ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوینر آفتاب احمد شیخ انتقال کر گئے

 ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوینر آفتاب احمد شیخ انتقال کر گئے

  

حیدرآباد(بیورو رپورٹ)سابق میئر حیدر آباد اور ایم کیو ایم کے سابق ڈپٹی کنوینر آفتاب احمد شیخ ہفتہ کو انتقال کر گئے۔ ان کی عمر 82 سال تھی۔سابق میئر حیدرآباد آفتاب احمد شیخ سندھ لا کالج کے طویل عرصہ پرنسپل بھی رہے جبکہ رکن قومی اسمبلی، صوبائی مشیر داخلہ اور ایم کیو ایم کے ڈپٹی کنوینر بھی رہے، آفتاب احمد شیخ پہلے پیپلزپاٹی میں شامل تھے اور سینئر قانون دان کی حیثیت سے شہر کی ایک معزز شخصیت تھے تاہم بعد میں وہ الطاف حسین کی مہاجر قومی موومنٹ میں شامل ہو گئے، صدر ضیا الحق کے رائج کردہ بلدیاتی نظام میں آفتاب احمد شیخ، مولا نا وصی مظہر ندوی اور سید احد یوسف کے بعد 1987 میں ایم کیو ایم کے پہلے میئر بلدیہ اعلی حیدرآباد منتخب ہوئے، جس کے بعد 17 جون 1988 کو ان پر اس وقت انتہائی مہلک قاتلانہ حملہ ہوا تھا جبکہ وہ کینٹونمنٹ قبرستان میں ایک میت کی تدفین کے بعد واپس لوٹ رہے تھے، دہشت گردوں نے ان کی گاڑی پر اندھادھند خودکار اسلحہ سے فائرنگ کی تھی جس سے ان کے جسم کا نچلا حصہ گولیوں سے چھلنی ہو گیا تھا جبکہ ان کے ساتھ بیٹھے پکاقلعہ کے کونسلر عبدالرشید موقع پر جاں بحق ہو گئے تھے، آفتاب احمد شیخ کافی عرصہ بستر پر رہے تاہم ان کی زندگی بچ گئی تھی اور صحت یابی کیبعد انہوں نے دوبارہ میئر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں، اس حملے کا الزام جئے سندھ قومی محاذ کے چیئرمین بشیر خان قریشی اور ان کے ساتھیوں پر لگایا گیا تھا، آفتاب شیخ کے جسم میں اب بھی ایک گولی موجود تھی جو نکالی نہیں جا سکی تھی، قاتلانہ حملے کے بعد ایم کیو ایم کے سربراہ الطاف حسین بھی آفتاب شیخ کی عیادت کے لئے حیدرآباد آئے تھے۔آفتاب احمد شیخ اگرچہ اب بھی ایم کیو ایم میں شامل تھے لیکن طویل عرصے سے ایم کیو ایم کی قیادت نے ان کی سرگرمیوں پر غیراعلانیہ پابندی لگا رکھی تھی، پہلے وہ پولیس کی حفاظت میں نقل و حرکت کرتے تھے تاہم بعد میں انہوں نے سماجی سرگرمیاں بھی بہت محدود کر دی تھیں کیونکہ وہ اپنے اور اپنے خاندان کے بارے میں مستقل خوفزدہ رہتے تھے تاہم اس دوران وہ سندھ لا کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے کام کرتے رہے اور ریٹائرمنٹ کے بعد بھی انہیں مدت ملازمت میں کئی بار توسیع دی گئی، آفتاب احمد شیخ سابق میئر اور ممتاز قانون دان کی حیثیت سے شہری حلقوں میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے تھے۔

مزید :

صفحہ اول -