افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاء

افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلاء

افغانستان میں تیرہ سال کی جنگ کے بعد بالآخر نیٹو فورسزنے اپنا مشن ختم کر کے باضابطہ طور پر ملک کی سیکیورٹی افغان فورسز کے حوالے کر دی ،افغانستان میں2001 سے امریکہ کی قیادت میں نیٹو افواج جنگی مشن جاری رکھے ہوئے تھیں۔ اس حوالے سے افغانستان کے دارالحکومت کابل میں جشن کا انعقادبھی کیا گیا،دلچسپ بات یہ ہے کہ اس تقریب کو سیکیورٹی خدشات اور طالبان کے ممکنہ حملے کے پیش نظر خفیہ رکھا گیا،حکام کی جانب سے اس میں نہ تو میڈیا کو مدعو کیا گیا اور نہ ہی تقریب کی جگہ کاباقاعدہ اعلان کیا گیاتھا۔ ایساف کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق نیٹو کمانڈر جنرل جون کیمپبل نے 50 سے زائد ممالک کے فوجیوں سے خطاب کے دوران اس جنگ کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہوئے کہاکہ وہ افغانستان کے عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی امید دے کر جارہے ہیں اور نیٹو کی قربانیوں کی بدولت اب افغانستان مضبوط اوران کے ممالک محفوظ ہوگئے ہیں۔دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہدنے نیٹو افواج کے اس دعوے کو غلط ثابت کرتے ہوئے ان کی افغانستان سے واپسی کو ان کی ناکامی قرار دیا۔ان کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کی جشن کی تقریب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں وہ افغانستان سے بھاگ رہے ہیں، امریکہ افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا ۔

تیرہ سال قبل نائن الیون کے بعد نیٹو افواج نے امریکہ کی قیادت میں دہشت گردی کیخلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے افغانستان کا رخ کیا تھا، نیٹو کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس کے چارٹر میں موجود آرٹیکل 5 کا اطلاق ہوا، جس کے مطابق ایک ممبر ملک پر حملہ تمام ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا ۔اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کی درخواست پر اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل نے کابل اور اس کے گرد و نواح کی حفاظت کے لئے دسمبر 2001ء میں ایساف مشن قائم کیا ، جس کی کمانڈ اپریل 2003 ء میں نیٹو کے حوالے کرنے پر اتفاق ہوا،اور اسی سال اگست میں نیٹو نے ایساف کی کمانڈ سنبھال لی، یہ پہلا موقع تھا جب نیٹو نے نارتھ اٹلانٹک ایریا سے باہر کسی مشن کی کمانڈ سنبھالی تھی۔پھراکتوبر 2003 میں اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل نے ایساف کا دائرہ اختیار کابل سے بڑھا کر پورے افغانستان میں پھیلا دیا، یہ توسیع چار مرحلوں میں کی گئی۔افغانستان کی جنگ میں 50 ممالک کے ایک لاکھ 30 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا،جس میں سے 3 ہزار 485 ہلاک ہوئے جبکہ اٹھارہ سے بیس ہزار افغان شہری مختلف حملوں میں جاں بحق ہوئے۔

2012 میں شکاگو سمٹ میں نیٹو نے افغانستان میں جاری جنگ کوختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے دسمبر 2014 کے آخر تک افغانستان سے نکل جانے کا اعلان کیا تھا، اور اب نیٹو افواج کے جانے کے بعد یکم جنوری سے ایساف جنگی مشن کی بجائے تربیتی ذمہ داریاں سنبھال لے گا کیونکہ افغان امریکہ حفاظتی معاہدے کے تحت بارہ ہزار امریکی اور نیٹو فوجی وہیں قیام کریں گے۔ یہ فوجی2024 تک افغانستان میں موجود رہیں گے، ان کی اولین ذمہ داری ساڑھے تین لاکھ افغان فوجیوں کی تربیت ہو گی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ القاعدہ کے خلاف آپریشن بھی جاری رکھیں گے ، اور2016 ء کے آخر تک ان کا کردار صرف افغان فورسز کوتکنیکی معاونت اور اہم امور میں مشورہ دینے تک محدود ہو جائے گا۔اس معاہدے کے تحت امریکہ کوافغانستان کے 9 زمینی اور ہوائی اڈوں تک رسائی حاصل ہو گی اور کسی افغان عدالت کے سامنے امریکی فوجی جواب دہ نہیں ہوں گے۔بعض ماہرین کے مطابق اس معاہدے کی مدد سے افواج کے انخلاء کے باوجود امریکہ افغانستان میں اپنا تسلط قائم رکھنا چاہتا ہے۔

افغانستان سے ایساف کاپر چم تو اتار لیا گیا، نیٹو مشن بھی اختتام پذیر ہو گیا،نیٹو افواج کے سربراہان اپنے مشن کے حوالے سے بلند و بالا دعوے کر رہے ہیں، اس کو کامیاب بھی قرار دے رہے ہیں،نیٹو کے سیکریٹر ی جنرل جینس سٹولن برگ نے بھی چند روزپہلے کہا تھا کہ یہ ایک چیلنجنگ مشن تھا لیکن اسے پورا کر لیا گیا، وہ کر دکھایا جو وہ کرنا چاہتے تھے، انہوں نے بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے زمین پر موجود پناہ گاہوں کو ختم کر دیا، اور اب افغانستان ایک مضبوط ملک بن چکا ہے۔نیٹو افواج جو بھی دعوے کریں، حقیقت سو فیصد یہ نہیں ہے۔خودصدر اوبامہ نے بھی مشن کے خاتمے پر اپنے بیان میں اعتراف کیا ہے کہ افغانستان اب تک ایک ’خطرناک‘ جگہ ہے، اور وہاں رہ جانے والے فوجیوں کو خطرات در پیش ہوں گے۔اورموجودہ صورتحال میں وہاں چین کی بانسری کیسے بجائی جا سکتی ہے؟ 13 سال دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا کرنے کے باوجود افغانستان میں امن قائم نہیں ہو سکا،اس کو پر امن ملک ہونے کا ’اعزاز‘ حاصل نہیں ہو سکا۔طالبان ملک کے کئی حصوں میں موجود ہیں اور ان کی کارروائیوں میں پہلے سے زیادہ تیزی آ چکی ہے، سولہ دسمبر کو ہونے والے سانحہ پشاورکے تانے بانے بھی افغانستان میں موجود شدت پسندوں سے جا ملتے ہیں۔حالات کی اس خرابی کا اثربراہ راست پاکستان پر بھی پڑ ا ہے۔پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال اضطراب انگیز ہے، پوری قوم حالت جنگ میں ہے، ہر طرف ریڈ الرٹ ہے۔

بہر حال اب بھی ماضی سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے،دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ پاکستان اور افغانستان کی مشترکہ جنگ بن چکی ہے، اس لئے دونوں کو مل کر ہی اس ناسور کا خاتمہ کرنا ہو گا، اپنی جنگ خود لڑنا ہو گی، ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرنا ہو گا۔دونوں ممالک کے درمیان جو بے اعتمادی کی فضا تھی اس میں کسی حد تک کمی تو آئی ہے،دونوں ممالک نے ہی عہد کیا ہے کہ وہ اپنی سر زمین ایک دوسرے کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیں گے ، افغانستان کا پاکستان کے مطالبے پراس کے ’’ملزمان‘‘کے خلاف آپریشن کا آغاز دونوں کے ہی حق میں مفید ہونے کے ساتھ ساتھ قیام امن کے لئے مضبوط عزائم کا اظہار بھی ہے۔ اب دونوں ممالک کو ثابت قدم رہتے ہوئے مل کرخلوص نیت کے ساتھ مزید موثر اقدامات کرنے کی ضرورت ہے، تاکہ خطے میں حقیقی معنوں میں امن قائم کرنے کا خواب پورا ہو سکے۔

مزید : اداریہ


loading...