دلوں کے حکمران

دلوں کے حکمران
دلوں کے حکمران

  

آج دس محرم الحرام ہے۔ حضرت حسینؓ کا یوم شہادت۔ 1442 ہجری سال پہلے آج ہی کے دن انہوں نے میدان کربلا میں جام شہادت نوش کیا تھا…… سرداد نہ داد دست دَر دست یزید……سر دے دیا لیکن یزید کے ہاتھ میں ہاتھ نہیں دیا۔ چلئے، میدانِ کربلا چلتے ہیں، حفیظ جالندھری کے ہمراہ، انہوں نے حضرت امام کا جو سراپا بیان کیا ہے، اور میدان کربلا کی جو منظر کشی کی ہے، وہ اپنی مثال آپ ہے۔دیکھئے  وہ سامنے نواسہء رسولؐ کھڑے ہیں، اپنے مٹھی بھر ساتھیوں کے ساتھ، ان کے درمیان، لیکن ان سے الگ، نمایاں اور منفرد، زیارت کیجئے، وہ صاف دکھائی دے رہے ہیں   ؎

لباس ہے پھٹا ہوا، غبار میں اٹا ہوا

تمام جسم نازنیں، چھدا ہوا، کٹا ہوا

یہ کون ذی وقار ہے، بلا کا شہ سوار ہے؎

کہ ہے ہزاروں قاتلوں کے سامنے ڈٹا ہوا

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کا نورِ عین ہے

یہ کون حق پرست ہے، مئے رضائے مست ہے

کہ جس کے سامنے کوئی بلند ہے نہ پست ہے

ادھر ہزار گھات ہے، مگر عجیب بات ہے

کہ ایک سے ہزار کا بھی حوصلہ شکست ہے

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کا نورِ عین ہے

جس کی ایک ضرب سے، کمال فن حرب سے

کئی شقی گرے ہوئے تڑپ رہے ہیں کرب سے

غضب ہے تیغ دوسرا کہ ایک ایک وار پر

اٹھی صدائے الاماں زبان شرق وغرب سے

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کانورِ عین ہے

عبا بھی تار تار ہے تو جسم بھی فگار ہے

زمین بھی تپی ہوئی، فلک بھی شعلہ بار ہے

کہ یہ مردِ تیغ زن، یہ صف شکن فلک فگن

کمالِ صبر و تن دہی سے محو کارزار ہے

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کا نورِ عین ہے

دلاوری میں فرد ہے، بڑا ہی شیر مرد ہے

کہ جس کے دبدبے سے رنگ دشمنوں کا زرد ہے

حبیبِ مصطفی ہے یہ، مجاہدِ خدا ہے یہ

جبھی تو اس کے سامنے، یہ فوج گرد گرد ہے

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کا نورِ عین ہے

اْدھر سپاہِ شام ہے، ہزار انتظام ہے

اْدھر ہیں دشمنانِ دیں، ادھر فقط امام ہے

مگر عجیب شان ہے غضب کی آن بان ہے

کہ جس طرف اْٹھی ہے تیغ بس خدا کا نام ہے

یہ بالیقیں حسینؓ ہے نبی کا نورِ عین ہے

حضرت حسینؓ کی شہادت کی خبر مکہ اور مدینہ پہنچی تو جذبات اُبل پڑے۔ لوگ دیوانہ وار اٹھے اور صدیق اکبرؓ کے نواسے عبداللہ بن زبیر کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ انہیں اپنی امامت سونپ دی۔ حسینؓ کے قاتل ان پر بھی حملہ آور ہوئے، مدینہ اور مکہ میں جو کچھ ہوا، اس کی تفصیل تاریخ کی کتابوں میں محفوظ ہے۔ مکہ کا محاصرہ سات ماہ جاری رہا، اس دوران حج کا مہینہ بھی آیا اور دونوں فوجوں نے لڑائی روک دی تاکہ یہ فریضہ ادا کیا جا سکے۔ اس کے بعد عبداللہ بن زبیر کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی۔ مخالف فوج نے شہر کو شدید سنگباری کا نشانہ بنایا، جس سے ایک بڑا حصہ منہدم ہو گیا۔ مقابلہ جاری رہنے کی کوئی صورت نہ دیکھ کر عبداللہ اپنی والدہ (حضرت ابوبکر کی بیٹی) اسما کے پاس مشورے کے لئے گئے، انہوں نے جواب دیا:

اگر تم حق پر ہو، اور اس ہی کے لئے لڑ رہے تھے تو اب بھی لڑو۔ تمہارے بہت سے ساتھی اس کے لئے جان دے چکے ہیں۔ اگر تم دنیا کے طلب گار تھے تو تم سے بُرا کوئی ہو نہیں سکتا۔ تم نے اپنے آپ کو بھی ہلاکت میں ڈالا اور اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا بھی سبب بنے۔ تم کو کب تک دنیا میں رہنا ہے؟ چلے جاؤ کہ حق پر جان دینا (اس پر سمجھوتہ کرکے) زندہ رہنے سے ہزار گنا بہتر ہے…… یہ سن کر ابن زبیر نے کہا: ”اماں جان، مجھے ڈر ہے کہ میرے قتل کے بعد بنو امیہ میری لاش کو سولی پر لٹکائیں گے۔ یہ سن کر حضرت اسما مضبوط لہجے  میں گویا ہوئیں: ”ذبح ہو جانے کے بعد بکری کی کھال کھینچنے سے اسے تکلیف نہیں ہوتی۔ جاؤ اللہ سے مدد مانگو اور اپنا کام پورا کرو“…… عبداللہ میدان جنگ میں دادِ شجاعت دیتے ہوئے شہید ہو گئے، تو حجاج کے حکم پر ان کی لاش تین دن سولی سے لٹکتی رہی۔ ان کی والدہ کو یہ منظر دکھانے کے لئے لایا گیا تو انہوں نے جو الفاظ ادا کئے، وہ تاریخ کے صفحات پر آج بھی دمک رہے ہیں: ”میرا شہسوار ابھی اپنی سواری سے نہیں اترا……

نواسہء رسولؐ نے کربلا اور نواسہ ء خلیفہ رسولؐ نے مکہ میں جان دے کر واضح کر دیا کہ مسلمانوں کا نظم اجتماعی ان کی مرضی کے بغیر نہ قائم ہو سکتا ہے، نہ قائم رہ سکتا ہے۔ اسی کا فیضان ہے کہ آج تک مسلمانوں کا اجتماعی ضمیر مسلط کردہ حکمرانوں کو تسلیم نہیں کر پاتا۔ ہماری تاریخ نے بارہا حریت فکر کے ایسے عظیم الشان مظاہرے دیکھے ہیں، اس زمانے کی حکومتوں میں جن کا تصور تک نہ ہو سکتا تھا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز کو جب ان کے پیش رو سلمان بن عبدالمالک نے جانشین نامزد کیاتو انہوں نے منصب سنبھالنے سے پہلے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا: لوگو! میری خواہش اور عام مسلمانوں کی رائے لئے بغیر، مجھے خلافت کی ذمہ داری میں مبتلا کر دیا گیا ہے۔ اس لئے میری بیعت کا جو طوق تمہاری گردن میں ہے، اسے خود اتارے دیتا ہوں۔ تم اپنے میں سے جس کو چاہو، اپنا خلیفہ بنا لو……  ہر طرف سے آوازیں اٹھیں، ہم آپ ہی کی بیعت کرتے اور آپ کو خلیفہ بناتے ہیں تو انہوں نے ذمہ داری سنبھالنے پر آمادگی ظاہر کی۔خطبہ ء مسنونہ کے بعد ارشاد فرمایا: اے لوگو جس نے اللہ کی اطاعت کی، اس کی اطاعت انسان پرواجب ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی، اس کی فرماں برداری لوگوں پر لازم نہیں۔ میں اگر اللہ تعالیٰ کی اطاعت کروں تو میری اطاعت کرو، میری اطاعت ضروری جانو، اگر میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کروں تو میری بات ماننے سے انکار کر دو“۔

عمرؓ بن عبدالعزیز کو پانچواں (یا چھٹا، اگرحضرت امام حسنؓ کے مختصر دور کو بھی شمار کر لیا جائے تو) خلیفہ راشد کہا جاتا ہے کہ حضرت علیؓ کے بعد خلافت راشدہ ختم ہو گئی تھی۔ ملوکیت نے خلافت کا لبادہ اوڑھ لیا تھا، حضرت عمرؓ عبدالعزیز کے اقدام نے ایک بار پھر یہ سبق یاد دلا دیا۔ مسلمان معاشروں کو غلام نہیں بنایا جا سکتا، انہیں اپنا حکمران خود مقرر کرنے اور خود معزول کرنے کا جو حق دیا گیا ہے، اسے سلب کرنے والے،دھونس، دھاندلی، سازش یا طاقت سے اقتدار پر قبضہ کرنے والے کبھی دلوں کے حکمران نہیں بن سکتے۔وہ ایسے بوجھ کی طرح ہوتے ہیں جس سے کمر دوہری تو ہو جاتی ہے، قومیں پورے قد سے کھڑے ہونے کے قابل نہیں رہتیں۔

]یہ کالم روزنامہ ”پاکستان“ اور روزنامہ ”دنیا“ میں بیک وقت شائع ہوتا ہے۔[

مزید :

رائے -کالم -