ایجوکیشن شاپس(1)

ایجوکیشن شاپس(1)
ایجوکیشن شاپس(1)

  

منڈی بہاؤالدین کے مین بازار میں کپڑے کی ایک بڑی دکان میں،مَیں اور میرا دوست جونہی داخل ہوئے، ہمارے پیچھے ایک خاتون، جس کے ہاتھوں میں سونے کی انگوٹھیاں اور کانوں میں بڑی بڑی طلائی بالیاں جھوم رہی تھیں، داخل ہوئی۔ دکاندارہماری طرف سے صرف ِ نظر کرتے ہوئے خاتون کی طرف متوجّہ ہوا۔ خاتون بیٹھتے ہی بولی”بھائی کوئی مہنگا کپڑا دکھاؤ“خاتون کی معمول سے مختلف ڈیمانڈ پر میرے دوست نے میری طر ف تعجّب سے دیکھااورہم دونوں دکاندار کے کاروباری رویّے کی طرف متوجہ ہو گئے۔اس نے آٹھ، دس کپڑے کے بڑے بڑے تھان خاتون کے سامنے پھیلا دیے اور کپڑے کے اعلیٰ معیار اورنفاست کو آسمان سے چھونے کے ساتھ ساتھ مُول بھی اسی نسبت سے بتاتا گیا۔خاتون نے تھانوں پر طائرانہ سی نظر ڈالی اور بغیر بحث میں پڑے اور کپڑے کو پرکھے سب سے مہنگے دام والے کپڑے کو پیک کرنے کا کہا، پیسے ادا کیے اور چلتی بنی۔ خاتون کے غیر معمولی خریداری رویّے نے میرے ذہن میں کئی سوالوں کو جنم دیا۔ میں نے دکاندار سے پوچھا ”کیا اور خواتین بھی اسی طرح آپ سے اعلیٰ معیار کی بجائے اعلیٰ قیمت پر کپڑا خریدنے آتی ہیں؟”جی ہاں“دکاندار نے تفصیل سے جواب دیا۔ ”جب کوئی خاتون کپڑا مہنگے داموں خرید کر لے جاتی ہے تو وہ اپنی پڑوسن کو بڑے  فخر سے اس کپڑے کا مول اور معیار بتاتی ہے۔پڑوسن خود کو مالی طور پر برتر ثابت کرنے کے لئے نسبتاً مہنگا کپڑا خرید کر لے جاتی ہے“ ۔”اچھا تویہ مہنگی خریداری کی دوڑ جیتنے کے لئے وہ اتنا پیسہ کیسے پس انداز کر لیتی ہیں“ میں نے پوچھا۔دکاندار مسکراتے ہوئے بولا"ان خواتین میں سے اکثر کے والدین، بھائی، شوہر یا بیٹے ملک سے باہر مختلف ملازمتیں کرتے ہیں،اپنی کمائی میں سے جو رقم وہ گھر بھیجتے ہیں، اس میں سے کافی سارا ہم دکانداروں کا حصہ بھی نکل آتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے شہر میں دوسرے شہروں سے مہنگائی کہیں زیادہ ہے۔“ 

آواری ہوٹل میں بوفے سے کھانا لیتے وقت ایک شخص نے دوسرے اپنے جیسے خوش لباس شخص سے پوچھا "آپ کے بچے کس سکول میں پڑھتے ہیں؟“ دوسرے شخص نے ماتھے پرتفاخر کے آثار نمایاں کرتے ہوئے کہا“میرے بچے شہر کے سب سے مشہور پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہیں "میرا بڑا بیٹا ساتویں جماعت میں ہے۔ اس کی فیس پچیس ہزار روپے ہے، چھوٹا بیٹاتیسری جماعت میں ہے اور اس کی فیس اٹھارہ ہزار روپے ہے۔ بظاہر فیس زیادہ ہے مگر تعلیم کا معیار بھی تواتنا ہی بلند ہے۔“اس شخص کی بات سن کر مجھے کپڑا خرید نے والی خاتون یاد آگئی جسے مہنگا کپڑا خریدنے پر فخر تھا کیونکہ وہ اپنی پڑوسن سے مہنگی خریداری کی دوڑ میں سبقت لینے آئی تھی۔

 اگر وطن عزیز میں موجود پرائیویٹ سیکٹر کے تعلیمی اداروں کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلے گا کہ کلاتھ شاپس کی طرح ایجوکیشن شاپس بھی ہماری مختلف منڈیوں میں ابتدائی تعلیم سے لے کر اعلیٰ تعلیم تک سرِعام کھلی ہیں جو مہنگی خریداری کی دوڑ جیتنے کے لئے صلائے خاص و عام دے رہی ہیں۔ تعلیمی خریدار کے پاس اتنا وقت نہیں ہے کہ وہ پرکھ سکے کہ اس کے بچوں کوجو تعلیمی مال بہم پہنچایا جا رہا ہے اس کے اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔”تعلیمی خریداری“ کی دوڑ جیتنے کے لئے اب بچے کی پیدائش پر ہی اس کا نام امیدوار”برائے تعلیم“ کے طور پر درج کرانا باعثِ تکریم و منزلت سمجھا جاتا ہے۔اس تمام تر مقابلے میں اگر نصاب میں کہیں ایمانیات یا دین آموزی کا شائبہ بھی پڑ جائے تو گاہک کی ناگواری دیدنی ہوتی ہے۔

 آج سے تیس پینتیس سال پیچھے کی علمی درس گاہوں پر نظر دوڑائیں تو نہ ہمیں ایجوکیشن شاپس نظر آتی ہیں اور نہ ہی مہنگی خریداری کی دوڑجیتنے والے گھوڑے، بلکہ ہمیں ایسے تعلیمی ادارے اور اساتذہ نظر آتے ہیں جونصابی اور پیشہ وارانہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اساتذہ، والدین، بڑوں اور معاشرے کے معتبر افراد کے آداب و حقوق بجا لانے کے علاوہ معاشرتی ذمہ داریوں کی آگہی سے متعلق تعلیم بھی فراہم کرتے تھے۔ اُن طلباء میں شعور کی پختگی، مقصد کی لگن، اخلاق کی دمک اور محنت کی جوت واضح نظر آتی تھی۔ ان میں سے جو لوگ مختلف ملازمتوں میں آتے، ان کے رویّے سائلین کے ساتھ لحاظ اور رکھ رکھاؤ سے عبارت ہوتے تھے۔ آج ایجوکیشن شاپس سے تعلیم یافتہ افراد ”تُو“  اور ”تُم“ سے نہ صرف والدین بلکہ اساتذہ اوراپنے بزرگوں سے مخاطب ہوتے ہیں۔ ادب،آداب، لحاظ، ٹھہراؤاور برداشت تعلیمی کاروبار میں جنس ِ عدم ضرورت ہے۔ اس کااظہار معاشرے کے مختلف طبقات اورہر جہت زندگی میں متر شِّح ہے۔ایجوکیشن شاپس کے نصابِ تعلیم میں عدم یکسانیت نے مادی علمی اشرافیہ کو جنم دیا ہے۔ جس کی تعداد کم ترین ہونے کے باوجودوہ پورے نظام پراس طرح حاوی ہے جس طرح یہودی دنیا کی آبادی میں نمک کے برابر ہونے کے باوجودپورے عالم پر بھاری ہیں اور نہ صرف تیسری دنیا بلکہ بہت سے ترقی پذیر اور خود مختارممالک کے اندرونی سیاسی حالات کی”سمت“ طے کرنے کا ”بیڑا“ اٹھائے ہوئے ہیں۔

نجی تعلیمی اداروں کی دیکھا دیکھی، سرکاری تعلیمی اداروں نے بھی کاروبار تعلیم سے استفادہ کرنے لئے ایجوکیشن شاپس کھو ل رکھی ہیں۔ 90کی دہائی تک ہرصوبہ میں چند یونیورسٹیاں تھیں جن سے ذیلی تعلیمی ادارے امتحانات اور ڈگریوں کے حصول کیلئے منسلک تھے۔ لیکن چند سالوں میں یونیورسٹیوں کی افزائش ایسے ہوئی ہے جیسے سٹریٹس ایجوکیشن شاپس کی۔ نفع بخش کاروباری مقاصد حاصل کرنے کیلئے سرکاری یونیورسٹیوں نے اپنے کیمپس دوسری تناور یونیورسٹیوں کی بغل میں کھول رکھے ہیں جیسے منڈی میں مقابلے پر آمنے سامنے دکانیں کھلی ہوں۔ خدا معلوم، ان شاپس میں تعلیمی خدمت کی مقدار حصولِ دولت سے زیادہ ہے یا کم۔ بہر حال، اِن ایجوکیشن شاپس سے تعلیمی سوداخریدنے والے گاہکوں کو پرکھنے میں زیادہ دیر نہیں لگتی،اور ہر دکان کا معیار کھر اکھر ا سامنے آجاتا ہے۔

 ایک سولہو یں سکیل کی ملازمت کے لئے انٹرویو کے دوران میں نے بطور محکماتی نمائندہ ایک امیدوار سے سوال پوچھا”بیٹا،آپ کی تعلیم کیا ہے؟

”سَر، میں انگلش لٹریچر میں ایم فل کر رہی ہوں“ امیدوار نے جواب دیا۔

میں نے یونیورسٹی کا نام پوچھا،تو امیدوار نے یونیورسٹی کے ایک Sub Campus  کا نام لیا۔ 

”بیٹا آپ کو انگلش لٹریچر میں سے کون سی صنف پسند ہے۔“ میں نے اگلا سوال کیا  

”ناول“امیدوار نے جواب دیا۔

”ناول میں کونسا دور“ میں نے مزید سوال کیا۔

 ”وِکٹورین ناول“ امیدوار نے جواب دیا۔

”وکٹورین دور کاکونسا ناول نگار آپ کوسب سے زیادہ پسند ہے۔“میں نے پوچھا۔

”شیکسپیئر“ ا میدوار نے جواب پھینکا۔

امیدوار کا آخری جواب پڑھ کر انگریزی ادب سے عام سی آگاہی رکھنے والے احباب کو یقینابہت تعجبّ اور افسوس ہوا ہو گا۔

 یہ جواب سن کر فرط حیر ت اور افسوس میں، مَیں نے بھی چئیر مین کی طرف اور چیئر مین نے میری طرف دیکھاتھا۔

 شیکسپیئر ایک ڈرامہ نگار اور شاعر کے طور پرجاناجاتا ہے، وہ کبھی ناول نگار نہیں رہا۔ مگر یہ سوچ کر کہ ممکن ہے امیدوار کے منہ سے شیکسپیئر کا نام سہواً نکل گیا ہو، میں نے پھرپو چھ ڈالا۔ ”بیٹا،کیا شیکسپیئر ناول نگار ہے یا شاعر؟“   

”سر، وہ ناول نگار بھی ہے اور شا عر بھی“امیدوار نے میری مایوسی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونکتے ہوئے جواب دیا۔اس کے جواب کے بعد مجھ میں اور دیگر اراکین کمیٹی میں سوال کرنے کی ہمت نہ رہی۔

 اس طرح کی لاتعداد مثالیں حوالہ کے طور پر موجود ہیں، جن میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اضافے کا قوّی امکان ہے۔ اگر نچلی سے بالائی سطح تک، تعلیمی منڈیاں یو نہی کپڑے کی منڈیوں کی منافع بخش اساس پر قائم ہوتی چلی گئیں تو نہ صرف ڈگریوں سے مہنگے کپڑے کی طرز پر بوئے تفاخر آتی رہے گی بلکہ کل کا طالب علم الطاف حسین حالی کو ڈرامہ نگار، خدیجہ مستور کو ادا کار، غالب کونغمہ نگار اور اقبال کو افسانہ نویس کے طور پر جاننے میں حق بجانب ہو گا۔ مزید برآں  مہنگا کپڑا خریدنے کا تصور اور مہنگی تعلیم کے حصول کے تصور میں فاصلہ مزیدکم ہوتا جائے گا جس کی سزا اخلاقی سطح پر آنے والی نسلیں بھگتنے کی پابند ہیں۔(جاری ہے)

مزید :

رائے -کالم -