زندہ قوم، دلیر قیادت

زندہ قوم، دلیر قیادت
زندہ قوم، دلیر قیادت

  


قوموں کی زندگی میں آزمائشیں رہتی ہیں،ملک زندہ قومیں ان آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرتی ہیں اور آخری فتح تک چین سے نہیں بیٹھتیں۔ دنیا میں شائد ہی کوئی قوم ایسی گزری ہو، جس پر آزمائشیں نہ آئی ہوں۔ آزمائشوں کا ڈٹ کر مقابلہ صرف وہ قوم کر سکتی ہے، جس کی قیادت دلیر ہو اور قوم پوری طرح متحد اور اپنے مقصد میں یکسو ہو۔گزشتہ ایک عشرے سے دہشت گردی کا عفریت پاکستان پر منڈلا رہا ہے، جس کا اب تک ڈٹ کر مقابلہ اس وجہ سے نہیں کیا جا سکتا تھا کہ قوم اسے شکست دینے کے لئے متحد اور یکسو نہیں تھی۔پرویز مشرف اور آصف علی زرداری کی قیادت میں اس دلیری کا فقدان تھا جو اس آزمائش سے باہر نکلنے کے لئے ضروری تھی۔دہشت گردی کے خونی عفریت نے گزشتہ دس سال کے عرصے میں50،60ہزار یا شائد اس سے بھی زیادہ پاکستانی شہری نگل لئے ہیں۔ پتہ نہیں یہ سلسلہ کب تک یونہی چلتا رہتا، لیکن جیسا کہ ہر بات کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے، وہ وقت بھی آ گیا جب پاکستان کے20کروڑ عوام نے ثابت کر دکھایا کہ اب وہ دہشت گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کریں گے اور اسے شکست دیں گے ۔ فتح کا یہ وقت اس لئے آیا ہے، کیونکہ اس وقت قومی قیادت دلیر ہے، بڑے فیصلے کرنے کی اہلیت رکھتی ہے اور اپنے مقصد میں یکسو ہے، جبکہ قوم بھی اب پوری طرح متحد اور یک جان ہے۔ پاکستان کی قیادت اس وقت وزیراعظم محمد نواز شریف کے پاس ہے۔ وہ ملک کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔ پاکستان کے عسکری قائد جنرل راحیل شریف ہیں۔اس وقت سیاسی و عسکری قیادت ایک نکتے پر متفق ہے اور وہ ہے دہشت گردی کو ہر قیمت پر شکست دینا۔ دیکھا جائے تو پاکستانی قوم اس وقت جتنی متحد ہے، اتنی پوری تاریخ میں شائد کبھی نہیں تھی۔حکومت، سیاسی جماعتیں، فوج،عدلیہ، میڈیا، سول سوسائٹی، دانشور اور عوام کے تمام طبقات مکمل طور پر ایک صفحے پر ہیں۔

آج لوگ بڑی بڑی قوموں کی مثالیں دیتے ہیں جو دورِ حاضر کی سپر پاورز ہیں۔ امریکہ، روس،برطانیہ، فرانس، جرمنی اور چین وغیرہ۔ ان کی تاریخ کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ یہ بہت بڑی بڑی آزمائشوں سے گزریں، لیکن ان قوموں کا زندہ پن تھا یا پھر ان کی دلیر قیادت۔ یہ نہ صرف ان آزمائشوں میں سرخرو ہوئیں، بلکہ دنیا میں عظیم مقام حاصل کیا۔ ان کی آزمائشیں ان سے بھی بڑی تھیں، جو آج ہمیں درپیش ہیں۔ امریکہ کی خانہ جنگی میں کئی ملین لوگ ہلاک ہو گئے۔ یہ خانہ جنگی بھی ایسی تھی کہ دو فوجیں ایک دوسرے کے بالمقابل تھیں، باپ اگر ایک فوج میں ہے تو بیٹا دوسری میں، ایک بھائی ایک فوج میں ہے اور دوسرا بھائی اس کے مقابلے میں لڑ رہا ہے۔ بالآخر ابراہم لنکن کی قیادت میں زندہ دل قوم سرخرو ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے امریکہ ایک عالمی طاقت بن گیا۔ دوسری عالمی جنگ میں برطانیہ تباہ ہو گیا، لیکن ونسٹن چرچل نے نہ صرف عالمی جنگ جیتی، بلکہ قوم کو وہ قیادت دی کہ برطانیہ دوبارہ سے ایک طاقت بن گیا۔ فرانس پر بیرونی قبضہ تھا۔ چارلس ڈیگال کی قیادت میں فرانس نے فائٹ بیک کی، اپنا ملک واگزار کرایا اور دوبارہ عالمی طاقت بنا۔ چین اور روس کی داستانیں بھی ایسی ہی ہیں۔ تباہ حالی کے باوجود انہیں ان کی لیڈر شپ نے عالمی طاقت بنا دیا۔جرمنی تو بار بار تباہ ہوا اور ہر بار پہلے سے زیادہ بڑی طاقت بنا۔ آج جرمنی دنیا کی ایک بڑی معاشی قوت ہے۔ جاپان کو دوسری عالمی جنگ میں عبرت ناک شکست ہوئی اور اس کے دو شہر ایٹم بم سے تباہ ہو گئے، لیکن وہ پھر اٹھا اور دنیا کی دوسری بڑی اقتصادی طاقت بن گیا۔ یہ مثالیں دینا اس لئے ضروری ہے کہ پاکستان بھی اپنی آزمائشوں میں سرخرو ہو گا اور تمام مصائب کو شکست دیتا ہوا اقوام عالم میں ایک ممتاز مقام حاصل کرے گا، کیونکہ یہ ایک زندہ قوم ہے اور ملک اس وقت ایک بہترین سیاسی اور عسکری قیادت کے ہاتھوں میں ہے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور جنرل راحیل شریف پُرعزم ہیں اور اس بات کا فیصلہ کر چکے ہیں کہ وہ پاکستان کو آج کی سب سے بڑی آزمائش دہشت گردی سے نجات دلائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔

پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت نے وہ فیصلے کر لئے، جن کے نتیجے میں دہشت گردی کو نہ صرف جڑ سے اکھاڑ پھینکا جائے گا، بلکہ پاکستان میں اس مائنڈ سیٹ کو بھی حتمی شکست دی جا سکے گی۔ یہ فیصلے دس گھنٹے تک جاری رہنے والے ایک اجلاس میں کئے گئے، جس میں تمام حکومتی اور غیر حکومتی سیاسی جماعتوں اور عسکری قائدین نے حصہ لیا۔ یہ وہ اجلاس تھا،جس میں پاکستان کی اصل منزل متعین کر دی گئی ہے۔ دہشت گردی سے پاک ایک ترقی یافتہ اور خوشحال پاکستان۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اس اجلاس کے دوران اتنے ہی پُرعزم نظر آئے، جتنے آرمی چیف جنرل راحیل شریف۔ دوسری سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور جنرل راحیل شریف کے فیصلوں پر لبیک کہا۔

پاکستان کے سنہری مستقبل کو یقینی بنانے کے لئے ایک نیشنل ایکشن پلان بنا لیا گیا،جس پر فوری طور پر عمل کیا جائے گا۔ دو سال کے لئے فوجی عدالتیں قائم کرنے کا ایک انتہائی اہم فیصلہ ہوا، جو وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ضروری ہو چکا تھا، کیونکہ مختلف وجوہ کی بنا پر سول عدالتیں دہشت گردوں کو سزائیں سنانے میں ناکام رہی ہیں۔ سول عدالتوں کی ناکامی کی وجہ سے دہشت گرد بلا خوف و خطر اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے اس اجلاس کے دوران واشگاف الفاظ میں کہا کہ پاکستان میں کسی مسلح گروہ کو کام نہیں کرنے دیا جائے گا۔ نیکٹاکو مضبوط اور مزید فعال بنایا جائے گا، نفرت انگیز تقاریر اور انتہا پسندی پر مبنی مواد کی مکمل ممانعت ہو گی، دہشت گردوں اور دہشت گرد تنظیموں کی مالی معاونت کو ناممکن بنا دیا جائے گا، انتہائی موثر انسداد دہشت گردی فورس کو فعال کیا جائے گا۔ مدارس کی رجسٹریشن اور ریگولیشن ہو گی اور آئی ڈی پیز کی جلد از جلد بخیرو عافیت واپسی اور بحالی کے لئے تمام ضروری اقدامات کئے جائیں گے۔

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے مزید کہا کہ فاٹا میں ترقیاتی اصلاحات کی جائیں گی، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، دہشت گرد تنظیموں کے مواصلاتی نیٹ ورک کو ختم کیا جائے گا اور ملک کے مختلف علاقوں مثلاً فاٹا، کراچی، سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا اور پنجاب میں وہاں کے مخصوص حالات کے مطابق فیصلہ کن اقدامات کئے جائیں گے۔ قومی ایکشن پلان پر موثر اور حتمی عمل درآمد کے لئے وزیراعظم محمد نواز شریف نے اپنی سربراہی میں کمیٹی بنائی ہے،جو دہشت گردوں، ان کے سہولت کاروں اور ہمدردوں کا قلع قمع کرے گی،ان کے لئے مالیاتی وسائل کی دستیابی کو ناممکن بنائے گی اور ارضِ پاک کو جنت نظیر بنائے گی۔ابراہام لنکن، چارلس ڈیگال، ماؤزے تنگ اور ونسٹن چرچل ایک زندہ قوم کے دلیر قائد تھے۔قدرت نے یہی موقع آج وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کو عطا کیا ہے، وہ ایک زندہ قوم کے دلیر قائد ہیں۔ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے والا دلیر قائد ہی اسے دہشت گردی سے مکمل پاک بھی کرے گا۔ پاکستان ایک زندہ قوم کا ملک ہے اور قیامت تک ایک زندہ قوم کا ملک رہے گا۔

مزید : کالم


loading...