شامِ کربلا……  ایک حقیقت!

شامِ کربلا……  ایک حقیقت!
شامِ کربلا……  ایک حقیقت!

  

کربلا، حادثہ نہیں،ایک واقعہ ہے۔ اندوہناک اور دلخراش واقعہ! اِس سے چودہ صدیاں اداس ہیں۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا؟ اور اثرات و ثمرات کیا ہیں؟؟ صد حیف کہ اسے صرف   روائتوں کا عنوان بنا دیا گیا۔ طاقت کی بجائے کمزوری! بادی النظر میں اس سے محض تین گروہوں نے فائدہ اٹھایا۔ پہلا طبقہ وہ تھا، جس نے امام عالی مقام کو چند ٹکوں کے عوض شہید کر ڈالا۔ نظریہ، مقصد اور آخرت پر مطلب براری، مادہ پرستی اور دُنیا کو ترجیح دی۔ ہم نوایانِ یزید پلید!انہیں اہل ِ دِل خوب جانتے اور پہچانتے ہیں۔ اولاً سید الشہدا کو بُلاتے رہے، اور جب آپؓ کار زار میں پہنچ گئے تو وفاؤں کا رُخ بدل لیا……دوسرا ٹولہ وہ ہے، جو عقیدت مندانِ حسینؓ  کو بتایا کرتے ہیں کہ آؤ، ہم تمہیں سمجھائیں کہ سبط ِ  رسوؐل کیوں شہید ہوئے تھے؟ واعظین ِ و ذاکرین! تیسرے فریق نے اپنے ذمہ لے رکھا ہے کہ چلئے، ایسی جگہ جہاں تاجدار کربلا واصل بحق ہوئے تھے، تینوں کا کاروبارِ حیات بقول جوش ملیح آبادی فیس کا درِ یوزہ ہے!

فیس کا درِ یوزہ ہے منبر پہ تیری ہاؤ ہو

خونِ اہلِ بیت میں لقمے کو تر کرتا تُو!

ایسا کیوں ہے؟ یزید کل بھی موجود تھا، اور یزیدیت آج بھی۔ کربلا اور فلسفہ ئ  شہادت؟ سچ یہی ہے کہ ملت ِ اسلامیہ نے ذبیحہ ئ  عظیم سے عملاً کوئی سبق نہیں  سیکھا۔ کربلا کا مقصد فقط آہ و فغاں، سینہ کوبی تو نہیں تھا۔ آخر اہل ِ تشیع اور اہل ِ سنت ”انقلاب“ اور ”قیام“ کو آواز کیوں نہیں دیتے۔ معاشرے میں بے راہروی کا راج کیوں چلا آتا ہے؟ مستقل ”تبدیلی“ کب آئے گی؟؟ آپؓ نے اتنی بڑی قربانی اتحادِ ملت کے لئے دی تھی۔ یہ ابھی تک فسادِ اُمت کیا ہے؟

میرال خیال ہے کہ مسلمانوں سے دھوکا ہو گیا ہے۔ کلمہ گو ابھی تک دھوکا کھائے ہوئے ہیں۔ہمیں ابھی تک صحیح معنوں میں یہ علم ہی نہیں ہو سکا کہ حضرت امام حسینؓ  کا مقصد ِ شہادت کس قدر ارفع و اعلیٰ تھا اور محبانِ و عاشقان کا اندازِ فکر و نظر کس قدر ناقص ہے۔ کوئی تو بتلائے کہ مَیں بتلاؤں کیا؟ الغرض تمام مسلمان مروجہ سُنیّت و شیعیت کے پیرو کار ٹھہر جائیں تو مسلم معاشرت میں کیا فرق پڑے گا۔ حسینؓ شیعہ تھے نہ سنی!دراصل آپؓ نے تو انسانیت و مساوات کے لئے جنگ لڑی تھی اور آرزو و جستجو میں اپنا سب کچھ لُٹا دیا۔ جو  معرکہ ئ  حق و باطل میں جا سکتے تھے، گئے اور جو خود چل کر نہیں جا سکتے تھے، لے جائے گئے! ہم نے مگر کیا کِیا؟ آج تک بھول بھلیوں میں ٹھوکریں کھاتے چلے آتے ہیں، شاید جوش ملیح آبادی نے ہی کہا تھا:

انسانیت کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسینؓ

اگر اجازت ہو تو یہ عرض کروں کہ حسینؓ کے قاتل شیعہ تھے نہ سُنی۔ان سے عقیدت و محبت نہ رکھنے والا بھی شیعہ یا سُنی نہیں ہو سکتا۔آخر وہ کون تھے؟ دین حقہ کی چادر میں چھپے ہوئے خاص! ظالم دھوپ چھاؤں کی یہ اولاد اب بھی موجود ہے۔ معرکہ ئ  کربلا کے بعد صرف اور صرف دو مسلک باقی ہیں۔ حسینی اور یزیدی! بلا شبہ ہم حسینیت کا دعویٰ رکھتے ہیں۔اِس دعوے کی لیکن کوئی سند؟ فی الحقیقت حسینؓ کا وہ ہے، جس کے پاس نقد ِ عمل ہو! ہماری مٹھیوں میں تو بے سروپا باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔

مزید :

رائے -کالم -