شہر قائد کے بیشتر علاقوں سے بارش کا پانی نہ نکالا جاسکا،مزید 6افراد جاں بحق،امدادی کارروائیاں جاری،پاک فوج کی ٹیموں نے شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر کردیا،کراچی سمیت سندھ کے 20اضلاع آفت زدہ قرار

شہر قائد کے بیشتر علاقوں سے بارش کا پانی نہ نکالا جاسکا،مزید 6افراد جاں ...

  

کراچی،اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیترنگ ڈیسک، نیوز ایجنسیاں) سندھ حکومت نے  کراچی سمیت سندھ کے 20اضلاع کو آفت زدہ قرار دیدیا، سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے  کراچی کے 6اضلاع سمیت تمام اضلاع کے ڈپتی کمشنرز کو بارش اور سیلاب سے ہونے والے نقصانات  کا تمینہ لگانے کی ہدایت کردی  جن اضلاع کو اافت زدہ قرار دیا گیا ہے ان میں حیدر آباد، سکھر،تھرپارکر،شہید بے نظیر آباد،بدین، ٹھٹھہ، سجاول،ٹنڈو الہ یار،عمر کوٹ،اور ڈی ایچ اے سمیت کراچی کے چھ اضلاع شامل ہیں درین اثناوزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ بارشوں سے کراچی کے عوام کو درپیش تکالیف کا احساس ہے، وفاقی و صوبائی حکومت مل کر مسائل کے حل کیلئے کام کریں گی۔دوسری طرفدریاؤں میں سیلاب سے پہلے ہی سندھ کی جھیلیں، سیم نالے اور برساتی ندیاں بپھرنے لگیں، ضلع دادو میں واقع منچھر جھیل میں پانی کا شدید دباؤ ہے اور دروازہ ٹوٹنے کے بعد دانستر واہ سے پانی کا رساؤ شروع ہوگیا۔ خوف و ہراس پھیلنے کے بعد منچھر جھیل کے قریبی دیہات سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی۔ضلع میرپور خاص کے علاقے نوکوٹ کے سیم نالے کی سطح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوگیا جس سے نوکوٹ شہر کو شدید خطرہ لاحق ہوگیا ہے۔ قریبی دیہات سے لوگوں نے نقل مکانی شروع کردی ہے۔ نوکوٹ شہر کو بچانے کیلئے پشتوں پر ریت کی بوریوں سے بند باندھنے کا کام شروع کردیا گیا۔منچھر جھیل سے ملحقہ دانستر واہ کا دروازہ آر ڈی 62 کے مقام پر پانی کے دباؤ کے باعث ٹوٹ گیا جس کے بعد وہاں سے   پانی کا رساؤ شروع ہوگیا ہے اور بوبک شہر اور سیہون ائیر پورٹ کے زیر آب آنے کا خدشہ ہے۔علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ یونین کونسل بوبک، جعفر آباد، واہڑ، آئل ریفائنری سمیت سیکڑوں دیہاتوں کے بھی زیر آب آنے کا خطرہ ہے۔خوف وہراس پھیلنے کے باعث مقامی آبادی نے محفوظ مقامات کی جانب نقل مکانی شروع کردی ہے۔وزیراعظم عمران خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا اس مشکل گھڑی میں ایک مثبت پیشرفت بھی سامنے آئی ہے، وفاقی اور صوبائی حکومت مل کر کراچی کے 3 بڑے مسائل کے حل کیلئے کام کریں گی، نالوں کی مکمل صفائی کیساتھ تجاوزات کو ہٹایا جا رہا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کوڑا کرکٹ اور نکاسی آب کے مسئلے کا مستقل حل نکالیں گے، کراچی کے عوام کو پینے کے پانی کی فراہمی کا مسئلہ حل کریں گے۔ دوسری طرف کراچی کے، بیشتر علاقوں سے پانی نہ نکالا جا سکا، بھٹائی آباد اور گرے ریور سائیڈ اپارٹمنٹ ڈوب گئے، لائنز ایریا کا بھی برا حال ہے، گھروں میں کئی کئی فٹ پانی تاحال موجود ہے، گھریلو سامان بھی برباد ہوگیا۔ کئی علاقے تاحال بارشی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، کورنگی کراسنگ کے علاقے میں ایک باپ بیٹی کا جہیز برباد ہونے پر رو پڑا،۔کراچی کے علاقے لائینز ایریا کی صورتحال بھی خراب، برساتی اور گٹڑ کا پانی گھروں میں داخل ہوگیا، شہری گندگی اور تعفن زدہ ماحول میں گھر گئے۔ سرجانی ٹاون کے یوسف گوٹھ، عبدالرحیم گوٹھ جبکہ سچل گوٹھ  میں بھی گھروں ابھی تک پانی نہین نکالا جا سکا شہر قائد میں بارش کے پانی میں ڈوبنے اور کرنٹ لگنے سے  مزید 6افراد جاظ بحق ہو گئے۔۔کورنگی کراسنگ ندی سے خاتون سمیت 2 افراد کی لاشیں ملیں، بلدیہ مشرف کالونی میں تالاب سے لڑکے کی لاش ملی، منظور کالونی جونیجو ٹاؤن نالے سے بھی ایک شخص کی لاش ملی۔کراچی کے علاقے ناتھا خان نالے کے قریب کرنٹ لگنے سے ایک شخص جاں بحق ہوا، اورنگی ٹان سیکٹر ڈی 14 کے قریب بھی گھر میں کرنٹ لگنے سے خاتون کا انتقال ہوا۔دوسری طرف کراچی میں بارش کے بعد بجلی کا نظام درہم برہم ہو چکا ہے، کے الیکٹرک کے 150 فیڈر ٹرپ کر چکے ہیں، 30 کیبل فالٹس سامنے آئے، 50 گھنٹے بعد بھی شہر کی بجلی مکمل بحال نہ ہو سکی، سٹی ریلوے کالونی ہمپ یارڈ میں بھی 48 گھنٹے سے بجلی غائب ہے۔دریں اثنا  بارش کے بعد پاک فوج اور نیوی امدادی کاموں میں مصروف ہے۔  شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر کر دیا گیا ہے۔پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کی طرف سے جاری کردہ بیان کے مطابق کراچی میں سیلاب متاثرہ علاقوں میں آرمی اور نیوی کی ٹیمیں امدادی کاموں میں مصروف ہیں۔ امدادی کارروائیوں کے دوران پاک آرمی نے شاہراہ فیصل پر انڈر پاس کلیئر کر دیا ہے اور ٹریفک رواں کر دی ہے، پاک فوج پانی میں پھنسی گاڑیاں بھی کلیئر کر رہی ہے، کراچی ایئر پورٹ بھی امدادی کام جاری ہیں جب کہ  زیرآب علاقوں میں نکاسی آب کاعمل بھی جاری ہے۔ پاک فوج کی امدادی موبائل ٹیمیں متحرک ہیں۔ قیوم آباد، سرجانی اور سعدی ٹاؤن میں 3 آرمی فیلڈ میڈیکل مراکز کام کررہے ہیں، آرمی ڈاکٹرز اور طبی عملہ متاثرین کو سہولیات فراہم کر رہا ہے۔ پاک فوج کی 36 ایمرجنسی موبائل میڈیکل ٹیمیں کام کر رہی ہیں، پاک فوج کے 56 میڈیکل کیمپ طبی امداد فراہم کرنے میں مصروف ہیں، سیلاب کے متاثرین تک کھانا بھی پہنچایا گیا۔کراچی کے مختلف علاقوں میں مسلسل تیسرے روز بھی موبائل فون سروس متاثر  رہی۔   دو روز قبل ہونے والی بارش کے باعث بجلی کے طویل بریک ڈاون کی وجہ سے شہر کے بیشتر علاقوں میں موبائل فون سروس معطل ہوئی تھی۔ دو روز بعد بجلی کی فراہمی بحال ہونے کے بعد شہر کے کچھ علاقوں میں موبائل فون سروس بھی بحال ہو گئی ہے تاہم اب بھی شہر کے بیشتر علاقے ایسے ہیں جہاں موبائل فون سروس بند ہے یا سگنلز نہ ہونے کے برابر ہیں۔  بارش کے بعد ملک کے بیشتر دریاؤں میں پانی کی سطح بلند ہونے لگی، چنیوٹ میں دریائے چناب پر ضلع بھر میں ہائی الرٹ جاری کر دیا گیا، پھالیہ میں بھی سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی، گھوٹکی میں بھی شینک بند میں تیزی سے کٹاؤ جاری ہے۔دریائے چناب میں چنیوٹ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے، جس کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ہائی الرٹ جاری کر دیا ہے۔ سیلابی پانی سے سیکڑوں ایکڑ پر لگیں فصلیں زیر آب آگئیں، کئی دیہاتوں کا شہروں سے زمینی رابطہ منقطع ہوگیا، لوگوں کو نقل مکانی کی ہدایات بھی جاری کر دی گئیں ہیں۔پھالیہ میں بھی ہیڈ قادر آباد کے مقام پر دریائے چناب میں سیلابی صورتحال ہے۔ پانی کی آمد ایک لاکھ 84 ہزار کیوسک اور اخراج ایک لاکھ 75 ہزار کیوسک ہے، بپھرے پانی کے باعث جاگو کلاں کے قریب سینکڑوں ایکڑ اراضی زیر آب آگئی۔ ریسکیو آپریشن کے دوران 11 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا۔ جھنگ کے قریب بھی دریائے جہلم اور چناب میں پانی کی سطح میں مزید اضافہ ہوگیا، ریسکو ٹیموں کی طرف سے 12 امدادی پوائنٹ قائم کر دئیے گئے۔دریائے سندھ میں بھی پانی کی سطح تیزی سے بلند ہو رہی ہے۔ گڈو اور سکھر بیراج پر بھی سیلابی صورتحال ہے۔ پانی کچے کے علاقے میں داخل ہونے سے 20 سے زائد گاؤں متاثر ہوئے، لوگ نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں پانی کی سطح میں مزید اضافے کا امکان ہے،

آفت زدہ قرار

مزید :

صفحہ اول -