حسینؓ کی جنگ جاری ہے

حسینؓ کی جنگ جاری ہے

  

 آج یوم عاشور ہے،سانحہ کربلا کو گزرے تقریباً پونے چودہ سو برس بیت گئے ہیں،  نواسہ رسولؐ حضرت امام حسینؓنے اپنے خون کے پیاسوں کو اپنی ضد  ترک کرنے، حق ماننے اور فلاح کا راستہ اختیار کرنے کا پیغام دیا،لیکن ان کے مخالفین پر اس کاذرہ برابر اثر نہ ہوا۔ کربلا میں  نبیؐ کے نواسے اور ان کے قافلے میں شامل نفوس قدسیہ کا خون بہا دیا گیا۔یہ خون کربلا کے میدان میں جذب ہوا اور کربلا کا ذرہ ذرہ آفتاب بن گیا اس آفتاب سے نہ صرف دنیا بھر کے مسلمانوں بلکہ اعلیٰ روایات اور جمہوریت کا ادراک رکھنے والے تمام افراد کو آج تک روشنی مل رہی ہے۔ دنیا میں امن کا پیغام بلند ہوتا ہے۔ امام عالی  مقام چاہتے تو کیا نہیں ہو سکتا تھا؟ کیا کسی کی تلوار کسی کے نیزے میں اتنی طاقت تھی کہ خانوادہ رسولؐ کا ایک قطرہ بھی بہا سکتا،ہرگز نہیں۔ لیکن معاملہ تو نانا کے دین کا تھا، مسئلہ تو رہتی انسانیت  تک دنیا کو  پیغام دینا تھا کہ یہ دنیا توفانی ہے، عارضی ہے،جب بھی حق کی بات آئے، ضمیر کی بات آئے تو ہمیشہ حسینؓ کے انکار کو یاد رکھو۔

 61ہجری 2محرم کو قافلہ حسین کربلا کے مقام پر پہنچا،ان  پر نت نئے طریقوں سے  مظالم توڑے جاتے رہے، لیکن آفرین ہے نواسہ رسوؐل اور ان کے ساتھیوں پر،انہوں نے جس عزم اور حوصلے سے ان مظالم کو برداشت کیا، وہ بے مثل ہے، بے شک یہ ان ہی کا حوصلہ تھا۔امام اعلیٰ مقام نے یہ سفر تخت نشین ہونے والے ایک جابر کی  بیعت سے انکار اور مدینہ منورہ کو خون ریزی سے بچانے کے لئے شروع کیا تھا۔ آپؓ نے حرم کعبہ کی حرمت کے تحفظ کے پیش نظر حج کے ارادے کو عمرہ میں تبدیل کیا اور مکہ مکرمہ سے کوفہ کے لئے رخت سفر باندھ لیا۔

کربلا کی ریت نے امام عالی مقام اور ان کے قافلے میں شامل افراد کی لاشوں کو اپنے دامن میں سمیٹ لیا۔ بچ جانے والوں کو گرفتار اور پابند سلاسل کیا گیا۔ جنت میں نوجوانوں کے سردار، نبی برحقؐ کے کاندھوں کی سواری کرنے والے، فاطمہؓ کے لعل، شیر خدا علی المرتضیٰؓ کے بیٹے  نے  جو جنگ لڑی وہ آج بھی کسی نہ کسی شکل، کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔

آج امت مسلمہ کو بیش بہا مسائل کا سامنا ہے۔ شام، عراق، مصر، لیبیا، یمن، افغانستان، فلسطین، کشمیرہر جگہ ہی مسلمان اپنے حق کے لئے لڑرہے ہیں۔  مسلمان کا خون پانی سے زیادہ ارزاں معلوم ہو رہا ہے، وقت کے جابر ببانگ دہل للکار رہے  ہیں۔ان  کا پلڑ  افی لوقت بھاری ضرور ہے  لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ہر دورکے جابرکو یہی گمان تھا کہ دنیا اس کی مٹھی میں ہے لیکن پھراہل عالم نے دیکھا کہ کس طرح یہ یقین مٹھی میں بند بھر بھری ریت کی طرح ان کے ہاتھوں سے سرک گیا، وہ خالی ہاتھ رہ گئے۔

آج مسلم قیادت اپنے فروعی اختلافات بھلا دے،ایک پلیٹ فارم پر اکٹھی ہو جائے تو کوئی وجہ نہیں کہ اس کے تمام مسائل و مصائب ختم نہ ہو جائیں۔ نواسہ رسولؐ کا اصل پیغام ہی یہی ہے کہ یہ دنیا عارضی ہے جومال و دولت، جان کی پروا نہیں کرتے وہ ہی  تاریخ مرتب کرتے ہیں، نئی دنیا بناتے ہیں۔ جو اسلحہ بارود اور طاقت کے بل  پر دنیا فتح کرنے کا خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھے ہیں، انسانیت کو خون آلود کررہے ہیں وہ کبھی اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں گے، ہر یزید کے لئے حسین  ضرور ہو گا۔

مزید :

رائے -اداریہ -