دین کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے،دردانہ صدیقی

دین کے لئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کرنا چاہیے،دردانہ صدیقی

  

لاہور(لیڈی رپورٹر) واقعہ کربلا حق و صداقت  کی خاطر قربانی دینے اور باطل کے سامنے سر بکف ہونے کا نام ہے۔ میدان کربلا میں امام حسینؓ اوران کے ساتھیوں نے باطل کا مقابلہ کرکے ثابت کردیا کہ خالق کی عظمت و کبریائی کو ماننے والے کبھی مخلوق کے سامنے سر نہیں جھکاتے۔یوم عاشور ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ دین کی بالادستی اور تحفظ کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کرنا چاہیے۔ان خیالات کا اظہار جماعت اسلامی حلقہ خواتین پاکستان کی  سیکریٹری جنرل دردانہ صدیقی  نے دس محرم الحرام یوم عاشورہ کے موقع پر اپنے ایک بیان میں کیاانہوں نے کہا کہ یوم عاشور، شہدائے کربلا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ تجدید عہد کا دن بھی ہے ہر وہ شخص جو معاشرے میں عدل و انصاف چاہتا ہے اسے اسوہ حسین رضی اللہ تعالی عنہ کو اپنا معیار بنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ اسلام اور قربانی کا چولی دامن کا ساتھ ہے عظیم مقصد کے لئے جان ومال قربان کرنا نبیوں کی سنت ہے جسے میدان کربلا میں حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے دوبارہ زندہ کیا۔ آج امت مسلمہ جن پریشانیوں کا شکار ہے اس کی بنیادی وجہ دین سے دوری اور قربانی و ایثار کے جذبے کا کمزور ہونا ہے۔ ہم نے دنیاوی فوائد اور ذاتی مفادات کے لئے قوانین قدرت کوپس پشت ڈال دیا جس کی وجہ سے کشمیر سے شام تک مسلمان ظلم و ستم کا شکار ہیں۔حضرت امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی قربانی نے اسلامی تاریخ میں دین کی سربلندی اور اعلی ترین مقصد کے حصول کے لیے جان کی بازی لگا دینے کی وہ سنت قائم کی جو تاریخ کے ہر دور میں صراط مستقیم پر چلنے والے قافلوں کے لئے مشعل راہ رہے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ  ظلم و ناانصافی کے خلاف محاذ آرائی کی تڑپ دلوں میں زندہ رکھنا،حق کے ساتھ پورے حوصلے اور ثابت قدمی سے ڈٹ جانا، باطل کے خلاف کھڑا ہونا اور اسں سے سمجھوتہ نہ کرنا ہی امام حسین رضی اللہ تعالی عنہ کی تعلیمات کا نچوڑ ہے۔ڈپٹی سیکرٹری جنرل ڈاکٹر حمیراطارق،ثمینہ سعید،ڈاکٹر سمیحہ راحیل قاضی،صدر وسطی پنجاب ربعیہ طارق صدر لاہور ڈاکٹر زبیدہ جبیں نے بھی خصوصی پییغام دیا کہ شہدائے کربلا ہمیں نوید سنا گئے کہ ظلم کوبالاخرسرنگوں ہونا ہے۔انہوں نے کہا کہ شہدائے کربلا کی عظیم قربانیوں نے دین اسلام کے آفاقی اصولوں صبر، برداشت اور قربانی کو قیامت تک کے لئے زندہ جاوید کر دیا۔واقعہ کربلا یہ ثابت کرتا ہے کہ فتح کا دارومدار اکثریت یا اقلیت پر نہیں بلکہ نظریہ اور نصب العین کی سچائی پر ہوتا ہے۔ ربعیہ طارق نے کہا کہ امام عالی مقام رضہ نے کلمہ حق بلند کرکے اپنے نانا کے دین کی حفاظت کی۔آج پوری دنیا میں مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے جا رہے ہیں یہود و نصاری کے مظالم کو روکنے کے لئے حسینی کردار کو اپنانے کی ضرورت ہے. مسلمانوں پر ظلم و ستم کو جذبہ حسین رضہ سے ختم کرنا ہوگا۔وقت آن پہنچا ہے کہ باطل نظام اور اس کے کارندوں سے مرعوب ہونے کے بجائے ان کے مقابلے کے لیے خود کو تیار کیا جائے۔ وطن عزیز کے روشن مستقبل اور خوشحال اسلامی پاکستان کے قیام کے لیے ہم سب کو بلا خوف و خطر سچ کا ساتھ دینا ہوگا

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -