موت کا سوداگر یا پھر.....!!!

موت کا سوداگر یا پھر.....!!!
موت کا سوداگر یا پھر.....!!!

  

"سوسال زندہ رہنے کے لئے ضروری نہیں سو سال جیا جاے بلکہ کوی ایسا کام کر جاو کے دنیا تمہیں سو سال یاد رکھے" الفریڈ نوبل وہ نام ہے جو مرنے کے بعد بھی زندہ ہے. یہ نام فقط نام نہیں بلکہ انعام ہے اور انعام بھی وہ جو دنیا کا سب سے بڑا انعام ہے. نوبل انعام ان لوگوں کو دیا جاتا ہے جو دنیا کی بھلائی اور امن کے لئے سب سے اچھا کام کرتے ہیں .

نوبل انعام کی شروعات 1901 میں ہوئی .1901 سے 2019 تک یہ 597 دفعہ 950 لوگوں اور کمپنیوں کو دیا جا چکا ہے. ان 950 میں صرف دو پاکستانی شہری شامل ہیں ڈاکٹر عبدالسلام 1979 (فزکس) اور ملالہ یوسفزئی 2014 (امن) . اب آپ سوچ رہے ہوں گے یہ الفریڈ نوبل کون ہیں اور ان کے ذہین میں اس انعام کے خیال کیسے آیا ؟الفریڈ نوبل 21 اکتوبر 1833 کو سویڈن میں پیدا ہوئے.ان کے والد انجینئر تھے وہ سویڈن میں پہاڑوں سے پتھر توڑ کر پل بنانے کا کام کرتے تھے.ان پر ایک وقت ایسا آیا کے ان کو سویڈن میں کام ملنا بند ہو گیا اس مشکل میں ان لوگوں نے روس جانے کا فیصلہ کیا اور وہ روس کے ایک شہر میں رہائش پذیر ہو گے.

روس میں ان کے والد نے گن پاوڈر بنانا کا کارخانہ لگایا اور انھوں نے روسی حکومت کے لئے گن پاوڈر بنانا شروع کردیا . ان ہی دنوں میں کریمین جنگ شروع ہو گئی اور یوں گن پاوڈر کی طلب بڑھ گئی اور ان کا کاروبار چلا پڑا اور بہت پیسا بھی انے لگا. الفریڈ نے صرف سترہ سالہ کی عمر میں انگلش, فرنچ, اور جرمن زبان پر عبور حاصل کر لیا. اور ساتھ ہی ساتھ کیمسٹری میں بھی مہارت حاصل کر لی. 1850 میں ان کے والد نے ان کو مزید تعلیم کے لئے امریکہ بھیجا دیا وہ امریکہ سے اپنی تعلیم مکمل کر کے فرانس چلے گئے. وہاں ان کو نائٹرو گلسرین کیمیکل کے بارے میں پتہ چلا .میں اپ کو بتاتا چلوں نائٹرو گلسرین کیمیکل اس وقت سب سے طاقتور کیمیکل تھا لیکن اس میں کچھ خامیاں تھیں اور اس کی نقل و حرکت پر پابندی عائد تھی کیونکہ یہ غیر محفوظ تھا .

ادھر دوسری طرف کریمین کی جنگ ختم ہو گئی گن پاوڈر کی طلب میں کمی ہوئی اور یوں ان کے والد کا کاروبار بھی ختم ہو گیا اور وہ واپس سویڈن چلے گئے.الفریڈنوبل نائٹروگلسرین پرتجربات کرناچاہتےتھےاورایسے دنیاکےلئےمحفوظ بناناچاہتےتھےوہ نائٹرو گلسرین کانمونہ لےکرفرانس سےسویڈن چلےگئےاوروہاں الفریڈنےاپنے بڑے بھائی اور والد کےساتھ مل کر نائٹرو گلسرین کو محفوظ بنانےکےلئےتجربات شروع کر دیئے.

ایک دن 18 دسمبر 1864 کو تجربے کےدوران نائٹروگلسرین میں دھماکہ ہوا اس دھماکے کے نتیجےمیں الفریڈکےبڑے بھائی کی موت واقع ہو گئی .بڑے بیٹے کی موت پر الفریڈ نوبل کے والد نے اپنے اپ کو اس کام سے علیحدہ کر لیا اور الفریڈ نوبل کو بھی اس کام سے منع کیا اور ادھر سویڈن حکومت نے ریسرچ لیب شہر میں کھولنے پر پابندی عائد کر دی. الفریڈ نوبل نے شہر کے باہر ایک نئی لیب بنای اور کام شروع کر دیا. کچھ سال لگے لیکن وہ کامیاب ہو گیا . اس نے دنیا کو بتا دیا اگر نائٹرو گلسرین میں سلکا شامل کر لیں تو نائٹرو گلسرین کیمیکل محفوظ ہو جائے گا اور اس کسی بھی شکل میں ڈھالا جا سکتا ہے یوں الفریڈ نوبل نے اپنی اس ایجاد کو ڈائنامائٹ کا نام دیا. ڈائنامائٹ کا اردو ترجمہ بارود ہے. ڈائنامائٹ کے استعمال سے اب پہاڑوں کو آسانی سے توڑا جا سکتا تھا اور سڑکوں کی تعمیر آسان ہو گی یوں ڈائنامائٹ کی طلب میں اضافہ ہو گیا اور الفریڈ نوبل نے دوسرے ملکوں میں ڈائنامائٹ بنانے کے کارخانے لگانے شروع کردیئے یوں الفریڈ نوبل کو کثیر سرمایہ ملنا شروع ہو گیا سب کچھ اچھا چل رہا تھا پھر کچھ ممالک نے ڈائنامائٹ کا غلط استعمال شروع کردیا اور اسے جنگوں میں استعمال کرنے لگے یوں لوگوں کی اموات ہونے لگی اسی وجہ سے لوگ ڈائنامائٹ اور اس کے موجد سے نفرت کرنے لگے.

1888 میں الفریڈ کا بھائی لوڈویگ کان کا دورہ کرتے ہوئے انتقال کر گیا اور ایک فرانسیسی اخبار نے غلطی سے الفریڈ کی موت کو "موت کے سوداگر کی موت " کے عنوان سے شائع کیا۔ اخبار نے بارود کی ایجاد پر ان کی شدید مذمت کی۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ "ڈاکٹر الفریڈ نوبل ، جو پہلے سے کہیں زیادہ تیزی سے لوگوں کو ہلاک کرنے کے طریقے ڈھونڈ کر امیر ہو گیا ، گذشتہ روز ان کا انتقال ہوگیا۔" الفریڈ نے جب یہ خبر پڑھی تو اس سے انھیں سخت مایوسی ہوئی اور وہ اس سے زیادہ فکر مند ہوگئے کہ انہیں کن الفاظ میں یاد رکھا جائے گا. الفریڈ کو اس بات کا بہت دکھ ہوا کیوں کے انھوں نے ڈائنامائٹ لوگوں کی بھلائی کے لیے بنایا تھا لیکن اس کا استعمال غلط ہو رہا تھا.

الفریڈ اب بوڑھے ہو چکے تھے وہ اپنی پوری زندگی دنیا کے نام کر کے اب یوں بدنام ہو کر مرنا نہیں چاہتے تھے. اسے لئے انھوں نے لوگوں کی مدد کرنے کا فیصلہ کیا اور مرنے سے پہلے اپنی ساری دولت جو کے (تقریباً 250 ملین امریکی ڈالر تھی اگر ہم اس رقم کو اج پاکستانی روپوں میں تبدیل کریں تو یہ رقم اکتالیس ارب آٹھ سو انتالیس ملین چھ سو ہزار روپے بنتی ہے ) ان لوگوں کے لئے وقف کر دی جو دنیا کی بھلائی اور امن کے لئے سب سے اچھا کام کریں گے.

10 دسمبر 1896 کو الفریڈ کی موت واقع ہوگئی. لیکن ان ہی کی دولت سے دیا جانے والا نوبل انعام اج بھی زندہ ہے اور دنیا آج الفریڈ کو موت کے سوداگر سے نہیں بلکہ ایک سائنسدان اور شوشل ورکر کے طور پر جانتی ہے. پاکستان میں اس وقت ایک کروڑ بانوے لاکھ لوگ ایسے ہیں جن کی دولت اربوں میں ہے یآ آس سے زیادہ ہے ان میں سے صرف چند لوگ یہ فیصلہ کر لیں کہ وہ اج سے اپنی دولت لوگوں کی فلاح و بہبود کیلئے وقف کر دیں گے وہ یہ فیصلہ کر لیں وہ اپنی دولت سے کوئی ایسی لیب بنائیں گے جہاں ریسرچر تجربات کر سکیں وہ یہ فیصلہ کر لیں میں اپنی دولت ان قابل بچوں پر خرچ کروں گا جو وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ڈاکٹر یا انجینئر نہیں بن سکتے .

یقین مانیں جس دن ان لوگوں نے یہ فیصلہ کر لیا اس دن یہ ارب پتیوں کی لسٹ سے نکل کر عظیم لوگوں کی لسٹ میں شامل ہو جائیں گے جہاں ان کا کام اور نام ہمیشہ زندہ رہے گا ورنہ دوسری صورت میں آپ ارب پتی بھی کہلوانے گئے اور آپ کے نام کے ساتھ ایک اور نام کا اضافہ ہو جائے اور وہ نام ہو سکتا ہے " موت کا سوداگر "ہو .اب یہ آپ پر ہے آپ نے کیا بننا ہے ؟موت کا سوداگر یا پھر......

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

مزید :

بلاگ -