اوبامہ نے تہران میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا اشارہ دے دیا

اوبامہ نے تہران میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا اشارہ دے دیا

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف) امریکی صدر باراک اوبامہ نے تہران میں دوبارہ امریکی سفارت خانہ کھولنے کا اشارہ دیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ ایران سے ایٹمی معاہدہ اور تعلقات میں بہتری ان کی صدارت کے بقیہ دو سال میں ہوجائے گی۔ انہوں نے یہ بات نیشنل پبلک ریڈیو (این پی آر) کے ’’مارننگ ایڈیشن‘‘ شو کے میزبان سٹیو انسکیپ کے ساتھ ایک طویل انٹرویو کے دوران کہی جس کا پہلا حصہ آج سوموار کی دوپہر جاری کیا گیا۔ انٹرویو کا دوسرا اور تیسرا حصہ منگل اور بدھ کو جاری کیاجائے گا۔ انٹرویو کے پہلے حصے میں صدر اوبامہ نے ایران اور کیوبا کے ساتھ تعلقات، مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے فروغ میں امریکی کردار اور کانگریس کے ساتھ معاملات سمیت داخلی صورت حال پر سوالات کے جوابات دئیے۔

صدر اوبامہ سے سوال کیا گیا تھا کہ کیا وہ وائٹ ہاؤس چھوڑنے سے پہلے کیوبا کی طرح ایران میں بھی امریکی سفارت خانہ کھولیں گے۔ ان کا جواب یہ تھا کہ ’’میں نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا۔ لیکن میرا خیال ہے کہ یہ کام مرحلہ وار ہوگا۔ آپ کو پتہ ہے کہ کیوبا میں ہم گزشتہ پچاس سال سے ایسے حالات کا سامنا کررہے تھے جہاں ہماری باربار کی کوششوں سے کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہ ایک نسبتاً چھوٹا ملک تھا اس لئے ہم نے اس کے مختلف طریقے سے ہینڈل کیا جو ہمیں اور ہمارے اتحادیوں کیلئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کررہا‘‘

صدر اوبامہ کا کہنا تھا کہ ایران کا معاملہ مختلف ہے جو کیوبا کے مقابلے میں بہت بڑا ملک ہے جس نے دہشت گردی کو سپانسر کیا اور جس کے پاس ایٹمی صلاحیت ہے۔

اپنے آئندہ سو سالہ دور صدارت میں تہران میں امریکی سفارت خانہ کھولنے کا امکان ظاہر کرتے ہوئے صدر اوبامہ نے امید ظاہر کی کہ ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدہ ہوجائے گا جس کے بعد وہ دوبارہ عالمی برادری میں شامل ہوسکے گا۔ صدر اوبامہ نے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ مرحلہ طے ہونے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری آجائے گی۔ اس بہتری میں سفارتی تعلقات کا آغاز بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے اندر اب یہ تحریک موجود ہے کہ امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کے اس موقع سے فائدہ اٹھایا جائے۔ ایران نے عراق کے ساتھ جنگ میں لاکھوں افراد کھودئیے۔ اسے یقیناً عدم تحفظ ہے اسے دفاع کا حق ہے لیکن اسے ایڈوانچر سے باز رہنا چاہیئے۔

مشرق وسطیٰ میں جمہوریت کے فروغ کیلئے امریکی کردار کے سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر اوبامہ نے کہا کہ امریکہ کے اندر یہ ناگزیر ہے لیکن جب معاملہ آتا ہے لیبیا، شام یا عراق جیسے ممالک کا تو ہم اس سلسلے میں ان کی مدد ہی کرسکتے ہیں وہاں جاکر خود جمہوریت قائم نہیں کرسکتے۔ میزبان داعش کے بارے میں سوال پوچھگا کہ کیا عراق اور شام میں ان کے خلاف امریکہ کی محدود کارروائی کا مطلب یہ تو نہیں کہ امریکہ اسے ایک خطرناک دھمکی ضرور قرار دینا ہے لیکن اسے سب سے بڑا مسئلہ نہیں سمجھتا۔ صدر اوبامہ نے جواب دیا کہ ہم داعش کے خطرے کی اہمیت کو کم نہیں کرسکتے۔ القاعدہ وقفوں سے حملے کرتی ہے لیکن یہ وہ دہشت گرد ہیں جو علاقے اپنے کنٹرول میں رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ ان کے پاس وسائل ہیں اور موثر فوج ہے۔ وہ ہمارے اتحادیوں کیلئے بہت بڑا خطرہ ہیں۔ وہ پورے خطے کو عدم استحکام کا شکار کرسکتے ہیں جو ہمارے لئے بہت خطرناک ہے۔ صدر اوبامہ نے واضح کیا کہ ہم اس خطرے سے آگاہ ہیں اسی لئے ہم نے ساٹھ سے زائد ممالک کے اتحاد میں شمولیت اختیار کی ہے تاکہ ان کے ساتھ جنگ کرکے انہیں پیچھے دھکیلا جائے اور بالآخر انہیں تباہ کردیا جائے۔

داخلی صورت حال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ملکی معیشیت کو بہتر بنایا ہے اور جب سے وہ صدر بنے ہیں انہوں نے جاپان سے بھی زیادہ نئی ملازمتیں پیدا کی ہیں۔ تارکین وطن کے سبب نوجوان آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسی لئے وہ تارکین وطن سمیت متعدد معاملات پر کانگریس کے بغیر آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔

مزید : صفحہ اول


loading...