دہشت گردی سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی

دہشت گردی سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی
دہشت گردی سے نمٹنے کی مربوط حکمت عملی

  



اب جبکہ صدی کے بھیانک ترین اور بہیمانہ تشدد سے بھرپور سکول کے واقعہ نے ملک بھر میں سوگوار فضا پیدا کر دی ہے ،جس سے قوم 1965ء کے بعد ایک مرتبہ پھر متحد نظر آ رہی ہے، ہماری قومی قیادت کے لئے لمحہ فکریہ اور امتحان بھی ہے کہ دہشت گردی کے ناسور کی مکمل بیخ کنی کے لئے فوری طور پر کیا اقدامات کئے جا سکتے ہیں؟۔۔۔ ماضی قریب میں دہشت گردی کو ختم کرنے کے لئے مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا گیا۔ کبھی بات چیت کے نام پر اور کبھی بین الاقوامی ریشہ دوانیوں کے نتیجے میں ہم نے اس اہم ترین جنگ میں سنجیدگی سے کسی ایک لائحہ عمل کا اعلان نہ کیا، جس کی بنا پر اس عفریت سے نمٹنے کی قومی حکمت عملی مرتب ہوتی۔ افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہماری حکمت عملی بیانات سے آگے نہ جا سکی۔

پچھلے 13/14 سال سے ملک اس آگ میں جل رہا تھا ،لیکن اس جنگ سے نمٹنے کے لئے قوم کبھی متحد نہ ہو سکی۔ اب جب 132 نونہالوں کے جنازے اُٹھائے گئے تو ملک میں بیداری کی ایک لہر اُٹھی اور ہر طرف سے آواز آئی کہ اب وقت آ گیا ہے کہ ظالموں کے خلاف بھرپور کارروائی ہونی چاہئے۔ دہشت گردوں کے حامی سیاسی گروہ اور جماعتوں نے وقت کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے قوم کی آواز میں آواز ملانے کو غنیمت جانا۔

کہا یہ جا رہا ہے کہ قوم اب دہشت گردوں کے خلاف ایک فیصلہ کن جنگ میں مصروف ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا موجودہ حالات میں ہم جنگ جیتنے کی پوزیشن میں ہیں؟ حکومت نے زمام اقتدار سنبھالتے ہی اس جنگ سے عہدہ برآ ہونے کے لئے نیکٹا جیسے ادارے کے قیام کا اعلان کیا ،مگر اس کا تنظیمی ڈھانچہ تشکیل نہ پا سکا۔ حکومت کا سیکیورٹی ایجنسیوں کو مربوط کرنے کا اعلان بھی پایہ تکمیل کو نہ پہنچا ۔ ڈیڑھ سال کے عرصے میں حکومت ان اداروں کے قیام میں سنجیدہ دکھائی نہیں دی۔ اگر اربوں روپے موٹر ویز اور میٹرو بس کے منصوبہ جات پر لگائے جا سکتے ہیں تو قومی زندگی کی یہ اہم ترین جنگ جیتنے کے لئے حکومت نے اقدامات کیوں نہیں اُٹھائے؟ اس سے حکومتی رویہ ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔

اگرچہ بظاہر عوام میں آج یکجہتی پائی جاتی ہے لیکن ہمارا ماضی گواہ ہے کہ یہ جذبات حتمی نہیں، بلکہ وقتی ہیں۔ ایک سانحہ کے بعد قومی جذبات اُبھرتے ہیں، لیکن تھوڑا وقت گزرنے کے ساتھ ہی جذبات کی یہ رو ماند پڑ جاتی ہے۔ جب تک یہ احساس قوم کے اندر نہیں پایا جائے گا کہ موجودہ جنگ ہماری اپنی جنگ ہے اس وقت اس میں کامیابی محال ہے۔ جب تک حکومت اس جنگ کو ملکی بقاء کی لڑائی سمجھ کر فوج کے شانہ بشانہ اس میں شامل نہیں ہو گی، اس وقت تک اسے جیتنا مشکل ہی نہیں محال ہوگا۔ دہشت گردوں کی پشت پناہی کرنے والے تو ہماری اپنی صفوں کے اندر موجود ہیں جو وقتی طور پر اُبھرنے والی جذبات کی رو دیکھ کر خاموش ہو جائیں گے یا بظاہر قوم کا ساتھ دیں گے ۔ اگر ہم نے یہ جنگ جیتنی ہے تو یکسوئی کے ساتھ ہمیں فوج کی پشت پر کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمارے اندر موجود طالبان کے حامی عناصر کو بے نقاب کرنا ہوگا اور ان کے خلاف بھی اسی شدومد کے ساتھ لڑنا پڑے گا جس طرح ہم دہشت گردوں کے ساتھ لڑ رہے ہیں۔

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ طالبان کے چند سو لوگوں کو وقتی طور پر پھانسیاں لگا کر ہم سرخ رو ہو جائیں گے تو بہت بڑا مغالطہ ہوگا۔ یہ جنگ نہایت سنجیدگی کے ساتھ لڑنی پڑے گی۔ طالبان کے نیٹ ورک کے بارے میں چند ویڈیوز دیکھ کر معلوم ہوتا ہے کہ یہ جنگ خاصی طویل اور گھمبیر ہو گی۔ ہمارے اندر موجود دہشت گردوں کے حامی لوگوں کا احتساب بھی ہونا چاہئے کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ سیاسی موقعہ پرستی کو ایک طرف رکھ کر اقدامات کئے جائیں۔ سیاسی مصلحتوں کی شکار حکومت کو ایک واضح پالیسی اختیار کرنا پڑے گی۔ مذہبی مدرسوں کی چھان بین سے گریز کی پالیسی نقصان دہ ہو گی۔ جو مدرسے دہشت گردی میں ملوث ہیں اور جن کو غیر ملکی سرمائے سے چلایا جا رہا ہے۔ حکومت کا یہ موقف کہ 90 فیصد مدرسے اس ناپاک منتق میں ملوث نہیں ، حقائق سے روگرانی ہے۔ حکومت کے پاس پہلے سے شواہد موجود ہیں جن کی بنیاد پر ان مدرسوں کے خلاف ایکشن ہونا چاہئے جو اس مذموم کام میں طالبان کی مدد کر رہے ہیں۔

آپریشن کلین اپ کے ذریعے طالبان کے حامی مدارس اور مساجد کے خلاف ایکشن وقت کی ضرورت ہے۔ افواج پاکستان اس جنگ میں بہادری کی وہ داستانیں رقم کر رہی ہیں جو اس قوم کے ماتھے کا جھومر ہیں لیکن یہ کامیابیاں اس عفریت کی مکمل بیخ کنی کا پیش خیمہ تب ہو سکتی ہیں جب پوری قوم سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن کر حکومت کو مجبور کرے کہ وہ مربوط اقدامات کا مظاہرہ کرے۔ حالات کی رو میں بہہ کر چند جذباتی فیصلوں سے آگے بڑھ کر اجتماعی اقدامات کی ضرورت ہے۔ قوم کا بہت خون بہہ چکا ۔دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ پاکستانی قوم نے جو قربانیاں اس جنگ میں دی ہیں، وہ رائیگاں نہ جائیں اور مزید نقصان سے بچا جائے کیونکہ اب ہمارے پاس وقت بہت کم ہے۔ اگر آئندہ نسلوں کو دہشت گردی کے مہیب اثرات سے بچانا ہے تو فیصلہ کن انداز میں آگے بڑھنا ہوگا اور حکومت کو قوم کی بھرپور نمائندگی کرنی چاہئے، اگر اب بھی گومگو کی پالیسی جاری رہی اور ہم سیاسی مصلحتوں کے شکار رہے اور اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو پھر شکست (خاکم بدہن)ہمارا مقدر ہو گی اس لئے مزید وقت ضائع کئے بغیر ایک ٹھوس قومی پالیسی بنا کر آگے بڑھنا ہوگا کیونکہ یہ ہماری بقا کی جنگ ہے، جسے جیتنا ہی ہماری منزل ہے۔

اس فیصلہ کن معرکہ کے لئے ہمیں ایک قوم بن کر ذہنی پختگی کا مظاہرہ کرنا ہوگا ،وگرنہ ہماری آئندہ نسلوں کے پاس اس جنگ میں سینہ سپر ہونے کے مواقع بھی ختم ہو جائیں گے۔ ہم اپنا مستقبل چند مذہبی بنیاد پرستوں کے حوالے نہیں کر سکتے، جنہیں دنیا میں زندہ رہنے کا چلن بھی نہیں آتا، جو تعلیم کے ساتھ ساتھ جدید سائنسی علوم کے حصول کے بھی دشمن ہیں۔

مزید : کالم