ارطغرل غازی کی اصل کہانی، وفاداری کی بے مثال داستان

ارطغرل غازی کی اصل کہانی، وفاداری کی بے مثال داستان
ارطغرل غازی کی اصل کہانی، وفاداری کی بے مثال داستان

  

ان دنوں پاکستان میں ارطغرل کا چرچا ہر زبان پر نظر آتا ہے، پی ٹی وی پر چلنے والے ڈرامے کی وجہ سے پاکستانی ارطغرل سے کافی مانوس ہوچکے ہیں، اس ویڈیو میں ہم آپ کو ارطغرل کی زندگی، ان کی بہادری اور سب سے بڑھ کر ان کی وفاداری کے بارے میں بتائیں گے۔ تو چلیں ہم اپنی ویڈیو کی طرف بڑھتے ہیں۔

 ناطرین 

ارطغرل کا قبیلہ خراسان میں آباد تھا، لیکن چنگیز خان نے خوارزمی سلطنت کو تباہ کیا تو ان کا قبیلہ مصر کی طرف ہجرت کرگیا، وہاں بھی ترکوں کی حکومت تھی، خوارزم سے آنے والے قبائل نے مصری ترکوں کے ساتھ جنگیں لڑیں لیکن شکست ہونے پر یہ ایشیائے کوچک جسے آج کل اناطولیہ کے نام سے جانا جاتا ہے، یہاں آگئے۔ ارطغرل کا قبیلہ ان کے والد سلمان شاہ کی سربراہی میں شام کی طرف جارہا تھا، جب وہ دریائے فرات عبور کرنے لگے تو سلمان شاہ اس میں ڈوب کر مارا گیا۔ والد کے انتقال کے بعد قبیلے کی سربراہی ارطغرل کے حصے میں آئی جو اپنے بچے کھچے ساتھیوں کے ساتھ ایشیائے کوچک کی طرف روانہ ہوا۔

 جب ارطغرل اپنے قبیلے کا سردار بنا اس وقت ان کا قبیلہ صرف 420 گھرانوں پر مشتمل تھا۔ ان کا قبیلہ جب سلطان علاؤالدین سلجوقی کی پناہ لینے کیلئے قونیہ کی طرف جارہا تھا تو راستے میں انتہائی دلچسپ واقعہ پیش آیا جو تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر ہوگیا اور یہی واقعہ آگے چل کر سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد بنا۔

ہوا کچھ یوں کہ ارطغرل کا قبیلہ جب قونیہ جارہا تھا تو راستے میں انگورا کے قریب ارطغرل کو 2 فوجیں لڑتی ہوئی نظر آئیں۔ وہ دونوں فوجوں سے واقف نہیں تھا لیکن اس نے کمزور فوج کی مدد کا فیصلہ کیا۔ اس نے اپنے ساتھ 400 سوار لیے اور جنگ کے میدان میں کود پڑا اور کمزور فوج کے شانہ بشانہ لڑنے لگا۔ ارطغرل نے میدان میں ایسی جاں بازی دکھائی کہ مخالف فوج میدان چھوڑ کر بھاگ گئی۔ فتح حاصل کرنے کے بعد ارطغرل کو پتا چلا کہ اس نے جس فوج کی مدد کی تھی وہ اسی علاؤالدین سلجوقی کی فوج  تھی جس سے وہ پناہ لینے جارہا تھا جبکہ اس کی  مخالف فوج تاتاریوں کی تھی۔

ارطغرل کے اس کارنامے اور بہادری سے سلطان علاؤالدین سلجوقی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے ارطغرل کو  بازنطینی سرحد کے قریب سغوت کا زرخیز علاقہ دیا۔ یہ ایک ایسا علاقہ تھا جس پر بازنطینی اکثر حملے کرتے رہتے تھے۔ ارطغرل نے چند ہی دنوں میں سارے علاقے میں اپنی شجاعت کی دھاک بٹھادی۔ ارطغرل کی بہادری دیکھ کر اردگرد کے ترک قبائل بھی اس کے ساتھ شامل ہوتے چلے گئے اور یوں ارطغرل ایک بڑی قوت بن گیا۔

ایک سردار کا اس طرح طاقت حاصل کرنا سلطان علاؤالدین کیلئے خطرناک ہوسکتا تھا لیکن انہوں نے عقلمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ارطغرل کو اپنا نائب مقرر کردیا۔ سلطان کا نائب بننے کے بعد ارطغرل نے بازنطینیوں اور تاتاریوں سے کئی جنگیں لڑیں اور کئی مقبوضہ علاقے ان کے قبضے سے آزاد کرالیے۔

یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ ارطغرل اتنا طاقتور تھا پھر اس نے خود مختار ریاست قائم کیوں نہیں کی؟ اس سوال کا جواب اگر ایک لفظ میں دیا جائے تو وہ ہے وفاداری۔ ارطغرل نے قونیہ کے سلطان علاؤالدین سلجوقی کے ساتھ آخری دم تک وفاداری نبھائی اور ان کا نائب بن کر رہا۔ ارطغرل  چاہتا تو سلطنت کی اندرونی کمزوریوں کا فائدہ اٹھا کر خود سلطان بن سکتا تھا لیکن اس نے آخری دم تک سلطان کے ساتھ وفاداری نبھائی ۔ بعد میں سلطنتِ عثمانیہ کی بنیاد رکھنے والے عثمان خان اول نے بھی اپنے باپ ارطغرل کی طرح قونیہ کے سلطان کے ساتھ وفاداری نبھائی اور اپنی فتوحات کے ذریعے اپنی خود کی شان بڑھانے کی بجائے اپنے سلطان کی عزت میں اضافہ کیا۔

 ہمیں ترکی کے جھنڈے میں چاند کا نشان نظر آتا ہے۔ یہ دراصل سلطان علاؤالدین سلجوقی کے جھنڈے کا نشان تھا جو ارطغرل نے ان کے نائب کی حیثیت سے برقرار  رکھا اور آج تک یہ چاند کا نشان ترکوں کی عظمت کا قومی نشان ہے۔

مزید :

ڈیلی بائیٹس -بین الاقوامی -روشن کرنیں -