر اللہ کے بندے بن جائو۔“(بخاری و مسلم)

اس ارشاد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں ایسی سات باتوں سے منع کیا گیا ہے جن سے معاشرتی زندگی میں خرابی اور بے سکونی پیدا ہوتی ہے۔ اور دلوں میں جوڑ کے بجائے توڑ پید اہوتا ہے اور اگر ان سات برائیوں سے بچا جائے تو یقینا ہماری معاشرتی زندگی محبت اور اخوت کا نمونہ بن جائے اور آپس کا قلبی تعلق خوب مضبوط ہو جائے۔ان میں سے پہلی بات جس سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا وہ یہ ہے کہ تم اپنے آپ کو بدگمانی سے بچاو¿ کیونکہ یہ سب سے زیادہ جھوٹی بات ہے۔ ایسا شخص جو دوسروں کے متعلق برے خیالات کو ذہن میں جمائے رکھتا ہے وہ زندگی میں کبھی ذہنی سکون نہیں پا سکتا بلکہ اسی سے باہمی نفرت اور دلوں کی دوری پیدا ہوتی ہے اور وہ شخص خود اپنی ذاتی زندگی تعمیری انداز میں نہیں گزار پاتا۔رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دوسرا اس بات سے روکا کہ تم کسی کے راز کی تلاش میں نہ رہو، کسی کی باتوں کی ٹوہ میں نہ رہو۔ معاشرے میں بعض لوگوں کی یہ عادت بن جاتی ہے کہ وہ دوسرے کے عیبوں کی تلاش میں رہتے ہیں نتیج?ًانہیں اپنے عیب نظر نہیں آتے اور وہ اپنی اصلاح نہیں کر پاتے۔ خود تو برے ہوئے لیکن دوسروں کے عیبوں پر نظر رکھنے کی وجہ سے خود بھی دوسروں کی نگاہوں میں گر گئے۔ جب بھی انسان کے مزاج میں یہ بات آنے لگے تو فوراً اپنے ذہن میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد لے آئے کہ جو شخص اپنے مسلمان بھائی کا عیب ڈھونڈتا ہے تو اللہ اس کے عیب کو ڈھونڈتا ہے اور جس کے عیب کو اللہ ڈھونڈنے لگ جائے تو وہ اگر اپنے گھر میں بھی چھپ کر کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے ذلیل و رسوا کر دے گا۔تیسری بات جس سے ر سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا وہ یہ کہ تم کسی کی جاسوسی نہ کرو۔ جاسوسی کرنے اور ٹوہ لگانے میں فرق یہ ہے کہ ٹوہ لگانے میں انسان دوسرے کے عیب اور راز معلوم کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے اور جاسوسی میں ہر حالت پر نظر رکھتا ہے چھپ کر باتیں سنے گا۔ آنے جانے پر نظر رکھے گا۔ کیا پکا ہے کیا کھایا ہے، کہاں سے کتنا کماتا ہے۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معاشرتی زندگی میں جاسوسی سے اس قدر نفرت تھی کہ جب ایک شخص نے دروازے کی جھری میں سے جھانکنے کی کوشش کی تو فرمایا کہ میرا جی یہ چاہا کہ سلاخ سے اس کی آنکھ پھوڑ دوں۔چوتھی بات جس سے منع فرمایا وہ یہ کہ لاتنا جشوا تم ایک چیز کے خریدنے کا ارادہ نہیں رکھتے تو صرف قیمت بڑھانے کے لیے بولی مت لگائو۔ یہ دھوکہ دہی ہے اور ہمدردی اور خیر خواہی کے خلاف ہے۔اور پانچواں حسد سے منع فرمایا ہے کہ کسی کے پاس نعمتیں دیکھ کر، اس کے فضل و کمال اور اس کی اچھی حالت کو دیکھ کر دل میں جلنا اور کڑھنا اور یہ چاہنا کہ اس سے یہ نعمت چھن جائے۔ یہ حسد کہلاتا ہے۔ یہ ایک ایسا اخلاقی مرض ہے جس کی وجہ سے انسان کی ذہنی اور جسمانی صلاحتیں مفلوج ہو کر رہ جاتی ہیں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یہاں تک فرمایا کہ تم حسد سے بچو کیونکہ یہ نیکیوں کو اس طرح کھا جاتا ہے جیسے خشک لکڑی کو آگ کھا جاتی ہے۔چھٹی بات جس سے منع فرمایا وہ بغض اور کینہ ہے۔ کسی کے خلاف نفرت اور دشمنی کو ذہن میں زیادہ دیر جگہ دینے کو بغض اور کینہ کہتے ہیں۔ یہی وہ دلوں میں سلگنے والی آگ ہے جس سے معاشرتی زندگی تباہ ہو کر رہ جاتی ہے۔اور ساتویں بات قطع تعلقی ہے جس سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے روکا۔ رشتہ داریوں کو جوڑے رکھنا اور معاشرے کے افراد سے تعلق رکھنا اس کا اثر انسان کی زندگی پر بڑا گہرا ہوتا ہے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ اس کے رزق اور اس کی عمر میں برکت ہو تو اسے چاہیے کہ وہ صلہ رحمی کرے یعنی رشتوں کو جوڑے رکھے۔پھر آخر میں فرمایا کہ تم بھائی بھائی بن کر اللہ کے بندے بن جاو¿۔ لہٰذا اگر آج بھی انسان یہ چاہے کہ میں ایک گھر، ایک خاندان ایک ادارے میں ذہنی اور جسمانی سکون کے ساتھ خوشگوار زندگی گزاروں تو اسے ان سات باتوں پر بھی عمل کرنا ہو گا۔اللہ رب العزت ہم سب کو بھائی بھائی بن کر اللہ کا بندہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔

مزید : علاقائی /پنجاب /لاہور /روشن کرنیں


loading...