دہشت گردی کا خاتمہ : فکری جہاد

دہشت گردی کا خاتمہ : فکری جہاد
دہشت گردی کا خاتمہ : فکری جہاد

  


مَیں کوشش کرتاہوں کہ اپنے فہم کے مطابق ان چند نکات کی نشاندہی کروں جو دہشت گردی کے سدِ باب میں معاون ثابت ہوسکتے ہیں:

*۔۔۔ہمارے گلی محلوں میں آس پڑوس میں ایسے افراد کی بھی ایک قابلِ ذکر تعداد موجود ہے جو ’’فکر طالبان‘‘ سے نہ صر ف مکمل وابستگی رکھتے ہیں بلکہ دامے درمے سخنے ان کی مدد بھی کرتے ہیں۔ ہمارے اطراف میں ایسے منبر بھی موجود ہیں جن سے اس فکر اور اس خود ساختہ شریعت کی توجیہات پوری شرح و بسط کے ساتھ بیان کی جاتی ہیں، حالانکہ خدا کے دین میں اس قسم کی وحشت اور سفاکی کی کوئی مثال موجود نہیں ہے ۔ یہ نہ تو دین ہے اور نہ شریعت ۔ ضرورت اس امر کی ہے دفاعی اقدامات کے ساتھ ساتھ ایک فکری جہاد کی بنیاد بھی رکھی جائے جو دین کی اس تعبیر جسے جواز بنا کریہاں بے گناہوں اور معصوم جانوں کا خون بہایا جارہا ہے پر بند باندھنے کے لئے بقول معروف سکالر جاوید احمد غامدی ردِ بیانیہ (Counter Narrative) پیش کیا جائے۔ اور قوم کے اس طبقے کو جو دین کی اس تعبیر کو ہی اصل دین سمجھے بیٹھے ہیں ، بتایا جائے کہ خدا کے دین میں اس قسم کی کسی بھی مہم جوئی کی گنجائش موجود نہیں ہے۔

*۔۔۔اس کے لئے ضروری ہے کہ مسجد سے لے کر پارلیمنٹ تک ہر سطح پر اس فتنہ انگیز فکر کی مذمت کی جائے۔ عوام الناس کو پوری بات سیاق و سباق اور مکمل پس منظر کے ساتھ عہد حاضر کے مسائل اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے بتائی جائے۔ ملک میں ایسے علماء اور اسکالرز کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو یہ فریضہ نہایت خوبی سے سر انجام دے سکتی ہے۔

*۔۔۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ملک میں امیر اور غریب کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج ہی نے اس فکرِ طالبان کی آبیاری کے لئے ایندھن فراہم کیا ہے۔ یہاں کثرت آبادی اور معاشی بدحالی کے سبب کمزور اور نادار طبقہ مجبور ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ایسے افراد کے حوالے کرد ے جو ان کی پرورش کی ذمہ داری لے اور اگر ان کی دانست کے مطابق وہ بچوں کو دین بھی سکھا دیں تو سونے پہ سہاگہ۔ امارت اور غربت کی اس خلیج کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لئے آبادی پر کنٹرول، وسائل پر چند طبقات کی اجارہ داری اور طبقاتی اور مسلکی تعلیم کا خاتمہ ضروری ہے۔

*۔۔۔اس بات کو پوری شدت کے ساتھ ہر پلیٹ فارم پر بیان کیا جائے اور یہ طے کردیا جائے کہ ایک ریاستی نظمِ اجتماعی کے بغیر فرد واحد یا پھر گروہ کی شکل میں ہتھیار اٹھانے والا نہ کوئی اثاثہ ہے نہ مجاہد ، وہ صرف اور صرف مجرم ہے۔

*۔۔۔طالبان نے اپنی فکر کی تبلیغ کے لئے معاشرے کے اس طبقے کی ثقافت کو مثال بنا کرپیش کیاہے، جو سیکولر ، جدیدیت اور آزادی کے نام پر سماجی اقدار اور ضابطوں کو پسِ پشت ڈال چکے ہیں۔ اگرچہ ایسے افراد کی تعداد ملکی لحاظ سے تو قلیل ہے لیکن بڑے شہروں میں ایک بڑی تعداد اس قبیل کے افراد کی موجود ہے ۔ آزادی جیسی مثبت قدر کے نام پر ثقافتی بے راہ روی کے اس رجحان کا تدارک بھی ضروری ہے۔

*۔۔۔معاشرے میں اپنی بات کو منوانے کے لئے جبر اور پروپیگنڈہ نے وہ حیثیت حاصل کرلی ہے جو مہذب معاشروں میں دلیل اور منطق کو حاصل ہونی چاہیے۔ دلیل کی اہمیت کو زندہ کرنے کے لئے تعلیم و شعور کی ترویج کو بنیادی اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔

*۔۔۔اس مسئلے کے حل کے لئے ارباب اختیار، ملک کے علمائے کرام، تاریخ و سماجیات کے دانشوروں، ادیبوں، شاعروں اور ہر اس طبقے کو جو قوم کی فکری تربیت میں کردار ادا کرسکتا ہوسامنے آنا ہوگا۔ یقیناًسانحہ پشاور ہماری تاریخ ہی نہیں دنیا کی تاریخ کا بدترین سانحہ ہے۔ لیکن اگر یہ ملک و قوم کی تعمیر میں کردار ادا کرنے والے طبقات کو ذاتی و گروہی مفادات سے بالا تر کرکے یکسو کرسکے تو ہماری تاریخ میں نشاۃ ثانیہ کے باب میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوسکتا ہے:

طلسمِ شب کا یہی توڑ ہے قدم نہ رکیں

اندھیرا ٹوٹ کے برسے مگر یہ سر نہ جھکے

مزید : کالم


loading...