حصول علم کا شوق! ایل سلواڈور کی دو بہنیں درخت پر چڑھ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں

حصول علم کا شوق! ایل سلواڈور کی دو بہنیں درخت پر چڑھ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں
حصول علم کا شوق! ایل سلواڈور کی دو بہنیں درخت پر چڑھ کر تعلیم حاصل کرتی ہیں

  

دبئی (طاہر منیر طاہر) حصول علم کی لگن اگر سچی ہو تو کوئی عذر، بہانہ، تکلیف، مشکل اور کوئی بھی رکاوٹ راہ میں حائل نہیں ہوسکتی جس کی مثال مغربی ایل سلواڈور کی دو بہنیں ہیں جو اپنے گھر سے ایک کلو میٹر دور ایک اونچے پہاڑ پر جاکر تعلیم حاصل کرتی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ایل سلواڈور کے ایک پولیس آفیسر نے ایک نوجوان لڑکی کو زیتون کے سرسبز درختوں کی طرف جاتے دیکھا اور محسوس کیا کہ اس کے ساتھ کچھ ہوا ہے۔ بات کرنے پر پتہ چلا کہ 22 سالہ مائلڈے ریاضی کی طالبہ ہے جبکہ اس کی بہن مارلن شماریات کا مطالعہ کررہی ہے چونکہ کورونا وائرس کی وجہ سے انہیں آن لائن کلاسز لینا پڑتی ہیں جبکہ ان کے گاﺅں میں انٹرنیٹ کے مضبوط سگنلز نہیں آتے جس کی وجہ سے آن لائن کلاسز سے تعلیم حاصل کرنا مشکل ہوجاتا ہے لہٰذا دونوں بہنیں گھر سے ایک کلومیٹر دور ایک دشوار گزار راستہ طے کر کے پہاڑ کی چوٹی پر جاتی ہیں جہاں موبائل فون کے سگنل مل جاتے ہیں اگر وہاں بھی سگنل نہ ملیں تو انہیں زیتون کے اونچے درخت پر چڑھنا پڑتا ہے کیونکہ وہاں انٹرنیٹ کا سگنل مل جاتا ہے۔

دونوں بہنوں نے ایک خبر رساں ادارے کو بتایا کہ گھر سے پہاڑ اور درخت کا راستہ مشکل ہے، راستے میں خطرناک جنگلی جانور، سانپ، بچھو اور دیگر حشرات الارض پائے جاتے ہیں جبکہ بارش کی جوہ سے راستے پر پھسلن ہوتی ہے اور پہاڑ کا ناہموار راستہ بھی مشکل ہوتا ہے۔ دونوں بہنوں نے بتایا کہ وہ تعلیم حاصل کرکے اپنے خاندان کا سہارا بننا چاہتی ہیں اور اپنے علاقے کی پسماندگی بھی دور کرنا چاہتی ہیں۔

مائلڈ اور مارلن نے بتایا کہ وہ گھر کی غربت دور کرنے کے لیے ہفتہ میں ایک دن اپنے والد کے ساتھ روٹی بھی بیچتی ہیں۔ ان کا والد گائوں میں سویٹ کارن، پھلیاں اور سکواش اگاتا ہے۔ دونوں بہنوں نے بتایا کہ حصول تعلیم کے لئے انہیں کٹھن راہوں سے گزرنا پڑتا ہے سخت موسم اور بارش کے علاوہ مچھروں کا مقابلہ بھی کرنا پڑرہا ہے جبکہ پڑھنے کے لیے میز اور کرسیاں بھی خود ہی اٹھا کر اتنی دور جانا پڑتا ہے لیکن انہیں امید ہے کہ ایک دن وہ اپنے عظیم مقصد میں کامیاب ہوجائیں گی۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -عرب دنیا -