دکھی خواتین کی خدمت اورشازیہ اسد کاعزم

دکھی خواتین کی خدمت اورشازیہ اسد کاعزم
دکھی خواتین کی خدمت اورشازیہ اسد کاعزم

  


اکثروبیشتربڑے شہروں کی سڑکوں پرمختلف غیرسرکاری تنظیموں کے نمائندے کسی نہ کسی مسئلے کواجاگرکرنے کے لیے ریلیاں نکالتے اورواک کرتے نظرآتے ہیں،کہیں تقریبات اور سیمینارزکیے جاتے ہیں توکہیں شمعیں روشن کی جاتی ہیں،ان میں بہت سے ایسے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں جومعاشرے کے لیے کچھ کرناچاہتے ہیں مگرکچھ خاص ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جنہیں فنڈزجمع کرتے تودیکھاجاتاہے مگران کی خدمات کہیں نظرنہیں آتیں،اپنے ریکارڈکودرست رکھنے کے لیے کبھی کبھارفوٹوسیشن کااہتمام کرکے بعدمیں فلاحی سرگرمیوں کانام ونشان تک نظرنہیں آتا،فوٹوسیشن اورموم بتی جلانے والوں کواس سیکٹرمیں خاص تجربہ اورتعلقات ہونے کی وجہ سے مالی مفادات زیادہ لینے میں کامیابی مل جاتی ہے جس کانتیجہ یوں نکلتاہے کہ جوحقیقی فلاحی کاموں میں مصروف عمل لوگ ہیں وہ فنڈزسے محروم رہ جاتے ہیں،حکومت بھی گاہے بگاہے ایسی نام نہادتنظیموں کیخلاف متحرک نظرآتی ہیں مگرپھربھی یہ ہمارے معاشرے کاحصہ ہیں جن کی حوصلہ شکنی ضروری ہے،ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ جو لوگ حقیقی معنوں میں دکھی انسانیت کی خدمت کررہے ہیں،جوفلاح انسانیت کے جذبے سے سرشارہیں ان کے دست وبازوبناجائے،اس کے لیے کروڑوں روپے کی ضرورت نہیں بلکہ سب سے پہلے اپنے اندرایک جذبہ پیداکرنے کی ضرورت ہے جس کے تحت انسان کودوسرے انسان کی مددکرکے سکون ملتاہے،دوسروں کی خوشیوں میں انسان کوخوشی ملتی ہے۔

اکثراوقات کسی اشارے پرایسے شخص سے ملاقات ہوجاتی ہے جودست سوال درازکرتاہے مگرحسب استطاعت دینے کے لیے کچھ نہ ہوتوانہیں گاڑی میں رکھابسکٹ،فروٹ یاپھرایسی کوئی کھانے کی چیزجوآپ نے اپنے لیے خریدی ہو،دے کر دیکھیں اورپھرمتعلقہ شخص کے شہرے پرخوشی دیکھیں،اس خوشی کودیکھنے کے بعدجودلی سکون ملتاہے،شاید آپ کو اس سے پہلے کبھی نہ ملا ہو،کبھی کسی ایسے مزدورکو روٹی کھلاکر،کچھ پیسے دے کریاپھرایسی ہی کسی اورچیز کی صورت میں مددکرکے دیکھیں توآپ کواُس شخص کے چہرے پرجہان کی تمام دعاؤں کاعکس نظرآئے گا،ایسے لوگ بھکاری نہیں ہوتے،ضرورت مند ہوتے ہیں،مانگنے والے کی بجائے،نہ مانگنے والے ضرورت مندکوکچھ دے کر ملاحظہ کریں تویقینا آپ آئندہ بھی ایسے لوگوں کی تلاش میں رہیں گے۔کچھ ایسے لوگ بھی ہمارے معاشرے میں کام کررہے ہیں جوصرف دکھی انسانیت،معاشرے کے دبے ہوئے طبقے کواوپر لانے کے لیے کام کرتے ہیں،بیروزگاروں کو روزگاردینے کا عزم رکھتے ہیں،لوگوں کوہنرمندبنانے کا کام کرتے ہیں،ایسے سنٹر،ایسی تنظیمیں اورایسے فورم بھی ضرورت مند ہیں،ہمیں وہاں جاکر ان کی خدمات اپنی آنکھوں سے دیکھنے کی ضرورت ہے،ان کے فلاحی کاموں کاجائزہ لے کر ان سے پوچھنے کی ضرورت ہے کہ آپ معاشرے کے لیے نیک کام کررہے ہیں،ہم آپ کاساتھ کس طرح دے سکتے ہیں،دلی سکون حاصل کرنے کے جس سفرپرآپ چل رہے ہیں ہم اس کے مسافرکیسے بن سکتے ہیں؟ممکن ہے وہاں کچھ ضرورت،کچھ کام اورکچھ ایسی جگہ ہوجس میں آپ کے حصے کی نیکی پڑی ہو،ایسی نیکی ممکن ہے ہمارے دل بھی بدل دے،ممکن ہے یہ کام ہمارے لیے صدقہ جاریہ بن جائے ۔ایسے لوگ ہمارے درمیان ہی موجودہیں،بس تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔

پروفیسراسدسلیم شیخ گورنمنٹ کالج پنڈی بھٹیاں کے پرنسپل ہیں،آج سے چندسال قبل میری ان سے ملاقات ان کی رہائش گاہ پرایک دوپہر کو ہوئی،پروفیسرصاحب کمال کے مہمان نوازہیں اوردوسروں کا درد محسوس رکھنے والے انسان ہیں،ان کے دائیں بائیں کتابیں ہی نظرآتی ہیں کیوں کہ علم ان کازیورہے اوریہی خزانہ وہ سب کولٹارہے ہیں۔اس کیساتھ ساتھ مجھے خوشی اس بات سے مزیدہوئی کہ پروفیسرصاحب کی اہلیہ شازیہ اسد خواتین کے لیے فاطمۃ الزہراء کے نام سے پنڈی بھٹیاں میں ہی ایک سنٹرچلارہی ہیں ،اس سنٹرکے تحت بے سہاراخواتین کوراشن،صحت کی سہولیات،لباس کی فراہمی اورانہیں ہنرمندبنایاجاتاہے،یتیم بچیوں کے تعلیمی وظائف کااہتمام کیاجاتاہے،شازیہ اسدکوعلاقے میں میڈیکل کیمپ ، اجتماعی شادیوں،کمپیوٹرکی تعلیم اورخواتین کوسلائی کڑھائی سکھانے میں ہمیشہ پیش پیش دیکھاگیاہے۔ایک باہمت خاتون جسے معاشرے کی دیگرخواتین کی فکر ہے،وہ اپنی مددآپ کے تحت اورکسی حدتک مخیرحضرات کے تعاون سے اس سفرمیں جانب منزل رواں دواں ہیں۔معاشرتی رکاوٹوں اورمالی مسائل کے باوجودکچھ کرنے کاجذبہ یقیناقابل تعریف ہے ،چندروزقبل ان سے رابطہ ہواتوکہنے لگیں کہ اب ہم اس مقصدمیں کافی حدتک کامیاب ہیں مگربعض دفعہ انہیں مالی مسائل درپیش ہوتے ہیں،محدودوسائل کی وجہ سے بہت سے ایسے کام ہم بروقت نہیں کرپاتے جنہیں فوری ہوناچاہیے،ہمیں اب پنڈی بھٹیاں سے باہرکے مخیرحضرات اورحکومتی سطح پرمزیدتوجہ کی ضرورت ہے تاکہ پسماندہ دیہات میں یہ سلسلہ مزیدبڑھاسکیں۔شازیہ اسدکوفاطمۃ الزہراء سنٹر میں ٹیچرزکی تنخواہوں،سامان کی خریداری اورعمارت کے کرایہ کی صورت میں مشکلات درپیش ہیں،ہمیں اُن کے اس مشن میں ان کاساتھ دینے کی ضرورت ہےتاکہ دوسروں کی بھلائی کے سفرمیں قافلہ بڑھتاجائے اوریوں پنڈی بھٹیاں سے جلنے والی اس شمع کی روشنی پورے ملک کی دکھی انسانیت تک پہنچ سکے۔

(بلاگرمناظرعلی سینئر صحافی اور مختلف اخبارات،ٹی وی چینلزکے نیوزروم سے وابستہ رہ چکے ہیں،آج کل لاہورکے ایک نجی ٹی وی چینل پرکام کررہے ہیں، عوامی مسائل اجاگر کرنے کیلئے مختلف ویب سائٹس پربلاگ لکھتے ہیں،اس فیس بک لنک پران سے رابطہ کیا جا سکتا ہے، www.facebook.com/munazer.ali )

نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید : بلاگ


loading...