وزیر اعظم کے نام

وزیر اعظم کے نام
وزیر اعظم کے نام

  


عزت ماب وزیر اعظم ، آپ کی حکومت دہشت گردی سے نمٹنے جیسے غیر سہل، پر خطر کام سے نبر د آزما ہے ،جس میں قدم قدم پر خطرات پائے جاتے ہیں۔ یہ نیک شگون رہا کہ تمام سیاسی جماعتوں نے دہشت گردی کے خلاف اس کارروائی کی حمایت کر دی جو حکومت نے ایکشن پلان تیار کیا ہے۔ تمام سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ساتھ پاکستان کے ہر شہری کی دلی خواہش ہے کہ پاکستان سے دہشت گردی کا خاتمہ ہو جائے۔ اس دہشت گردی نے جہاں ہمارے ہزاروں خاندانوں کو اپاہج بنانے کی حد تک متاثر کیا ہے وہاں ملک کی معیشت کی چولیں ہلا دی ہیں۔ اس ملک کی معاشرتی زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ہمیں قدم قدم پر ایک خوف کا سامنا رہتا ہے کہ نہ جانے دشمن کہاں اور کس وقت حملہ آور ہوجائے گا۔ دشمن کی ایک ہی چال ہے کہ ہمیں اس حد تک مجبور کر دے کہ ہم اپنے پیروں پر کھڑے رہنے کے قابل ہی نہیں رہیں۔ صورت حال اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ ہمیں ہر ہر لحاظ سے چوکس رہنے کی ضرورت ہے۔ جنگیں فوج لڑ تی ہے، اس کی حکمت عملی جرنیل تیار کرتے ہیں ،لیکن اس حکمت عملی پر عمل در آمد میں شہری بھی فوج کے پیچھے دیوار کی طرح کھڑے ہوئے ہوتے ہیں۔ اسی طرح دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں اگر فوج اور سیاست داں شانہ بشانہ کھڑے ہیں تو شہری کہاں ہیں۔ شہریوں کو بھی اس جنگ میں اسی طرح شامل کیا جانا چاہئے جس طرح فوج کا سپاہی اس جنگ کا حصہ ہے۔ محدود پیمانے کی اس جنگ میں ہمارا مقابلہ اس ان دیکھے دہشت گرد سے ہے جس کے اہداف کا کسی کو کوئی علم نہیں۔ اس دشمن کی نگاہ میں اسکول، اسپتال، مدرسہ ، مسجد، مندر، کلیسا، بس اسٹینڈ یا وہ تمام مقامات ہدف ہیں جہاں لوگ موجود ہوتے ہیں۔

وزیراعظم، آپ نے ایکشن پلان تیار کرنے اور اس پر عمل در آمد کے لئے ایک کمیٹی تشکیل دی۔ اس کمیٹی میں آپ نے ان وزراء کو شامل کیا جن کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔ آپ کی کابینہ میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختون خوا کے نمائندے بھی شامل ہیں، لیکن انہیں اتنی اہمیت نہیں دی گئی کہ وہ بھی ایکشن پلان پر عمل در آمد کا حصہ ہوتے۔ سندھ میں آپ کی جماعت عام انتخابات میں کوئی قابل ذکر کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکی تھی، لیکن مسلم لیگ فنکشنل اور نیشنل پیپلز پارٹی نے آپ کا غیر مشروط ساتھ دیا۔ دونوں کے ایک ایک وزیر کابینہ میں بھی شامل ہیں، لیکن انہیں نظر انداز کر دیا گیا۔ نظر انداز کرینے کا یہ رویہ سیاسی لحاظ سے آپ کے لئے مستقبل میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ ویسے بھی سندھ میں آپ کی مسلم لیگ کی تنظیم نہایت کمزور ہے ۔

عزت ماب وزیراعظم، منصوبہ بندی اعلی سطح پر کی جاتی ہے ،جس میں آپ اور فوج کے بڑے افسران مصروف ہیں، لیکن اس پر عمل در آمد نیچے کی سطح پر ہوتا ہے ۔ جس منصوبہ بندی پر عمل در آمد نیچے کی سطح پر ہوتا ہے اس کے ہی مطلوبہ نتائج بر آمد ہوتے ہیں ، باقی منصوبے توکچرے کی ٹوکری میں چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ ہی بات ہے کہ پاکستان نے ایوب خان کی دور میں پہلا پانچ سالہ ترقیاتی منصوبہ تیار کیا۔ اس پر عمل درآمد اس طرح نہیں کیا جا سکا ، جس کی ضرورت تھی ۔ اس کے برعکس اسی منصوبے پر جنوبی کوریا نے لفظ بہ لفظ عمل در آمد کیا۔ ایک پاکستانی ماہر معیشت ڈاکٹر محبوب الحق سے منسوب ہے کہ وہ جب کوریا کے دورے پر گئے تو انہوں نے اپنے میز بانوں سے ان کی ترقی کے راز معلوم کرنا چاہے توانہیں بتایا گیا کہ یہ تو پاکستان کا پہلا پانچ سالہ منصوبہ تھا جس پر ہم نے عمل کیا ہے۔ یہ فرق ہوتا ہے منصوبہ تیار کرنے اور اس پر عمل کرنے میں۔ عمل در آمد ہو تو اصل ہدف حاصل ہوتا ہے۔

پاکستان میں جب بھی دہشت گردی کی کوئی بڑی کارروائی ہو جاتی ہے تو پولیس حکام اپنے ماتحت عملے کو غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم صادر کرکے دوبارہ کمبل اوڑھ کر سوجاتے ہیں۔ ماتحت اہل کار کسی منصوبہ بندی کے بغیر شہروں کی مختلف خصوصا کچی آبادیوں میں چھاپے مار کر لوگوں کو حراست میں لیتے ہیں ۔ انہیں کچھ دنوں تھانوں میں رکھا جاتا ہے اور پھر رہا کر دیا جاتا ہے۔ اب تو صورت حال ایسی ہو گئی ہے کہ غیر ملکیوں کے پاس بھی پاکستان کا قومی شناختی کارڈ موجود ہے، جس کی وجہ سے پولیس اہلکار بھی تمیز نہیں کر پاتے کہ کسے حراست میں رکھیں۔ اس کام میں شہریوں کی مدد لینا نہایت ضروری ہوتا ہے جس پر غور کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

محترم وزیراعظم، ان غیر ملکیوں کے ساتھ پاکستانیوں کو ہمدردی ضرور ہے کہ انہیں اپنا ملک کسی نہ کسی وجہ سے چھوڑنا پڑا، لیکن ہمارے اپنے وجود کا تقاضہ ہے کہ ہم بھی تو چوکس رہیں۔ کسی کے ماتھے پر تو نہیں لکھا کہ وہ پناہ گزیں اس پاکستان کا کتنا خیر خواہ ہے، جس نے مشکل وقت میں اسے پناہ دی۔ وہ اسی پاکستان اور اس کے عوام کے خلاف کس کا آلہ کار بن جاتا ہے اس پر نظر رکھنا تو پاکستانیوں اور اس کے اداروں سے وابستہ افراد کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ حیدرآباد میں پکڑ دھکڑ کی تازہ لہر کے دوران پولیس نے مختلف علاقوں سے ایسے افراد کو حراست میں لیا جو اس کے خیال میں افغانی باشندے ہیں۔ ان تمام لوگوں کے بارے میں کوئی اطمینان بخش تحقیقات نہیں کی گئی۔ بس انہیں تھانے میں قید کر دیا گیا۔ ان ہی لوگوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جو افغانی باشندہ ہے۔ اس نے پولیس کو اپنا نام آغا نعیم بتایا۔ پولیس کہتی ہے کہ اس کے قبضے سے موبائل فون کی چھ سمیں بر آمد ہوئی ہیں۔ اپنے حلیہ کے اعتبار سے یہ شخص ایک عام پاکستانی سا لگتا ہے۔ پولیس کہتی ہے کہ وہ افغانستان کے علاقے قندہار کا رہنے والا ہے۔ قندہار وہ ہی علاقہ ہے جہاں ہمارے ایک پڑوسی ملک بھارت نے ضرورت سے زیادہ اپنے قونصل خانے قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس شخص کی مشتبہ کردینے والی ایک حرکت یہ بھی تھی کہ اس کے پاس اجرک موجود تھی۔ عام پختون اجرک کا استعمال کم ہی کرتے ہیں تو قندہار کا یہ افغان اجرک کیوں کر استعمال کرے۔ اس شخص نے اپنے ماتھے پر ایک پھول دار رومال بھی باندھا ہوا تھا ۔ عام افغان اس طرح کا رومال نہیں باندھتے ہیں۔

عزت ماب وزیراعظم، گزارش کا مقصد یہ ہے کہ نیچے کے اہل کار دہشت گردی کے خلاف اس جنگ کی اہمیت سے اس طرح واقف نہیں ہیں جس طرح آپ وا قف ہیں یا فوج کے بڑے افسران کو اندا زہ ہے ۔ جب متعلقہ پولیس والوں سے معلوم کیا گیا کہ کیا اس شخص سے کسی قسم کی کوئی تفتیش کی گئی ہے کہ یہ حیدرآباد میں کہاں اور کس کے پاس مقیم ہے، یہ کب پاکستان آیا اور حیدرآباد کیوں آیا۔ اس نے اپنے پاس موبائل فون کی چھ سمیں کیوں رکھی ہوئی ہیں۔ کیا ایک یا دو سم کافی نہیں تھیں۔ تو پولیس اہل کار نے اپنی سادگی میں جواب دیا کہ اسے ہماری زبان سمجھ میں نہیں آتی ہے اور خود پشتو بولتا ہے۔ پولیس والوں کی اس سادگی پر غصہ کیوں نہ آئے کہ انہیں اتنی بھی عقل نہیں ہے کہ کسی پاکستانی پختون سے ہی مدد لے کر اس شخص سے ابتدائی پوچھ گچھ کر لیتے ۔ بات ذمہ داری کی ہے۔ ہماری پولیس میں خصوصا نچلی سطح پر جو بھی لوگ تھانے دار بنے بیٹھے ہیں یا جنہیں حکومتوں کی پالیسیوں پر عمل درآمد کرانا ہے ان میں عقل کی کمی ہے۔ ان کی اکثریت دن بھر اسی تگ و دو میں مصروف ر ہتی ہے کہ پیسہ کہاں سے کتنی جلدی ملے گا ۔پولیس کو اسی سوچ نے ڈھیر کر دیا ہے۔ یقین جانئے، ذاتی خواہشات کے غلام ان اہل کاروں کے سامنے سے اگر ہاتھی گزر جائے تو یہ اتنی ضرورت محسوس نہیں کرتے کہ معلوم کر سکیں کہ ہاتھی کس کا ہے اور کہاں جارہا ہے ؟ اسلحہ ، بارود اور منشیات لے جانا تو معمولی سی بات ہے۔ اگر ان کی نظر پڑ بھی جائے تو یہ جوڑ توڑ کر لیتے ہیں۔ جوڑ توڑ کا مطلب یہ کہ یہ سودے بازی کر لیتے ہیں۔ قومی مفاد، شہریوں کا مفاد کوئی بڑی دیوار تو نہیں ہو تی ہے جو ان لوگوں کے سامنے کھڑی انہیں روک رہی ہو کہ ایسا نہ کرو۔ یہ تو ایک احساس ہوتا ہے اس احساس سے نیچے کی سطح پر اکثر لوگ محروم نظر آتے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ کے تیار کردہ ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل در آمد کیوں اور کس طرح ہو سکے گا۔

محترم وزیراعظم، دہشت گردی کی اس جنگ میں صرف آپ داؤ پر نہیں لگے ہوئے ہیں، بلکہ پورا پاکستان داؤ پر لگا ہوا ہے۔ اس جنگ سے ہمیں ہر حالت میں کامیابی سے نمٹنا ہے، جس کے لئے ہمیں ہر ہر شہری کو حصہ دار بنانا ہوگا۔ ایکشن پلان پر عمل در آمد میں شہریوں کی حصہ داری کو بھی شامل کریں تو بہتر ہوگا۔

مزید : کالم


loading...