متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدہ 2020

متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدہ 2020
 متحدہ عرب امارات، اسرائیل معاہدہ 2020

  

جب ایک فلسطینی شخص سے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین سفارتی تعلقات کو معمول پر لانے اور امن معاہدے کے بارے میں پوچھا گیا تو اس نے خشمگیں نگاہوں سے کہا، ''ہماری پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔'' مصر اور اردن کے بعد، متحدہ عرب امارات تیسرا ملک ہے جس نے ریاست اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کیے اور اسے قانونی حیثیت دی ہے۔ فلسطینیوں کا مذاکرات میں کوئی حصہ نہیں تھا۔ نتن یاہو اور ڈونلڈ ٹرمپ نے کئی دہائیوں بعد اس معاہدے کو سفارتی پیشرفت قرار دیا ہے۔ اس معاہدے کی تحسین کرنے اور اسرائیلی قبضے کو جواز دینے میں مغربی ممالک امریکہ کے پشتیبان بنے ہوئے ہیں۔ متحدہ عرب امارات کی طرف سے کیا گیا بہانہ یہ ہے کہ معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل عارضی طور پر، مغربی کنارے کے الحاق کو معطل کردے گا۔ ایک امیر مسلمان عرب ملک کی طرف سے معاہدہ اور تعلقات کو معمول پر لانا غزہ اور فلسطین کے لئے ایک بہت بڑی سفارتی ضرب ہے۔ ایک بار پھر ایسا لگتا ہے کہ اسٹریٹجک اتحاد کی اہمیت، تجارت اور طاقت کے وقتی فوائد نے انصاف، انسانی حقوق، اخوت اور آزادی کے نظریات کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔ آج کی دنیا پہلے کے مقابلے میں کچھ زیادہ ہی غیر محفوظ ہے۔

اس معاہدے کا تجزیہ کرتے وقت جس اہم ترین عنصر پر غور کیا جائے وہ اس کا وقت ہے۔ کورونا نے امریکہ اور اسرائیل دونوں کی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے اور دونوں ممالک کے رہنما اس وباء پر قابو پانے میں ناکام رہے ہیں۔ لاکھوں لوگ بے روزگار ہوئے۔ صحت کا بنیادی ڈھانچہ مطلوبہ نتائج دینے میں بری طرح ناکام رہا۔ ٹرمپ نیتن یاہو سے بھی زیادہ جارح مزاج ہیں جنہوں نے  بمشکل کرپشن کے الزامات کا سامنا کیا ہے۔ امریکہ میں کوئی معجزاتی عمل ہونے تک بلیک لائفز میٹر موومنٹ نے ڈیموکریٹس کے حق میں ووٹرز کو سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو سفارتی فتح کی اشد ضرورت تھی، متحدہ عرب امارات کو اس حوالے سے دلکش مراعات کے ساتھ دباؤ سے رام کیا گیا۔ اس میں کوئی شک نہیں متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے معاہدے کو پوائنٹس اسکورنگ اور ووٹرز کے دل جیتنے کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تعلقات پہلے ہی بیک ڈور پالیسی کے ذریعے قائم ہوچکے ہیں۔ 2020 میں خصوصی کوششوں سے اس معاہدہ کو پایہ ءِ تکمیل تک پہنچایا گیا، ظاہر ہے کہ اس معاہدے کا مشرق وسطیٰ میں امن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

متحدہ عرب امارات کے لیے اس معاہدے کا دوسرا اہم پہلو بھی مدِ نظر رہے،1971 میں شیخ زید بن سلطان النہیان نے اسرائیل کو دشمن قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ، ''سیب درخت سے بہت دور گر گیا ہے''، شہزادہ محمد بن زاید نے ملک کی سفارتی، دفاعی اور تجارتی تعلقات کی راہیں کھول دی ہیں۔ یہ حیرت کی بات نہیں ہونی چاہئے کہ امن معاہدے کے اعلان کے فورا بعد ہی امریکہ نے متحدہ عرب امارات کو جدید F-35 جیٹ طیاروں کی فروخت کا اعلان کیا ہے۔ یہ ایک وقتی فائدہ ہے۔ متحدہ عرب امارات ایک ایسا امیر ملک ہے جس میں تیل اور بڑے پیمانے پر تجارت کے مواقع موجود ہیں۔ متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے مابین تجارت صرف 3 ملین ڈالر ہے جو اب بڑھ کر 350 ملین ڈالر ہوجائے گی۔ اسرائیل کو امریکہ نے دفاع اور جنگ میں جدید ترین ٹیکنالوجی فراہم کی ہے جو اب متحدہ عرب امارات کے ساتھ شیئر کی جائے گی۔ مزید یہ کہ اسرائیل یہودی کاروباری بلاک کا مرکز ہے جو متحدہ عرب امارات کے لئے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ متحدہ عرب امارات ہتھیاروں اور ٹکنالوجی کی ایک نئی رینج کی بھاری ادائیگی کرسکتا ہے، اسرائیل ضرورت کا سامان مہیا کرنے کے لئے ہمہ وقت تیار ہوگا۔ یہ امن معاہدے کے جیو اسٹریٹجک مضمرات سے ہٹ کر ایک پہلو ہے۔

سعودیہ عرب اور متحدہ عرب امارات خطے میں ایران اور ترکی کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنے میں امریکہ اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات رکھتے ہیں۔ پابندیوں اور معاشی بدحالی کے باوجود ایران مشرق وسطیٰ میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ عراق، شام اور لبنان میں، ایرانی اثر و رسوخ بڑھتا جارہا ہے۔ حزب اللہ اور حماس کی حمایت میں اسرائیل کے لئے ایران سب سے بڑا خطرہ ہے۔ متحدہ عرب امارات نے ایران کے خلاف دفاعی لائن کی امید میں اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات کے جوہڑ میں غوطہ لگایا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات کے لئے ایران کبھی کوئی خطرہ نہیں رہا لیکن پھر بھی امریکہ اور اسرائیل کی آشیر باد سے ایک بڑی طاقت بننے کا خواب تعبیر کامتلاشی ہو گیا ہے۔ علاقائی طاقت کو یقینی بنانے کے لئے فلسطین کی حیثیت کو پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ اس امن معاہدے کے نتیجے میں اسرائیل عارضی طور پر اسرائیل میں فلسطینی سرزمین کا الحاق معطل کردے گا۔ لفظ ''عارضی طور پر'' زور دیا جاتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی اوول آفس پریس کانفرنس میں اس وقت اسرائیل میں مغربی کنارے کے الحاق کو معطل قرار دیا۔ متحدہ عرب امارات کے امن معاہدے کے لیے ترکی کے اردگان کے پاس صرف ایک لفظ تھا ''رسوا''۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ متحدہ عرب امارات یمن اور لیبیا میں ساتھی مسلمانوں کو ہلاک کرنے کے لئے فوجی مہموں کی حمایت کر رہا ہے۔  

یہ معاہدہ فلسطین کے عوام کے لئے صدمے کی طرح ہے۔ یہ اسرائیلی فوج کے ہاتھوں زخم خوردہ عوام کے لئے یوم سیاہ ہے۔ اسرائیل کے لئے یہ ایک سفارتی فتح ہوگی۔ مزید ممالک کے لئے اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس کے قبضے کو قانونی حیثیت دینے کے لئے یہ نقطہءِ آغاز ہے۔ مصر نے فلسطین کے لئے اسرائیل کے ساتھ چار اور اردن نے تین جنگیں لڑی ہیں۔ امریکہ کی حمایت کے باعث وہ کامیاب نہیں ہوسکے اور شدید دباؤ کی وجہ سے مصر نے سن 1979 میں اوراردن نے 1994 میں سفارتی تعلقات بحال کیے۔ لیکن متحدہ عرب امارات کا اسرائیل کے ساتھ کوئی سرحدی تنازعہ نہیں ہے۔ یہ کبھی بھی فلسطین کے لیے جنگ نہیں لڑا۔ یہ معاہدہ فلسطین میں مقبوضہ اراضی کی آزادی اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو مزید کمزور کرے گا۔ اس اعلان کے بعدفلسطینی احتجاج کے طور پر سڑکوں پر نکل آئے اور اسرائیل کی جانب سے پھربربریت شروع ہوگئی۔ اگلے ہی دن اسرائیلی جیٹ طیاروں نے غزہ کی پٹی پر بمباری کی جس سے متعدد شہری زخمی ہوئے۔

دنیا اس معاہدے کو دیکھتے ہوئے فلسطینیوں کی حالت زار بھول گئی ہے انصاف، اخلاقیات اور آزادی کے تقاضوں کو نظرانداز کردیاگیا ہے۔ ایران اور ترکی کے خلاف عرب امریکہ اسرائیل سہ فریقی اتحاد بہت جلد حقیقت کاروپ دھارنے والا ہے۔ یہ اتحاد چین ایران اور روس کے مابین اتحاد کے خلاف ہوگا ہ۔ چین امریکہ کا مقابلہ کرنے کے لئے اپنا دفاعی اور تجارتی اتحاد موثر بنارہا ہے، چین نے اس معاہدے کو قبول کرلیا ہے۔ 

ان حالات میں عمران خان نظریاتی قائد کے طور پر سامنے آئے ہیں۔ اپنے پیغام میں، انہوں نے واضح طور پر فلسطین کے لئے وہی مؤقف اپنایا ہے جو وہ کشمیر کے لئے رکھتے ہیں۔ فلسطینیوں کے لئے حق خودارادیت پاکستانیوں کی دیرینہ خواہش ہے۔ متحدہ عرب امارات-اسرائیل کے معاہدے کی مذمت کے حوالے سے ملک کے بہت سے شہروں میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ایک ملک کی حیثیت سے پاکستان مغربی بلاک خصوصا ًامریکہ سے پیچیدہ سفارتی معاملات میں الجھا رہا ہے۔ عرب دنیا اپنی عوام کی خواہشات کے منافی فیصلے کر رہی ہے۔ ایک جمہوری ملک کے طور پر پاکستان فلسطین کے لئے آزادی اور اتحاد کے نظریہ پر قائم ہے۔ حکومت پاکستان کے جوابی پیغام کے بعد، اسلام آباد میں فلسطین کے سفارتخانے نے باضابطہ طور پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کیاہے۔ 

مزید :

رائے -کالم -