سانحہئ کربلا کا سبق

سانحہئ کربلا کا سبق
سانحہئ کربلا کا سبق

  

سانحہئ کربلا منزل نہیں منزل کی طرف جانے کا ایک راستہ ہے وہ منزل جو عظمتِ انسانی کا درس دیتی ہے اور جس کی وجہ سے حق و باطل کے درمیان اس فرق کی نشاندہی ہوتی ہے، جو کائنات میں ازل سے ابد تک انسانیت کے لئے رکھ دیا گیا ہے۔ حضرت امام حسینؓ کی ذاتِ اقدس درحقیقت وہ استعارہ ہے جو رہتی دنیا تک باطل کے سامنے ڈٹ جانے کی مثال پیش کرتا رہے گا، تاریخ میں ایسے بہت کم واقعات ملتے ہیں جہاں انسان کے پاس جان بچانے کا راستہ بھی موجود ہو مگر وہ اپنے اصول، نظریئے اور سچ کی خاطر وہ راستہ اختیار نہ کرے بلکہ اپنے خاندان سمیت جان دے کر حق و سچائی کے راستے میں ایک ایسی لازوال شمع جلا دے، جو تا ابد انسانوں کے لئے مشعلِ راہ بن جائے۔ کربلا اک ایسا آفتاب ہے جس کی روشنی کبھی مانند نہیں پڑے گی۔ جس کے اُجالے ہمیشہ عالمِ انسانی کو یہ احساس دلاتے رہیں گے کہ چند روزہ زندگی یا کسی معمولی سے مفاد کے لئے باطل کی اطاعت قبول کر لینا ایک ایساسانحہ ہے جو انسان کی انفرادی اور معاشرے کی اجتماعی زندگی کو ذلت و زوال کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دیتا ہے۔

اس کی مثال خود یزید کی زندگی سے دی جا سکتی ہے وہ سانحہئ کربلا کے بعد کتنا عرصہ جی سکا جس اقتدار کے لئے اس نے آلِ نبیؐ کو شہید کیا، وہ کتنا عرصہ اس کے پاس رہا۔ حضرت امام حسینؓ کو تو ایک اور زندگی ملی جبکہ یزید رہتی دنیا تک لعنت و ملامت سمیٹنے کا استعارہ بن کر رہ گیا یہ ہے وہ لکیر جو اب کبھی نہیں مٹ سکتی، یہ موجود رہے گی اور انسانیت کو یہ احساس دلاتی رہے گی کہ وقتی فائدے کے لئے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے امر ہو جاتے ہیں اور اُنہیں جسمانی طور پر ختم کرنے والوں کے مقدر میں ہمیشہ ہمیشہ کی ذلت و رسوائی لکھ دی جاتی ہے حضرت امام حسینؓ کے پاس اپنی اور  اپنے خاندان کی زندگی بچانے کے راستے موجود تھے۔ وہ یزید کی اطاعت کر لیتے تو سب کچھ ممکن تھا۔ مگر وہ حضرت امام حسینؓ تھے، نبیؐ آخر الزمان کے نواسے وہ جانتے تھے کہ اسلام کی بقاء کا انحصار اب ان کے فیصلوں پر ہے یہ بہت مشکل ہوتا ہے کہ سامنے آپ کو ایک ظالم اپنے لاؤ لشکر کے ساتھ کھڑا نظر آئے اور آپ ایک لٹے پٹے قافلے کے ساتھ جس میں معصوم اور شیر خوار بچے بھی ہوں صرف حق کو بچانے کی خاطر ڈٹ جائیں۔ ایسے حالات میں تو بڑے بڑوں کو مصلحت گھیر لیتی ہے اور وہ حالات سے سمجھوتہ کر لیتے ہیں مگر وہ حضرت امام حسینؓ تھے جو اس بات سے آگاہ تھے کہ اس معرکہئ حق و باطل میں شکست یہ نہیں کہ انہیں جسمانی طور پر ختم کر دیا جائے بلکہ اصل شکست یہ ہو گی کہ یزید کی اطاعت قبول کر لی جائے۔ امام عالی مقامؓ اس وقت تاریخ کی آنے والی صدیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ انہیں اسلام کو بچانا تھا، اپنے نانا کے دین کی حقانیت کو زندہ رکھنا تھا۔ سو یہ فیصلہ وہ کر گزرے، یزید اپنی طاقت کے نشے میں یہ بھول گیا کہ جنگ حق و باطل کی ہے۔ باطل اگر اپنی طاقت یا مادی برتری کے زور پر وقتی غلبہ حاصل کر بھی لے تو حق کی خاطر جانیں دینے والے اسے حرف غلط کی طرح مٹا دیتے ہیں۔

فلسفہئ شہادتِ حضرت امام حسینؓ بالکل واضح ہے آج دنیا کے ہر مذہب کے ماننے والے کر بلا میں لڑے جانے والے اس معرکہ حق و باطل کی مثالیں دیتے ہیں کیونکہ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اصل جنگ دنیا میں ہمیشہ سے حق اور باطل کے درمیان رہی ہے۔ کوئی وقت کا یزید اگر اپنی فوجی طاقت سے غلبہ پا بھی لیتا ہے تو اس کی یہ فتح اسے حق و باطل کی اس لکیر کو ختم نہیں کر دیتی جو ازل سے موجود ہے۔ ہاں یہ لکیر اس وقت ضرور مٹ سکتی ہے جب حق و سچ کے علمبردار کسی جھوٹے باطل کی اطاعت قبول کر لیں، اس کے نظریئے کو مان لیں اور اس کی پیروی کو اپنا جزو ایمان بنا لیں مگر ایسا اب اس لئے نہیں ہو سکتا کہ دنیا کے پاس واقعہئ کربلا کی شکل میں ایک ایسی مثال موجود ہے جس کی روشنی ہمیشہ اس لکیر کو نمایاں کرتی رہے گی جو حق اور باطل کو جدا کرتی ہے۔ کیا تاریخ نے دیکھا نہیں کہ یزید کربلا کے میدان میں فتح پانے کے باوجود ہار گیا بلکہ رہتی دنیا تک ایک ذلت آمیز شکست سے ہمکنار ہوا۔ اس کی یہ شکست اس لئے بھی بہت بڑی ہے کہ اس نے قافلہئ حسینی پر ظلم کے پہاڑ توڑے، پانی بند کیا، بھوکے پیاسے رکھا، ان کے حوصلے توڑنے کا ہر حربہ آزمایا مگر سلام ہے حضرت امام حسینؓ اور ان کے جاں نثاروں کو کہ انہوں نے اسلام اور حق و صداقت کو بچانے کے لئے اپنے پیروں میں لغزش نہیں آنے دی۔ یزید کی بہتیری کوشش تھی کہ قافلہ، حسینی پر زندگی تنگ کر کے انہیں اطاعت اور بیعت پر مجبور کر دیا جائے لیکن سرفروشانِ اسلام نے اس کی ہر خواہش، ہر سازش اور ہر ظلم کو اپنے جذبہئ ایمانی کی طاقت سے ملیا میٹ کر دیا۔ شہادتیں ہوتی رہیں، لاشے گرتے رہے، مگر امامِ عالی مقامؓ کے عزم و حوصلے میں سرِ مو کمی نہیں آئی۔ یزید ان کے حوصلے توڑنا چاہتا تھا مگر وہ بدبخت یہ بھول گیا تھا کہ سامنے کوئی اور نہیں نواسہئ رسولؐ ہے، جس کے کاندھوں پر اپنے نانا کا دین بچانے کی ذمہ داری آن پڑی ہے ان کا سرکٹ تو سکتا تھا، یزید جیسے باطل کے سامنے جھک نہیں سکتا تھا۔ سو میدانِ کربلا نے یہی منظر دیکھا یزید نے اپنی فتح کا جشن تو منایا مگر در حقیقت وہ ایک ایسی مرگ کا خود شکار ہو گیا تھا جو دنیا و آخرت میں عبرت کا نشان بن جاتی ہے۔

میں سمجھتا ہوں آج اگر دنیا بھر کے مظلوموں میں حوصلہ ہے تو وہ سانحہئ کر بلا کی وجہ سے،حق کے لئے جان دینے کی جو شاندار روایت حضرت امام حسینؓ اور ان کے ساتھیوں نے قائم کی وہ مشعلِ راہ کی صورت کمزوروں، مظلوموں، بے کسوں اور مجبوروں کو عزت و آبرو سے زندہ رہنے کا راستہ دکھاتی رہے گی، دنیا آج بھی وقت کے یزیدوں سے بھری پڑی ہے ظلم آج بھی ہو رہا ہے، کہیں کشمیر میں اور کہیں فلسطین میں، افغانستان میں اور کہیں برما میں،کہیں بھی باطل غالب نہیں آ سکا، ہر جگہ ایک مزاحمت جاری ہے، یہ کربلا کا سبق ہے کہ کسی بھی یزید کے سامنے سجدہ ریز نہیں ہونا۔ حق  اور سچ کے لئے ڈٹ جانا ہے چاہے اس میں جان ہی کیوں نہ چلی جائے۔ حضرت امام حسینؓ اپنی لازوال قربانی سے دنیا کو یہ پیغام دے گئے ہیں کہ باطل کے سامنے سر جھکانے سے کہیں بہتر ہے کہ اپنے حق اور نظریئے کے لئے لڑا جائے یہی راستہ بقائے دوامی عطا کرتا ہے، اور دسویں محرم الحرام اسی فیصلے کی یاد کا دن ہے۔

مزید :

رائے -کالم -