سید الشہدا حضرت امام حسینؓ، ہم سب کے ہیں 

سید الشہدا حضرت امام حسینؓ، ہم سب کے ہیں 
سید الشہدا حضرت امام حسینؓ، ہم سب کے ہیں 

  

نواسہ رسولؐ، جگر گوشہ بتولؓ، سید الشہدا حضرت امام حسینؓ کو محرم الحرام کی دس تاریخ کو میدان کربلا میں یزیدی فوجوں نے اہل بیت اطہار کے 72نفوس سمیت شہید کر دیا تھا، یہ سانحہ عظیم اتنا درد ناک، کربناک اور دکھ دینے والا ہے کہ آج بھی ان کی یاد میں دل خون کے آنسو روتا ہے۔ رسول اکرمؐ کے لاڈلے حسینؓ تو آج بھی زندہ و جاوید ہیں۔ ان کا نام لینے والے کروڑوں ہیں۔ یزید کا نام کوئی لینے والا نہیں اور نہ ہی اس کی اولاد میں کوئی بچا اور نسل آگے چلی، یہ اللہ کی حکمت ہے کہ نام حسینؓ باقی اور یزید پر لعنت ہوتی ہے۔ اس روز جب حسینی قافلے کے سامنے مسلح یزیدی لشکر تھا تو اس میں سے بھی ایک غیرت مند نکل ہی آیا اور حر نے امام کی جانب سے شہادت قبول کی۔

حضرت امام حسینؓ کی فضیلت و برکت سے کوئی انکار کر سکتا اور نہ ممکن ہے۔ اسلام کی تاریخ میں بدقسمتی سے شہادتیں بھی مندرج  ہیں، تین خلفاء راشدین شہید کئے گئے تو خلیفہ اولؓ کے حوالے سے بھی بعض مصنفین نے شک کا اظہار کیا، بہرحال یہ سب اللہ کے دربار میں ہے اور وہی بہتر جانتا اور منصف ہے، ہم عامیوں کو تو ان سب کی عظمت و بلندی کا اعتراف ہے اور آل نبیؐ، اولاد علیؐ پر سلامتی بھیجتے ہیں۔

سانحہ کربلا کے حوالے سے اتنا عرض ہے کہ جو قربانی حضرت امامؓ نے اپنے خاندان کے 72نفوس کے ساتھ دی وہ روز قیامت تک مثال رہے گی کہ سید الشہداؓ نے اس میدان اور معرکہ میں بھی ہر نوعیت کی حجت کو پورا کیا، لیکن لشکر یزید بیعت سے کم کسی امر پر راضی نہ ہوا، اور یہ شہیداعظم سے ممکن ہی نہیں تھا، انہوں نے سر کٹانا منظور کیا، جھکایا نہیں، اور ہم عامی مسلمانوں کو یہ سبق دے گئے کہ حق و صداقت پر ہو تو موت بھی قبول ہے میں معذرت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نہ صرف غیر مسلم اس سانحہ عظیم اور تاریخ اسلام کے بارے میں غلط تصورات پھیلاتے ہیں بلکہ ہم مسلمان خود بٹ چکے ہیں اور ساڑھے چودہ سو، پندرہ سو سال قبل جو محترم ہستیاں ایک دوسرے کی قربت میں مطمئن تھیں، ان کا نام لے کر تفرقہ پیدا کرتے ہیں میں نے علماء کرام ہی سے سنا کہ جو میدان کربلا میں ہوا، ہمارے آقا پیارے رسولؐ اس سے آگاہ تھے اور حسینؓ سے کھیلتے ہوئے ملول ہو جایا کرتے تھے، یہاں میں اپنے والد محترم کا ایک جواب عرض کردوں، اگرچہ یہ مسئلہ نہیں، لیکن جواب ایسا ہی ممکن تھا، ان کے مطابق قیام پاکستان سے قبل ایک عیسائی پادری تبلیغ کر رہے تھے تو انہوں نے سانحہ کربلا کی آگاہی کے حوالے سے بھی فضول بات کہہ دی۔ والد صاحب کے بقول پادری نے کہا مسلمان کہتے ہیں کہ ان  کے نبیؐ اللہ کے مقرب اور آخری رسولؐ اور ان کو علم تھا کہ حضرت امام حسینؓ کو شہید کیا جائے گا تو انہوں نے اللہ سے دعا کرکے یہ شہادت ٹلا کیوں نہ لی۔ والد محترم کہتے ہیں، اس وقت مجھے اور تو کوئی دلیل نہ سوجھی، البتہ، میں نے پادری موصوف کو ٹوک کر کہا ”پادری صاحب! آپ کی معلومات کچی ہیں، جب حضورؐ کے علم میں آیا تو انہوں ؐ نے اللہ سے التجا کی کہ اللہ یہ  نہ ہونے دو، اے پادری تمہیں یہ معلوم نہیں کہ جواب کیا ملا تھا، تو سنو! اللہ نے کہا (نعوذ باللہ) اے رسولؐ میرا اپنا بیٹا سولی پر چڑھا دیا گیا تو میں نے کچھ نہ کیا۔ تمہارےؐ نواسےؓ کے لئے میں کیا کروں“ یہ جواب کوئی  منطقی دلیل تو نہیں تھا، لیکن جو انداز پادری کا تھا، اسے ایسا ہی جواب چاہیے تھا۔ عرض کا مقصد یہ ہے کہ آج کل (دکھ کے ساتھ) یہاں ہم مسلمان خود آپس میں ایسی ایسی باتیں، کہہ اور کہانیاں سنا رہے ہیں جو دلیل والی نہیں بلکہ ایسے ہی ”اِٹل بحر“ والے جواب جیسی ہیں۔

ہمارے بزرگ علامہ ابوالحسنات قادریؒ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ ہر انسان سے اس کے اپنے اعمال کا حساب مانگے گا ، فرشتے (منکر، نکیر) یہ نہیں پوچھیں گے کہ تمہارا مسلک کیا تھا، میں ایک بار ایک مسئلہ پوچھنے پر بضد ہوا تھا، جو جنگ جمل کے حوالے سے تھا تو انہوں نے یہ نصیحت کی اور یہ بھی وضاحت کی کہ علم کوئی مذاق نہیں، جو شخص ایک حدیث کو پڑھنا اور سمجھنا چاہتا ہے تو اسے پہلے خود اپنی زبان کے علم، پھر عربی اور تاریخ کے ساتھ جغرافیہ پر بھی مکمل عبور حاصل ہونا چاہیے، ورنہ بھٹک جائے گا، دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ آج علم کی بات ہی نہیں ہوتی۔حضرت ابوالحسنات کا کہنا تھا،ہم یہاں فتنہ پیدا کرتے ہیں،لیکن فقہا کا یہ عالم تھا کہ وہ ایک دوسرا کا نام بھی احترام سے لیتے تھا۔

بات ختم کرنے سے پہلے ایک حقیقی واقع بتا کر عرض کرتا ہوں، یہ 1963ء کی بات ہے۔ اس محرم الحرام کے مہینے سے قبل اخبارات میں یہ روایت سی پڑ گئی تھی کہ ذوالجناح کے جلوس کی برآمدگی کے ساتھ ہی اس کے وداع کی خبر بھی دے دی جاتی کہ اگلے روز اخبارات میں چھٹی ہوتی تھی، لیکن اس بار نویں، دسویں کی درمیانی رات خیریت سے گزری، لیکن صبح کے وقت چوک نواب صاحب میں ایک حادثہ ہوا، ہمارے محلے دار چچا ضیاء بٹ زخمی ہو گئے جو بعد میں وفات پا گئے تھے، یہ افواہ بہت پھیلی، کشیدگی ہوئی، اونچی مسجد پر بھی تنازعہ ہو گیا اور ذوالجناح وقت کے بعد وداع ہوا، اس وقوعہ کی باقاعدہ کھلی تحقیقات ہوئی۔ تب میاں غلام قادر (مرحوم) فیاض حسین قادری ایڈووکیٹ(مرحوم) چودھری محمد لطیف راں ایڈووکیٹ (مرحوم) کے علاوہ مظفر علی شمسی اور خاقان بابر ایڈووکیٹ بھی اس کا حصہ بنے، علامہ ابوالحسنات اور مظفر علی قزلباش گواہ کے طور پر پیش ہوئے تھے، اس تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ اور سفارشات اچھی تھیں۔ ان کو آج بھی زیر غور لا کر فائدہ حاصل کیا جا سکتا ہے، بہرحال گورنر امیر محمد خان (مرحوم) کی دانش مندی اور اکابرین کی صلح جوئی سے بات ختم ہوئی، آگے نہ بڑھی، تب سے اب تک صحافی ذوالجناح کو وداع نہیں کرتے بلکہ خبر یہ ہوتی ہے ”ذوالجناح کا مرکزی جلوس نثار حویلی سے برآمد ہو کر اپنے مقررہ راستوں پر رواں دواں ہے“۔

میں ہجری سال نووالے کالم میں احوال تحریر کر چکا ہوں، دعا ہے کہ کسی دشمن، تخریب کار کی کوئی سازش، حرکت کامیاب نہ ہو، ہم سب خصوصاً علماء اور ذاکر و خطیب حضرات کو زیادہ احتیاط کرنا ہوگی۔کہ حسینؓ بھی ہم سب کے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -